تازه خبریں

دستور پاکستان کے ہوتے ہوئے کسی فتویٰ یا دستاویزکی ضرورت نہیں قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد علی نقوی

صدر سمبل آف پاکستان، آئین کے ہوتے ہوئے کسی فتویٰ کی ضرورت نہیں،علامہ ساجد نقوی
حالیہ جاری کیاگیا بیانیہ یا فتویٰ اصل معاملے سے توجہ ہٹانے کے لئے ہے ، قائد ملت جعفریہ پاکستان
راولپنڈی /اسلام آباد 02 جون 2017 ء(  دفتر  ) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاہے کہ صدر مملکت ممنون حسین ریاست کے سمبل ، قومی بیانیہ بارے ان کے خطاب کے نکات ہمارے موقف کی مکمل تائید، ہم نے بھی یہی کہا کہ فتووں یا علماءسے بیانیے کے بجائے ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے کیونکہ بیانیہ علماءنہیں ریاست کی ذمہ داری ہے، آئین کے ہوتے ہوئے کسی فتویٰ کی ضرورت نہیں البتہ نئے بیانیہ کیلئے کوششیں کیوں کی جا تی رہیں اور فتویٰ حاصل کر نے کے اصل اسباب و علل کیا ہیں؟یہ سوالات اپنی جگہ پر موجود ہے ۔
ان خیالات کا اظہار انہوںنے صدر مملکت ممنون حسین کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔ انہوںنے کہاکہ صدر مملکت جوکہ ریاست پاکستان کا سمبل ہیں انہوںنے اپنے خطاب میں کہاکہ انتہاءپسندی کے بچے کچھے اثرات کے خاتمے کےلئے قومی بیانیہ پوری قوت سے پیش کیا جائے، اس مقصد کےلئے حکومت، پارلیمنٹرینز ، سیاسی جماعتوں اور علمی و تحقیقی اداروں کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے، یہی بات ہم نے کچھ عرصہ قبل کہی ۔ صدر مملکت نے اپنے خطاب میں جن اکائیوں کی جانب توجہ دلائی وہ انتہائی سنجیدہ اور مثبت پیش رفت ہے، ریاست کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داری نبھائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ چند روز قبل اسلام آباد میں ایک سیمینار کے بعد فتویٰ یا بیانیہ جاری کیاگیا اس بیانیہ کو تیار کر نےکی کوشش بارے میں سوال جنم لے رہاہے کہ اس حوالے سے زیادہ دلچسپی کیوں دکھائی دی جارہی ہے اور وہ کون سے علل و اسباب ہیں جس کی وجہ سے اس بیانیہ کی ضرورت پیش آرہی ہے۔ ایسا لگتاہے کہ اس طرح کا بیانیہ جاری کرکے اصل مسئلہ کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی کی گئی جب کی دہشتگردی مذہبی مسئلہ نہیں ہے اس لئے ہماری دانست میں بیانیہ کاعمل اصل معاملے سے توجہ ہٹانے کے لئے ہے ۔مذکورہ فتویٰ پر بعض ایسے افرادسے دستخط لئے گئے جن کی درجہ بندی کے حوالے سے پوزیشن انتہائی کمزور ہے، اس عمل نے صادر ہو نے والے فتویٰ کو مزید مشوک بنادیا ہے ۔کئی ایک دینی رہنماﺅں کی طرف سے اسلامی یو نیورسٹی میں منعقدہ علماءکانفرنس اور اس کے جاری کردہ اعلانیہ کے بعض مندرجات پر جن تحفظ کا اظہار کیاگیا ہے وہ بھی قابل غور ہیں البتہ اب صدر مملکت کی طرف سے جس جانب توجہ دلائی گئی حقیقتاً یہی وہ بنیاد ہے جس کے تحت متفقہ قومی بیانیہ تشکیل پاسکتاہے اسی کے مدنظر ریاست کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے بیانیہ جاری کر نا ہوگا۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے ایک اہم نکتہ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے زور دے کر کہاکہ جب متفقہ آئین موجود ہے تو اس صورت میں کسی فتویٰ کی ضرورت کیوں محسوس کی جا رہی ہے ۔ جبکہ دستور پاکستان کے ہوتے ہوئے کسی فتویٰ یا دستاویزکی ضرورت نہیں۔ انہوںنے کہاکہ گزشتہ عرصہ میں جب بیانیہ بارے بہت شور اُٹھایا گیاتو اس وقت بھی ہم نے یہ کہا تھاکہ وزیراعظم جرات کریں اور علماءسے بیانیہ کا مطالبہ کرنے کی بجائے ریاست کا بیانیہ جاری کرا ئیںاور اس بیانیہ کو موثر بنانے کےلئے ذمہ داران کو سنجید ہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ، آخر کب تک قوم افراتفری، انتشار و فساد کا شکار رہے گی ۔