دفترقائد ملت جعفریہ شعبہ قم کیجانب سے عشرہ محرم الحرام ۱۴۴۴ھ کی ساتویں مجلس کا انعقاد
دفتر قائد ملت جعفریہ شعبہ قم المقدس کی جانب سے حرم حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا، صحن جواد الائمہ میں محرم الحرام کی ساتویں مجلس منعقد ہوئی۔ جس میں حوزہ علمیہ قم کے علمائے کرام، طلاب عظام اور زائرین کرام سمیت خواتین و بچوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ مجلس کا آغاز تلاوت کلام پاک اور زیارت عاشورا سے ہوا جس کی سعادت قاری جعفر صاحب نے حاصل کی، جس کے بعد سید جاوید الحسین بخاری اور ثقلین صاحب نے سوز و سلام پیش کیا۔ اسٹیج سیکٹری کے فرائض خادم حضرت معصومہ سید ناصر عباس نقوی انقلابی نے انجام دئے۔
عشرے کے خطیب حجۃ لاسلام والمسلمین علامہ سید شفقت علی نقوی نے مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ استغفار علیین کے درجات میں سے ہے۔ استغفار چھ ستون پر کھڑا ہے۔ اپنے کئے ہوئے گناہوں پر شرمندگی اور ندامت کا اظہار کرنا۔ جس گناہ سے توبہ کررہے ہیں دوبارہ اس گناہ کی طرف کبھی نہ جائیں۔ جو لوگوں کے حقوق آپ پر ہیں انہیں ادا کریں، اگر کسی کا قرض ہے تو اسے جلد واپس کریں۔ یہ دین کی باتیں ہیں یہ قرآن کی باتیں ہیں۔ عام طور پر ہمارے ہاں بیٹیوں کو ان کا حق نہیں دیا جاتا ہے، بیٹیوں کا ان کا حق دیا کریں۔ جو واجبات ہیں حقوق اللہ، حقوق العباد سب کو انجام دیا کریں۔ جو گوشت گناہوں کی وجہ سے آپ کے جسم پہ چڑھا ہے اسے ختم کریں۔
علامہ سید شفقت علی نقوی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ یوم قیامت اور یوم محشر خدا نعمت کے بارے میں سوال کرے گا۔ سورہ تکاثر کی آخری آیت میں جس نعمت کا ذکر ہوا ہے اس سے مراد حضرت علی علیہ السلام کی ولایت ہے جس کے بارے میں سوال ہوگا۔ اگر ولایت علی ہوگی تو محشر میں رحمت کا سایہ ہوگا اور علی کے دشمنوں کیلئے تپتی دھوپ اور آگ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مرنے کے بعد انسانوں میں فرق ختم ہوتا ہے یہ الہی قانون ہے۔ کفن، قبر، غسل سب کو برابر اور ایک جیسا ملے گا چاہے کوئی امیر ہو یا غریب۔ لیکن اس کے بعد فرق صرف ولایت علی رکھنے والوں اور علی سے بغض رکھنے والوں کا ہوگا۔
مجلس کے آخر میں مختلف ماتمی انجمنوں کی جانب سے نوحہ خوانی اور ماتم داری کروائی گئی جس کے بعد عزاداران اباعبداللہ الحسین کی خدمت میں لنگر حسینی تقسیم کی گئی۔



