تازه خبریں

سندھ حکومت کی جانب سے عزاداری کے خلاف بننے والے تمام قوانین کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔۔

نمائندہ خصوصی (جعفریہ پریس )شیعہ علماء کونسل سندھ کے جنرل سیکریٹری علامہ سید اسد قابل زیدی نے جعفریہ پریس کے نمائندے سے خصوص گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے مختلف اضلاع میں ایک ضابطہ اخلاق پیش کیا جارہا ہے اس مین کچھ شقیں وہ ہیں جو ہمارے قومی موقف اور قومی بنیادی حقوق کے خلاف ہیں ان کو ہم بھرپور انداز میں مسترد کرتے ہیں اس میں یہ ایک شق کا تذکرہ کرتا چلوں کہ جلوس و مجلس کے لئے اجازت لینا ضروری ہوگی ہم یہ واضح بتادینا چاہتے ہیں کہ عزاداری ہمارا بنیادی و قانونی حق ہے ہم کسی قسم کی اجازت نہیں لیں گے دوسری شق کا ذکر کرتا چلوں کہ علم مبارک کی تنصیب جہاں ہوگی وہ انتظامیہ اتاردیگی کوئی اس پر اعتراض نہیں کرے گا ہمارے لئے یہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہیں سبیل امام حسین ؑ کے حوالے سے بھی واضح کردیں کہ جو سبیلیں لگتی آرہی ہیں وہ لگیں گی نئی سبیلیں بھی جہاں ممکن ہوا لگائی جائینگی سبیلیں انسانیت کی خدمت کادرس دیتی ہیں ہم شیعہ علماء کونسل صوبہ سندھ کی جانب سے یہ واضح موقف پیش کرتے ہیں کہ سندھ کے جس کونے جس دیہات میں کوئی شیعہ آباد ہے وہ آزادی کے س ساتھ علم بھی لگائیگا ،نوحے بھی چلائیگا،سبیل بھی لگائیگا مجلس عزا بھی منعقد کرے گا ایسی قسم کی رکاوٹ قابل قبول نہیں جو عزاداری امام حسین ؑ کو روکے آئین انسانی حقوق کو تحفظ دیتا ہے ایسا کوئی قانون جو حقوق کو سلب کرے وہ قابل قبول نہیں ہے ہم پورے سندھ میں جائزہ لے رہے ہیں ایسی کسی بھی قسم کی کوئی صورت حال سامنے آئی تو ہوسکتا ہے ہم سندھ کے مرکزی جلوسوں میں احتجاج بھی کریں ہمارے پاس اطلاعات ہیں کشمور،سعیدآباد یا سکھر کے بعض علاقوں سے کہ کوئی معاہدے حکومت کی جانب سے رکھے گئے ہیں ہم عوام سے کہینگے کہ ایسے کسی قسم کے معاہدے کو قبول نہ کریں کسی معاہدیپر دستخط نہ کریں ہم ہر مقام پر اپنی مذہبی رسومات ادا کرسکتے ہیں کوئی قانون قابل قبول نہیں جس مقام پر اس قسم کا معاہدہ ہوا ہے ہم واضح کردیں کہشیعہ علماء کونسل کا کوئی عہدیدار کوئی فرد شامل نہیں اگر کسی نے دستخط کئے ہیں تو اپنی ذاتی حیثیت سے کئے ہیں ہم ایسی شقوں کی مذمت کرتے ہیں عزادار کھل کر رسوم عزاداری منعقد کریں