علما انبیا کے وارث ہیں،بدتمیزی دین سے دوری،اور جہالت ہے، وفاق المدار س الشیعہ
پالیسی اختلافات جماعتی پلیٹ فارم تک محدود رکھے جائیں،عوام کو تماشہ نہ دکھایا جائے
علما کا معاشرے سے کردار ختم کرنا قوم کو لاوارث چھوڑنے کے مترادف ہوگا، آیت اللہ ریاض نجفی
لاہور ( ) وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ سید ریاض حسین نجفی ،نائب صدر علامہ نیازحسین نقوی اور سیکرٹری جنرل علامہ محمد افضل حیدری نے واضح کیا ہے کہ علما انبیا کے وارث ہیں، علما کے ساتھ بدتمیزی کے واقعات قابل مذمت ، دین سے دوری کا اظہار اور جہالت ہے۔ دین کے نام پر بننے والی کیسی الٰہی تنظیمیں ہیں جو علما کی توہین کو قومی خدمت تصور کرتی ہیں ،یہ سن کر سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔ پالیسی اختلافات جماعتی پلیٹ فارم تک محدود رکھے جائیں۔عوام کو تماشہ نہ دکھایا جائے کہ جس سے جگ ہنسائی ہو۔ پاکستان میں ملت جعفریہ کی قیادت ہمیشہ سے علما کے ہاتھوں میں رہی ہے،جو سید محمد دہلوی، مفتی جعفرحسین مرحوم اور شہید علامہ عارف حسین الحسینی سے ہوتی ہوئی قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی شکل میں موجود ہے۔ اگر علما کا معاشرے سے کردار ختم کردیا جائے یا ان کی توہین کی جائے تو یہ قبیح اقدام قوم کو لاوارث چھوڑنے کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ علما کی توہین کرنے والوں کو متعلقہ تنظیمیں نکال باہر کریں۔ اورقوم سے معذرت کریں، آج بزرگ عالم دین علامہ محمد ر مضان توقیر کی توہین کی گئی ہے تو کل خدانخواستہ کسی اور کے عمامے کی طرف ہاتھ بھی بڑھ سکتے ہیں، تو یہ سلسلہ وحدت و اتحاد کی فضا کو خراب کرنے کے مترادف ہوگا، جس کا متحمل ہمار ا معاشرہ نہیں ہوسکتا۔ علامہ افضل حیدری نے کہا کہ قومی مسائل پر شیعہ جماعتوں کو ایک موقف اختیار کرنا چاہیے۔ سکیورٹی اداروں سے ٹکراو کی پالیسی قومی مفاد میں نہیں ۔ جبکہ چیف آف آرمی سٹاف کو بھی چاہیے کہ وہ عسکری اداروں سے تنگ نظروں کو نکالیں ، جنہوں نے پاراچنار میں جشن امام حسین علیہ السلام کی ریلی پر فائرنگ کی۔