• گلگت و بلتستان کی عوام اس وقت شدیدمعاشی مشکلات سے دوچارہے
  • حکومـــت بجــٹ میں عوامی مسائــل پر توجہ دے علامہ شبیر حسن میثمی
  • جی 20 کانفرنس منعقد کرنے سے کشمیر کےمظلوم عوام کی آواز کو دبایانہیں جا سکتا
  • پاراچنار میں اساتذہ کی شہادت افسوسناک ہے ادارے حقائق منظر عام پر لائیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • رکن اسمبلی اسلامی تحریک پاکستان ایوب وزیری کی چین میں منعقدہ سیمینار میں شرکت
  • مرکزی سیکرٹری جنرل شیعہ علماء کونسل پاکستان کا ملتان و ڈیرہ غازی خان کا دورہ
  • گلگت بلتستان کے طلباء کے لیے عید ملن پارٹی کا اہتمام
  • فیصل آباد علامہ شبیر حسن میثمی کا فیصل آباد کا دورہ
  • شہدائے جے ایس او کی قربانی اور ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا مرکزی صدر جے ایس او پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی سے عیسائی پیشوا کی ملاقات

تازه خبریں

شہادتِ امام حسین ؑ کے مقاصد اور ان کا حصول محمد رمضان توقیر

محرم کا انتظار شاید اب فطرت کا حصہ بنتا جارہا ہے۔ امام حسین ؑ سے سچی عقیدت رکھنے والا ہر انسان محرم کی آمد کا بے چینی سے انتظار کرتا ہے۔ جوں جوں محرم قریب آتا ہے اس بے چینی اور انتظار میں اضافہ ہوتا چلاجاتا ہے یہاں تک محرم کا چاند مطلع فلک پر طلوع ہوجاتا ہے۔ حالانکہ رونا اور رلانابظاہر معیوب لگتا ہے اور کمزوری کی علامت سمجھا جاتا ہے لیکن یہ بھی ثابت شدہ انسانی تجربہ اور فطری جذبے کا حصے کہ رونے سے انسان کے دل و دماغ کا بہت بڑا بوجھ ختم یا کم ہوجاتا ہے۔ بالخصوص اپنی مغفرت و بخشش اور خاصان خدا کی مصیبت و پریشانی پر رونا انسان کو کمزور نہیں بلکہ باصبر و با ہمت بناتا ہے اور رونے کے اس انداز سے انسان میں حق شناسی کی ایسی جرات پیدا ہوتی ہے کہ جو معیوب نہیں بلکہ باشرف ہے ۔
یہ بھی انسانی فطرت کا لازمہ ہے کہ انسان اپنی جس قدر قیمتی یا قریبی چیز سے محروم ہوتا ہے یا جدا ہوتا ہے تواس قدر اس دکھ پر افسردہ ہوتا ہے جتنے قریبی رشتے سے جدائی کا صدمہ حاصل ہوتا ہے اسی شدت سے غمزدہ ہوتا ہے۔ اسلام میں مسلمان کا بلحاظ مسلم اور بلحاظ انسان سب سے قیمتی اور قریبی رشتہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہے جو اپنے جان و مال و اولاد سے عزیز تر ہے۔ اسی رشتہ کے تسلسل میں امام حسین ؑ سے بھی اسی شدت اور والہانہ پن کے ساتھ ہر مسلمان کی عقیدت و قربت ہے۔یہی وجہ ہے کہ محرم کی آمد کے ساتھ ہی اس رشتے سے وابستہ جذبات و احساسات اور قلبی لگاؤ میں بیداری آنا شروع ہوجاتی ہے اور انسان بذات خود حسین ؑ کی ذات میں مستغرق ہوجاتا ہے۔
خاتم المرسلین ﷺ نے اپنے نواسے اور امت کے امام جنابِ حسین ؑ کو جنتیوں کا سردار قرار دیا تھا جنت چونکہ دائمی دنیا کا نام ہے جس میں ھم فیھا خلدون کے فارمولے کے تحت انسانوں نے نہ ختم ہونے والی آخر تک رہنا ہے اس لحاظ سے امام حسین ؑ انسانوں کی موجودہ دنیا کے بھی سردار و آقا ہوئے کیونکہ اسی دنیا نے ہی اگلی دنیا کی کاشت کرنی ہے یہاں امام حسین ؑ سے سچی عقیدت اور عملی وابستگی رکھنے والے انسان ہی جنت میں حسین ؑ کے ساتھ ھم فیھا خلدون کی مراعات کے حقدار ہوں گے۔ اسی فلسفے کے مطابق امام حسین ؑ کی ذات کو صرف تشیع یا اسلام سے محدود اور مخصوص نہیں کیا جاتا بلکہ انسانیت کے عظیم اور آخری دائرے پر محیط کیاجاتا ہے اور انہیں محسن انسانیت کہا جاتا ہے۔
شہادت امام حسین ؑ بلاشبہ انسانیت کی معراج ہے جس کی مثال نہ ۶۱ ہجری سے پہلے موجود تھی نہ ہی شاید تا قیام قیامت سامنے آئے گی۔ مظلوم یا قربانی کی داستانیں رقم کرنے والے جتنے بھی آئے یا آئیں گے ان میں کوئی حسین ؑ نہیں ہوسکتا کیونکہ حسین ؑ بننے کے لیے جہاں ذاتی منصب و مقام درکار ہے وہاں محمد رسول اللہ کا نواسہ ہونا لازم ہے وہاں علی ؑ کا نور نظر ہونا واجب ہے وہاں فاطمہ ؑ کا لخت جگر ہونا ضروری ہے وہاں حسن ؑ بھائی ہونا بھی شرط ہے۔ یعنی آخری نبی ؐ کا نواسہ ‘ پہلے امام کا فرزند اور خاتون جنت کا دلبند ہونے کا شرف حسین ؑ کے بعد نہ کسی کو مل سکتا ہے اورنہ کوئی اس منزلت کا حامل ہوسکتا ہے۔
امام حسین ؑ نے جس انداز میں قافلہ کربلا مرتب کیا اور اس میں کم سن بچے ‘ نو عمر لڑکے ‘ نوجوان شہزادے ‘ بام عروج پر موجود سنجیدہ عمروالے ‘ بیمار و ناتوان اقربا ‘ ساٹھ سال سے زائد سپاہی ‘ مدینہ سے باہر کے اصحاب‘ مختلف قوموں قبیلوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے انصار ‘ با عصمت خواتین و مخدرات اورکم سن بچیوں کو شامل کیا یہ انداز گذشتہ چودہ سو سال سے تاریخ دانوں اور اہل علم وحرب کے درمیان زیر بحث چلا آرہا ہے۔ اب تک اس انداز کی مختلف جہات اور پرتیں کھولی جاچکی ہیں لیکن ابھی تک اس انداز میں امام حسین ؑ کے مقاصد و اہداف کی مکمل حقیقت تک نہیں پہنچا جاسکا۔
وقت خود بخود ثابت کررہا ہے کہ امام حسین ؑ نے روایتی جنگی قافلہ تشکیل دینے کی بجائے یہ انداز اختیار کیا جس نے شہادت کے بعد مقصد شہادت ‘ علل شہادت ‘ اسباب شہادت ‘ اہداف شہادت اور واقعات شہادت کو رہتی دنیا تک پہنچانے اور محفوظ رکھنے کا ایک شاندار اور مستحکم انتظام کیا جس کی وجہ سے آج حسین ؑ بھی زندہ ہے اور مشنِ حسین ؑ بھی زندہ ہے۔ وقت گذرنے کے ساتھ امام حسین ؑ کی شہادت اور کربلا کے واقعات کے حقائق انسانیت پر آشکار ہوتے جارہے ہیں اور یزیدیت کا مکروفریب اور کذب و دجل بھی واشگاف ہوتا جا رہا ہے۔

سادہ لوح انسانیت اب بھی امام حسین ؑ کے سفر شہادت اور مقصد شہادت سے ناآشنا ہے اور یزیدی افکار کی حامل قوتوں کے منفی ریاستی پروپیگنڈے کا شکار ہوکر امام حسین ؑ کی منزلت ’ جدوجہد اور شہادت کو نہ صرف سطحی طور پر دیکھتی ہے بلکہ امام عالی مقام ؑ کی جدوجہد اور شہادت کا محض سیاسی یا مفاداتی بنیادوں پر تجزیہ کرتی ہے جس کی وجہ سے واقعات کربلا کے پس منظر میں موجود سازشیں اور یزیدی عزائم نظر انداز ہوجاتے ہیں اور سچائی دھندلانے لگتی ہے۔ اگر ہم امام حسین ؑ کی جدوجہد کی ذاتی یا گروہی یا مفاداتی نہیں بلکہ دینی ‘ شرعی ‘ اسلامی ‘ اجتماعی سیاسی ‘ قانونی اور انسانی و اخلاقی سمجھتے ہیں اور ان کی شہادت کے واقعات کو ظالمانہ ‘ جارحانہ ‘ جابرانہ ‘ غیر منصفانہ اور غیر انسانی سمجھتے ہیں تو ہمیں شہادت حسین ؑ کے حقیقی مقاصد و اہداف کو جدید دنیا کے ہر ہر میڈیم کے ذریعے اجاگر کرنا چاہیے اور حریت و آزادی و استقلال و حق پرستی کی ہر تحریک میں کربلا اور امام حسین ؑ سے رہنمائی و استفادہ کرنا چاہیے تاکہ دو شہزادوں کے اختلاف اور اقتدار کی جنگ کا غیر عاقلانہ ‘ متعصبانہ اور جانبدارانہ فلسفہ اور پروپیگنڈہ دم توڑ جائے اور امام حسین ؑ کی شکست و فتح کی ضرورت ہی باقی نہ رہے۔
نیزے پہ سربلند ہے اعلان جیت کا
اب کون کہہ سکے گا کہ ہارا حسین ؑ ہے