جعفریہ پریس – سانحہ امامیہ مسجد حیات آباد پشاور میں شہید ہونے والے لیہ کے نوجوان کاشف علی بلوچ کے چہلم کی مناسبت سے لیہ میں’’عظمت شہداء‘‘ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، کانفرنس سے قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے خصوصی خطاب کیا، جبکہ دیگر مقررین میں علامہ سید ناظر عباس تقوی، علامہ محمد رمضان توقیر، اور دیگر اہلسنت مذہبی شخصیات شامل تھیں۔
جعفریہ پریس کے نمائندے کے مطابق سانحہ امامیہ مسجد حیات آباد پشاور میں شہید ہونے والے لیہ کے نوجوان کاشف علی بلوچ کے چہلم کی مناسبت سے شیعہ علماء کونسل لیہ کے زیراہتمام 14 مارج 2015 کو’’عظمت شہداء‘‘ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس سے مقامی علماء کرام و شیعہ علماء کونسل لیہ کے رہنماؤں سمیت علامہ مظہر عباس علوی صدرشیعہ علماء کونسل پنجاب، علامہ سید ناظرعباس تقوی سیکرٹری جنرل شیعہ علماء کونسل سندھ، علامہ محمد رمضان توقیرصدرشیعہ علماء کونسل خیبرپختونخوا اور دیگر اہلسنت مذہبی شخصیات نے خطاب کیا جبکہ خصوصی خطاب وارث شہداء قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے فرمایا –
قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی کے لیہ پہنچنے پرعلماء کرام و شیعہ علماء کونسل لیہ کے رہنماؤں اورجے ایس او، جعفریہ یوتھ اورشیعہ علماء کونسل کے تنظیمی کارکنان سمیت ہزاروں کی تعداد میں محبانِ والایت نے اپنے محبوب قائد سے والہانہ عقیدت و محبت کا اظہار کرتے ہوئے شاندار و تاریخی استقبال کیا اس طرح ایک بار پھر لیہ کی سرزمین لبیک یاحسین، لبیک یا قائد ،جس قوم کا نعرہ علی ولی اس قوم کا قائد ساجد علی، ساجد نقوی کا اک اشارا حاضر حاضر لہو ہمارا اور ساجد نفوی قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں جیسے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھی-
اس موقع پر قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تشیع کی پوری تاریخ قربانیوں سے عبارت ہے اور ارض پاک کی تشکیل و تعمیر اور سلامتی و دفاع میں اب تک قربانیوں کا یہ تسلسل جاری ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس ملک کے ذمہ دار‘ مہذب‘ قانو ن پسند شہری ہونے کے ناطے ہم صبر و تحمل کا مظاہرہ کرکے پرامن انداز میں ظلم و بربریت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے چلے آرہے ہیں تاہم قانون پسندی کو ہماری کمزوری ہرگز نہ سمجھا جائے۔ امن وامان کی ابتر صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں قتل وغارت گری کا بازار گرم ہے جبکہ عوام کے جان ومال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے، مساجد و امام بارگاہیں، دفاعی و تعلیمی ادارے، بازار اور گلیاں اسی صورت محفوظ ہو سکتی ہیں جب ریاست کے ذمہ داران اپنے فرائض منصبی پوری دیانت داری سے ادا کریں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ جیسی بنیادی ذمہ داری کو یقینی بنائیں- نیشنل ایکشن پلان کے بعد ہمارے ادارے اور پاک فوج چاہتی ہے کہ ملک کو اس غلاظت سے صاف کرے ہم منتظر ہیں اگر ایسا نہ ہوا تو پھر ہم نیشنل ایکشن پلان دیں گے پھر ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اس ملک کو نجاستوں اورغلاظتوں سے پاک کریں ، جس طرح امت مسلمہ کو ہم نے نجاستوں سے پاک کردیا اسی طرح ملک کو ان نجاستوں سے پاک کریں گے –
قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے ریاست پاکستان پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے باوجود یہ چاروں واقعات شیعوں کے خلاف کیوں ہوئے ؟ اب بھی نیشنل ایکشن پلان حرکت میں نہیں آیا تو پھر ہم نیشنل ایکشن پلان دیں گے- قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے جعفری نوجوانوں کو مخاطب قراردیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو بتاؤاورایسی قوم بنوجب پکارا جائے تو تیار نظرآؤ-