سعودی عرب میں کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار ہونے والے شہزادوں میں شہزادہ ولید بن طلال، شاہی عدالت کے سربراہ خالد تویجری، مشرق وسطی (MBC) کے میڈیا کے سربراہ ولید الابراهیم اور جدہ کے سابق میئراور صحت کے وزیرعادل فقیه سمیت موجودہ اور پچھلی کابینہ کے تقریبا 30 وزیر بھی شامل ہیں۔ تاہم شہزادہ ولیدبن طلال کی گرفتاری کی تاحال سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ۔

مالی بد عنوانی میں گرفتاریوں سے صرف چند گھنٹے قبل شاہ سلمان نے سعودی عرب کے سابق شاہ اور قومی گارڈ کے سربراہ متعب بن عبدالله بن عبدالعزیز کو ان کے عہدے سے بر طرف کردیا تھا۔ جبکہ بعض میڈیا ذرائع‏ کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والوں میں متعب بن عبدالله بھی شامل ہے۔

اگرولید بن طلال کی گرفتاری کی خبر درست ہے تو دنیا بھر کی بڑی کاروباری شخصیات کے لئے یہ بات کسی دھچکے سے کم نہیں کیونکہ کھرب پتی سعودی شہزادے نے دنیا کے نامور ترین مالیاتی اداروں میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے ۔

شہزادہ ولید بن طلال سعودی شاہ سلمان کے سوتیلے بھتیجے ہیں اور دنیا کے امیر ترین لوگوں میں شمار ہوتے ہیں،ان کے والد کا نام طلال بن عبدالعزیز آل سعود ہے ۔

شہزادہ ولید بن طلال ذاتی سفر کے لئے ’سپر جمبو‘ استعمال کرتے ہیں،ان کے ذاتی ہوائی جہاز کی قیمت 500 ملین ڈالرز ہے، ولید بن طلال کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی بیٹی کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات ہیں اور وہ ان کی بہترین دوست ہے۔

ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے پر شہزادہ ولید بن طلال نے کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے دوران امریکا سعودی تعلقات بہت بہتر ہوں گے کیونکہ ٹرمپ کے خاندان کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات ہیں اور وہ ٹرمپ کو قریب سے جانتے ہیں ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here