قومی ایکشن پلان پر صیح معنوں میں عمل نہ ہونا حکومت کی کمزوری کی علامت ہے سا نحہ شکار پور میں حکومت کی جانب سے شہداء کے گھرانوں سے کئے گے وعدوں کو پورا کیا جائے )شکار پور ایک حساس ضلع ہے اس کے باوجود سکیورٹی کے انتظامات تسلی بخش نہ ہونے کی وجہ سے وہا ں کہ لوگ اپنے آپ کو عدم تحفظ کا شکار محسوس کر رہے ہیں )
سانحہ شکار پور گزرے ہوئے دو سال ہوچکے ہیں لیکن اب تک حکومت اور ادارے قا تلوں کا سراغ لگانے میں بے بس نظر آتے ہیں )پائیدار قیام امن کے لئے حکومت اور اداروں کو سنجیدگی سے اقدامات کر نے پڑے گے اور قومی ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے تو سندھ ایک بار پھر امن کا گہوارہ بن سکتا ہے (علامہ ناظر عباس تقوی)
کراچی (اسٹاف رپورٹر)شیعہ علماء کو نسل صوبہ سندھ کے صدر علامہ سید ناظر عباس تقوی نے شہدائے شکار پور کی دوسری بر سی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شکار پور ایک حساس ضلع ہے اس کے باوجود سکیورٹی کے انتظامات تسلی بخش نہ ہونے کی وجہ سے وہا ں کہ لوگ اپنے آپ کو عدم تحفظ کا شکار محسوس کر رہے ہیں سانحہ شکار پور گزرے ہوئے دو سال ہوچکے ہیں لیکن اب تک حکومت اور ادارے قا تلوں کا سراغ لگانے میں بے بس نظر آتے ہیں ہم نے سا نحہ شکار پور پر حکومت سے مطالبہ کیا تھاکہ سندھ بھر میں دہشت گردوں کے خلاف ٹار گٹ آپریشن کیا جائے اور رینجرز کواندورن سندھ میں بھی خصوصی اختیارات دیئے جائیں اور سانحہ شکار پور کے حوالے سے حکومت نے جو اقدامات کئے ہیں اُن کو عوام کے سامنے لایا جائے قومی ایکشن پلان پر صیح معنوں میں عمل نہ ہونا حکومت کی کمزوری کی علامت ہے سا نحہ شکار پور میں حکومت کی جانب سے شہداء کے گھرانوں سے کئے گے وعدوں کو پورا کیا جائے اور شہداء کے خاندانوں کو سرکاری نوکری دینے کے اعلان پر عمل در آمد کرایا جائے ہم حکومت سندھ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سا نحہ شکار پور کے ساتھ ساتھ سا نحہ جیکب آبادکے قا تلوں اور خان پور میں زندہ گرفتار کئے جانے والے خودکش حملہ آور کے بارے میں عوام کو حقا ئق سے آگاہ کیا جائے کہ اس خودکش حملہ آور کا تعلق کس گروہ سے تھا اور اس کی پشت پناہی کر نے والے کون عنا صر تھے سندھ میں پائیدار قیام امن کے لئے حکومت اور اداروں کو سنجیدگی سے اقدامات کر نے پڑے گے اور قومی ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے تو سندھ ایک بار پھر امن کا گہوارہ بن سکتا ہے