• تعلیم یافتہ نسل ، ملک و قوم کی ترقی کی ضمانت ہے، علامہ ڈاکٹر شبیرحسن میثمی
  • کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت

تازه خبریں

شہ ملک وفا حضرت عباس (ع) کے مصائب

عباس علمدار کی والدہ “ فاطمہ ام البنین” کے قبیلے سے تعلق رکھتاتھا۔ درحقیقت عباس (ع) اور ان کے سگے بھائیوں کا دور کا رشتہ دار سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ اس نے حضرت عباس (ع) اور ان کے بھائیوں کے لئے یزیدی گورنر ابن زیاد لعین سے امان نامہ حاصل کیا تا کہ بزعم خود انہیں امام حسین علیہ السلام سے الگ کردے اور اپنے رشتہ داروں کو بھی نجات دلائے!

شمر (ع) نویں محرم کے آخری پھر خیام حسین (ع) کے قریب آیا اور آواز دی: “یرے بھانجے کہاں ہیں؟” عباس، عبداللہ، جعفر اور عثمان علیہم السلام باہر آئے اور کہنے لگے:

“کیا چاہتے ہو؟”

شمر نے کہا:

“میں تمہارے لئے امان نامہ لایا ہوں۔ تم امان میں ہو!”

چار بھائیوں نے جواب دیا:

“لعنت ہو تم پر اور تمہارے امان نامے پر۔ کیا تم ہمیں امان دینا چاہتے ہو جبکہ فرزند رسول (ص) کے لئے امان نہیں ہے؟!” عباس (ع) نے شیر غراں کی مانند گرجدار آواز میں ساتھ جواب دیا:

“تیرے ہاتھ کٹ جائیں کہ تم کیا برا امان نامہ لائے ہو!، اے دشمن خدا!، کیا تم ہم سے چاہتے ہو کہ ہم اپنے بھائی، سید و آقا حسین فرزند زہرا (س) کو چھوڑ دیں؟ اور لعینوں اور لعین زادوں کی فرمانبرداری قبول کریں؟”۔ شمر نہایت غصے میں اپنی لشکرگاہ کی طرف لوٹا۔

عصر عاشور، وہ وقت بھی آیا جب تمام اصحاب و انصار اور اہل بیت (ع) شہید ہوئے تھے اور صرف حسین(ع) اور عباس – علیہماالسلام – باقی تھے۔ عباس سے اپنے بھائی کی تنہائی نہ دیکھی گئی اور اپنے امام اور بھائی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔

عرض کیا: “ جان برادر! اجازت دیں گے کہ میں بھی جہاد کے لئے چلا جاؤں؟”

امام (ع) نے شدت سے گریہ کیا اور فرمایا: “بھائی جان! تم میرے علمدار ہو اور جاؤگے تو قافلہ منتشر ہوجائے گا”۔

عباس نے عرض کیا: “میرا سینہ تنگ ہوچکا ہے اور مزید جینے سے بیزار ہوچکا ہوں اور ان منافقین سے خون کا انتقام لینا چاہتا ہوں”۔

اجازت ملی تو علی و حسن و حسین علیہم السلام کی آغوش میں پرورش پانے والے عباس لشکر یزید کے مقابل کھڑے ہوئے انہیں نصیحت کی اور انہیں ان کے عمل کی انجام سے خبردار کیا مگر وہ سنگدل، سنگدل ہی رہے اور ان کے دلوں پر علمدار کربلا کے کلام کا کوئی اثر نہیں ہؤا۔

عباس (ع) ایک بار پھر خیموں کی جانب لوٹ آئے اور بھائی کو اپنے اقدام کی خبر دی۔ اس حال میں عباس (ع) کو ایک صدا آئی، پیاسے بچوں کے رونے بلکنے کی صدا سنائی دے رہی تھی۔ بچے “العطش، العطش” کی صدا بلند کررہے تھے۔

عباس (ع) اب ساقی بن کر میدان کی طرف جانا چاہ رہے تھے چنانچہ نیزہ اور مشک اٹھا کر رجز پڑھتے پڑھتے فرات کی جانب روانہ ہوئے:

لا ارہب الموت اذا الموت زقا

حتی اواری فی المصالیت لقا

نفسی لنفس المصطفی الطہر وقا

انی انا العباس اغدو بالسقا

ولا اخاف الشر یوم الملتقی

یعنی: میں اس ندا دینے والی موت سے نہیں ڈرتا

جب تک کہ کارآزمودہ مَردوں کے درمیان گر پڑوں اور خاک میں نہاں ہوجاؤں

میری جان ڈھال ہے مصطفی (ص) کی جان گرامی (حسین (ع)) کی

میں ہوں، عباس! مشک لے کر آرہا ہوں

اور میں جنگ کے دن کسی شر سے خائف نہیں ہوا کرتا

لشکر یزید کے چار ہزار اشقیاء مقابلے پر آئے۔ یہ اشقیاء درحقیقت عباس کو پانی خیموں تک پہنچانے سے روکنا چاہتے تھے۔ وہ حملہ کررہے تھے او تیر پھینک رہے تھے تا کہ عباس (ع) یعنی تک نہ پہنچ سکیں۔ عباس (ع) نے طویل جنگ لڑی اور بدن پر پیاس کے ساتھ ساتھ تھکاوٹ کا بوجھ بھی تھا کہ فرات کے آب رواں میں وارد ہوئے۔ پانی گھوڑے کے پیروں کے نیچے جاری تھا عباس نے پانی اپنی ہتھیلیوں میں بھرکر اٹھایا اور ہونٹوں کے قریب لے گئے مگر امام حسین علیہ السلام اور اہل بیت علیہم السلام کی پیاس یاد آئی چنانچہ پانی پئے بغیر مشک پانی سے بھرکر اپنے دائیں کندھے پر لادا اور گھوڑے کا رخ خیموں کی جانب کرکے روانہ ہوئے۔

یزیدی دشمن بچوں تک ایک قطرہ پانے پہنچنے کے بھی خلاف اور اس سے خائف تھے چنانچہ انھوں نے عباس علیہ السلام کا راستہ بند کردیا اور ہر جانب سے ان پر ٹوٹ پڑے۔ عباس (ع) نے ان کے خلاف شدید لڑائی لڑی یہاں تک کہ ایک شقی یزیدی نے اپنی تلوار سے ان ان کا دایاں ہاتھ قطع کردیا اور عباس قہرمان نے فرمایا:

واللہ ان قطعتموا يميني

اني احامي ابدا عن ديني

و عن امام صادق اليقين

نجل النبي الطاہر الامين

یعنی: خدا کی قسم اگر تم میرا دایاں ہاتھ کاٹو پھر بھی

میں یقینا اپنے دین کی حمایت ابد تک جاری رکھوں گا

اور صادق الیقین امام (ع) کی حمایت

جو پاک و طاہر و امین نبی (ص) کے فرزند ہیں؛ جاری رکھوں گا

عباس (ع) نے مشک کو بائیں شانے پر لادا اور تلوار دائیں ہاتھ میں لی اور دشمنوں کی صفیں توڑتے ہوئے خیام کی جانب روانہ ہوئے۔

اسی حال میں دشمن نے ان کے بائیں ہاتھ کو نشانہ بنایا اور بایاں ہاتھ بھی کٹ کر گرگیا۔ مگر شیرحیدر کی غراہٹ نے فضا کو پر کردیا۔ عباس نے فرمایا:

يا نفس لا تخشَي من الكفار

و ابشري برحمة الجبار

مع النبي السيد المختار

قد قطعوا ببغيہم يساري

فاصلہم يا رب حر النار

اے میری جان! کفار سے خائف نہ ہونا

میں تجھے رحمت خداوندی کی بشارت دیتا ہوں

نبی احمد مختار (ص) کی معیت و ہمراہی کی بشارت

کہ ان دشمنوں نے اپنی بغاوت کی بنا پر میرا بایاں ہاتھ قلم کیا ہے

پس اے میرے رب! ان دشمنوں کو دوزخ کی حرارت پہنچادے

عباس (ع) مایوس نہ ہوئے اور مشک کو دانتوں میں لیا اور خیموں کی جانب اپنا سفر جاری رکھا۔ مگر افسوس کہ یہ پانی خیام حسینی تک پہنچنے نہیں پایا، ایک تیر مشک کو لگا اور مشک تیر سے چھد گئی اور پانی زمین پر گرا-

یوں عباس علمدار (ع) کی قوت ختم ہوئی، (شاید پانی پہنچانا زندہ رہنے کا محرک تھا مگر اب یہ محرک ختم ہوچکا تھا کیونکہ پانی حسین (ع) کے پیاسے بچوں کی بجا‏ئے کربلا کی پیاسی زمین کو سیراب کررہا تھا۔)

مشک سے مخاطب ہوکر حضرت عباس (ع) کی زبان حال:

اي مشك! تو لااقل وفاداري كن

اے مشک! کم از کم تو تو وفادار رہنا

من دست ندارم ، تو مرا ياري كن

میرا ہاتھ نہیں ہے تو میری مدد کر

من وعدہ‌ي آبِ تو بہ اصغر دادم

میں نے اصغر کے ساتھ پانی کا وعدہ کیا ہے

يك جرعہ براي او نگہداري كن

ایک گھونٹ ہی ان کے لئے محفوظ کرکے رکھ لینا

کچھ لمحے بعد ایک تیر نے سینہ مبارک کو نشانہ بنایا اور عباس دلاور (ع) ہاتھوں کے بغیر زمین پر آرہے اور کام تمام ہؤا۔ انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ جب کوئی زمین پر گرنے لگتا ہے تو وہ ہاتھوں کے سہارے سر اور بدن کو بچا لیتا ہے لیکن تصور تو کریں کہ فرزند حیدر عباس دلاور (ع) کے دونوں ہاتھ منقطع ہوئے تھے تو جب تیر (جو روایت کے مطابق حرملہ بن کاہل اسدی لعین) نے پھینکا تھا فرزندان حسین (ع) کے ساقی کے سینے کو لگا تو آپ کس حالت مین زمین پر گرے ہونگے؟!) پیاسے بناساقی رہ گئے اور حسین مظلوم کے علمدار رخصت ہوئے:

اي مشك! نگہ كن تو بہ بالاي سَرَم

اے مشک تو میری سرہانے کی طرف سے دیکھنا

زہراست نشستہ ، آبروداري كن

زہرا میرے سرہانے بیٹھی ہیں میری لاج رکھنا

آخر کار ایک یزیدی شقی نے عباس باوفا کے پیکر مجروح پر حملہ کیا اور آہنی عمود سے سر اقدس کو مجروح کیا۔ عباس علمدار (ع) کا سر اپنے والد علی ابن ابیطالب علیہ السلام کی طرح  زخمی ہؤا اور عباس نے بھائی حسین (ع) سے وداع کیا: “یا ابا عبداللہ علیک منی السلام- بھائی جان خدا حافظ”۔

امام (ع) اپنے بھائی کے بے دست و بے جان جسم کے قریب آئے اور جب دیکھا کہ شہید ہوگئے ہیں تو فرمایا: “الآن انکسر ظہری و قلت حیلتی – اب میری کمر ٹوٹ گئی اور میں بے کس و بے یار و یاور ہوگیا”۔

الا لعنة اللہ علي القوم الظالمين و سیعلم الذین ظلموا ایّ منقلب ینقلبون