• کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس

تازه خبریں

دفترقائد ملت جعفریہ پاکستان قم المقدسہ کے زیراہتمام وکیل آل محمد شہید علامہ غلام حسین نجفی کی برسی کا انعقاد

جعفریہ پریس –  10 اپریل بروز جمعرات دار التلاوہ حرم مطہر حضرت فاطمہ معصومہ قم میں دفتر قائد ملت جعفریہ پاکستان کی طرف سے وکیل آل محمد شہید غلام حسین نجفی کی برسی کا انعقاد کیا گیا جسمیں علماء، طلباء اور زائرین کی بڑی تعداد سمیت پاکستان کی معروف علمی شخصیت اورتحریک جعفریہ پاکستان کے سابقہ مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ سید افتخار حسین نقوی نے خصوصی طور پر شرکت کی – پروگرام  کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے کیا گیا جسکے بعد معروف منقبت خواں برادر ابوذر جعفری نے سوز و سلام پڑھ کر شہید سے اپنی عقیدت کا اظہار کیا – اس موقع پر مسئول شعبہ خدمت زائرین محترم  سید ناصرعباس نقوی انقلابی نے زائرین سے خطاب کرتے ہوئے کها کہ امام خمینی نے فرمایا تھا کہ مسجدیں اسلام کا مورچہ ہیں لہذا انہیں آباد کیا جائے. شہید وه شخصیت تھے جنہوں نے ساری زندگی ترویج حقانیت اہل بیت میں صرف کردی-
وکیل آل محمد کی برسی سے مرکزی خطاب کرتے ہوئے علامہ انوار الکاظم حسنی صاحب نے  شہید کی زندگی پر تفصیل سے روشنی ڈالی اورکها کہ شہید کا شمار مجاہد نڈر اور محنتی و جفاکش علماء میں سے ہوتا تھا اور کها کہ شہید نے مجھے ایک ملاقات میں بتایا تھا کہ انہوں نے 6 گاوں کو شیعہ کیا. فلسفہ شہادت بیان کرتے ہوئے کها کہ 1901 سے 1999 تک جتنی بھی شہادتیں ہوئیں یہ ہمارا نقصان نہیں بلکہ مذہب تشیع کی ترویج کا باعث بنیں اور 50 ہزار اہلسنت افراد صرف شہادتوں کی وجہ سے شیعہ ہوئے حسینیت ایک معجزه اور اعجاز کا نام ہے شہید نے حسینیت کی راه اختیار کی اور شہادت کا عظیم رتبہ پایا اور ایک شہید لاکھوں کو حیات بخشتا ہے . قوم شیعہ کی فلاح کیلئے دو چیزیں ضروری ہیں ایک تعلیم اور دوسرا غربت کا خاتمہ جس دن ان دو چیزوں کا حصول ہوگیا شیعیت کی طرف کوئی بھی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ پائے گا. آخر میں بحر المصائب ذاکر اہلبیت مولانا الفت حسین سندرالوی نے مصائب آل محمد بیان کیا اور اختتامی دعا بھی کروائی. مسئول شعبہ خدمت زائرین نے آخر میں تمام شرکاء اور خصوصی طور پر علامہ افتخار حسین نقوی صاحب کا پروگرام میں شرکت کرنے پر شکریہ ادا کیااور اعلان کیا که آئنده انشاءالله تمام شہداء ملت جعفریہ کی برسیوں کاسلسلہ رہے گا-