• قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقو ی کی ا پیل پر بھارت میں توہین آمیز ریمارکس پر ملک گیر احتجاج
  • قائد ملت جعفریہ پاکستان کی مختلف شخصیات سے ان کے لواحقین کے انتقال پر تعزیت
  • اسلامی تحریک پاکستان کا گلگت بلتستان حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ
  • علماء شیعہ پاکستان کے وفدکی وفاقی وزیر تعلیم سے ملاقات نصاب تعلیم پر گفتگو مسائل حل کئے جائیں
  • بلدیاتی انتخابات سندھ: اسلامی تحریک پاکستان کے امیدوار بلامقابلہ کامیاب
  • یاسین ملک کو دی جانے والی سزا ظلم پر مبنی ہے علامہ شبیر حسن میثمی شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • ملی یکجہتی کونسل اجلاس علامہ شبیر میثمی نے اہم نکات کی جانب متوجہ کیا
  • کراچی میں دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان صوبہ سندھ
  • اسلامی تحریک پاکستان کا اعلی سطحی وفد گلگت بلتستان کے دورے پر اسکردو پہنچے گا
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان ۸ شوال یوم جنت البقیع کے عنوان سے منائے گی

تازه خبریں

عراق میں دہشت گردوں کے خلاف ایک اور آپریشن

عراق کے صوبے صلاح الدین کے گورنر نے اعلان کیا ہے کہ صوبے کے شمالی علاقے الشرقاط پر حملے اور اس علاقے کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرانے کے لئے الٹی گنتی شروع ہو گئی ہے۔

عراق کے صوبے صلاح الدین کے گورنراحمد الجبوری نے کہا ہے کہ الشرقاط کا علاقہ، اس وقت چاروں طرف سے عراقی افواج کے محاصرے میں ہے اورعراق کی مسلح، افواج اس علاقے کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرانے کے لئے پوری طرح سے تیار ہیں جوآپریشن شروع کرنے کے لئے اعلی حکام کی ہدایات کی منتظر ہیں۔

الجبوری نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ اس وقت صوبے صلاح الدین کے صرف پانچ فیصد علاقوں پر ہی داعش دہشت گرد گروہ کا قبضہ ہے، کہا کہ صوبے صلاح الدین کی سیکورٹی، ہماری ریڈ لائن ہے اور اس صوبے میں کسی کو بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

دریں اثنا عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشدالشعبی نے صوبے صلاح الدین میں داعش دہشت گرد گروہ کے ہتھیاروں کے، کئی گوداموں کا پتہ لگا کر انھیں ضبط کر لیا ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ عراق کے وزیراعظم حیدرالعبادی نے بھی صوبے نینوا کے گورنر، اس صوبے کی انتظامی کونسل اور نمائندوں سے ملاقات میں کہا ہے کہ صوبے نینوا کے شہرموصل کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرانے کے لئے جلد ہی فوجی آپریشن شروع کر دیا جائے گا۔ انھوں نے تاکید کے ساتھ کہا کہ یہ فوجی آپریشن کوئی معمولی آپریشن نہیں ہے اورعراقی فوجی، موصل شہر کے قلب میں عراق کا پرچم لہرائیں گے۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ عراق میں اس ملک کے وزیراعظم حیدر العبادی کی زیرنگرانی سرکاری فورس کی حیثیت سے عوامی رضاکار فورس کی باضابطہ طور پرتشکیل کا اعلان کیا گیا ہے جس کا کمانڈراور ڈپٹی کمانڈر سمیت پورا ایک ادارہ ہو گا اوراسے باقاعدہ تربیت دیئے جانے کے ساتھ مختلف قسم کے ہتھیاروں سے لیس کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ عراق میں داعش دہشت گرد گروہ کا مقابلہ اوراس گروہ کے زیرقبضہ علاقوں کو آزاد کرانے کے لئے دو ہزار چودہ میں عراق کے نامورمرجع تقلید آیت اللہ العظمی سیستانی کے فتوے کے بعد عوامی رضاکار فورس کا قیام عمل میں آیا تھا۔ یہ فورس بیالیس سے زائد گروہوں پر مشتمل تھی جس نے داعش دہشت گرد گروہ کے خلاف عراق کی مسلح افواج کی کارروائیوں میں مکمل طور پر حصہ لیا اورعراقی فوجیوں کے ساتھ بھرپور تعاون کیا اور شہر فلوجہ کی آزادی میں عراق کی عوامی رضاکار فورس کا بھی قابل ذکرکردار رہا ہے۔

مختلف کارروائیوں میں عوامی رضاکار فورس کی کامیابیوں کی بناء پرکہ جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں داعش دہشت گرد گروہ کی پیش قدمی کو روکا جانا ممکن بھی ہوا، اس فورس کے اندرون و بیرون ملک مخالفین، یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ ایک شیعہ مسلمانوں کی فورس ہے جو آزاد کئے جانے والے علاقوں میں غیر شیعہ مسلمانوں خاص طور سے سنّی مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ عراق کی عوامی رضاکار فورس میں بڑی تعداد میں اہلسنت مسلمان بھی شامل ہیں۔

ایسی صورت حال میں الحشدالشعبی کے ایک کمانڈر نے اعلان کیا ہے کہ عوامی رضاکار فورس کی شرکت سے ہی شہر موصل کو آزاد کرایا جائے گا۔ عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشدالشعی کے کمانڈر کریم نوری نے عراق کے الاتجاہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ موصل کو آزاد کرانے کی کارروائی میں یقینی طورپرالحشدالشعبی فورس کی شرکت رہے گی اوراس فورس نے داعش دہشت گرد گروہ کے خلاف فوجی آپریشن میں اپنی صلاحیت و توانائی اور طاقت کا لوہا بھی منوایا ہے۔