دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے ۔
پے درپے سانحات حکمرانوں اور سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔
عوام کی جان ،مال اور عزت و آبرو کاتحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔
(علامہ شیخ فدا حسن عبادی صدر اسلامی تحریک بلتستان)
سکردو(پ۔ر) اسلامی تحریک پاکستان بلتستان کے صدر حجتہ الاسلام علامہ شیخ فدا حسن عبادی نے ملکی امن وامان کی بگڑتی صورت حال اور سانحہ درگاہ لعل شہباز خان قلندر اور دیگر سانحات پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔دہشت گردی ایک لعنت ہے ۔دہشت گرد کا کوئی دین و مذہب نہیں ہوتا ۔دہشت گرد صرف دہشت گرد ہوتا ہے ۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صرف وقتی اعلانات کافی نہیں بلکہ ٹھوس عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ نیشنل ایکش پلان متعارف کراکے تقریباََ تین سال ہوگے اور آپریش ضرب عضب بھی ساتھ چل رہا ہے ۔ ساتھ سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے بارہا یہ دعوی بھی سامنے آتے رہے کہ دہشت گردوں کی نیٹ ورک کا نظام تباہ کردیا گیا، ان کی کمر توڑ دی گئی اور ان کی پناہ گاہوں کا خاتمہ کیا گیا، آج فلاں جگہ اتنے دہشت گردوں کو مار دیا گیا وغیرہ وغیرہ ۔ لیکن ان تمام اعلانات اور سیکورٹی اداروں اور حکمرانوں کے دعووں کے باوجود چاروں صوبوں میں پے درپے دہشت گردی کے واقعات نے کئی سوالوں کو جنم دیا ہے ۔ اور نیشنل ایکشن پلان ، حکمرانوں اور سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے ۔ قائد ملت جعفریہ نے سانحہ عاشورا کراچی سے لیکر اب تک کے سانحات میں بارہا حکمرانوں کو متوجہ اور متنبہ کیا کہ ان حادثات کو ٹیسٹ کیس کے طور پر لیا جائے اور حقائق منظر عام پر لائی جائے۔ لیکن حکمرانوں نے ان معاملات کو سنجیدگی سے نہیں لیا ۔ داتا دربار لاہور سانحہ، پشاور اور پاراچنار کے سانحات، کوئٹہ کے درد ناک سانحات اور واقعات کے حقائق سامنے لائے جاتے اور ملوث دہشت گردوں کو قرار واقعی سزا دیتے تو پانچ دن میں یہ سانحات رونما نہیں ہوتے۔ ارباب اقتدار سے مطالبہ ہے کہ ماضی کے سانحات سمیت گزشتہ پانچ یوم کے اندر ہونے والے سانحات کی باریک بینی سے تحقیقات کی جائیں، اور قوم کو بتایا جائے کہ دہشت گرد کون تھے؟ سہولت کار کون تھے؟ فنڈنگ کہاں سے ہوتی تھی؟ شہروں میں دہشت گردو کی پناہ گاہیں کہاں ہیں ، ان پناہ گاہوں کو تحفظ کون فراہم کر رہا ہے؟ اور سانحات کی ثبوت مٹانے کی کوششیں کیوں اور کس نے کس کے حکم پر کیا ۔ ان حقائق کے بعد ملوث دہشت گردوں کو قرار واقعی سزا دی جائے ۔
پے درپے سانحات حکمرانوں اور سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔
عوام کی جان ،مال اور عزت و آبرو کاتحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔
(علامہ شیخ فدا حسن عبادی صدر اسلامی تحریک بلتستان)
سکردو(پ۔ر) اسلامی تحریک پاکستان بلتستان کے صدر حجتہ الاسلام علامہ شیخ فدا حسن عبادی نے ملکی امن وامان کی بگڑتی صورت حال اور سانحہ درگاہ لعل شہباز خان قلندر اور دیگر سانحات پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔دہشت گردی ایک لعنت ہے ۔دہشت گرد کا کوئی دین و مذہب نہیں ہوتا ۔دہشت گرد صرف دہشت گرد ہوتا ہے ۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صرف وقتی اعلانات کافی نہیں بلکہ ٹھوس عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ نیشنل ایکش پلان متعارف کراکے تقریباََ تین سال ہوگے اور آپریش ضرب عضب بھی ساتھ چل رہا ہے ۔ ساتھ سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے بارہا یہ دعوی بھی سامنے آتے رہے کہ دہشت گردوں کی نیٹ ورک کا نظام تباہ کردیا گیا، ان کی کمر توڑ دی گئی اور ان کی پناہ گاہوں کا خاتمہ کیا گیا، آج فلاں جگہ اتنے دہشت گردوں کو مار دیا گیا وغیرہ وغیرہ ۔ لیکن ان تمام اعلانات اور سیکورٹی اداروں اور حکمرانوں کے دعووں کے باوجود چاروں صوبوں میں پے درپے دہشت گردی کے واقعات نے کئی سوالوں کو جنم دیا ہے ۔ اور نیشنل ایکشن پلان ، حکمرانوں اور سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے ۔ قائد ملت جعفریہ نے سانحہ عاشورا کراچی سے لیکر اب تک کے سانحات میں بارہا حکمرانوں کو متوجہ اور متنبہ کیا کہ ان حادثات کو ٹیسٹ کیس کے طور پر لیا جائے اور حقائق منظر عام پر لائی جائے۔ لیکن حکمرانوں نے ان معاملات کو سنجیدگی سے نہیں لیا ۔ داتا دربار لاہور سانحہ، پشاور اور پاراچنار کے سانحات، کوئٹہ کے درد ناک سانحات اور واقعات کے حقائق سامنے لائے جاتے اور ملوث دہشت گردوں کو قرار واقعی سزا دیتے تو پانچ دن میں یہ سانحات رونما نہیں ہوتے۔ ارباب اقتدار سے مطالبہ ہے کہ ماضی کے سانحات سمیت گزشتہ پانچ یوم کے اندر ہونے والے سانحات کی باریک بینی سے تحقیقات کی جائیں، اور قوم کو بتایا جائے کہ دہشت گرد کون تھے؟ سہولت کار کون تھے؟ فنڈنگ کہاں سے ہوتی تھی؟ شہروں میں دہشت گردو کی پناہ گاہیں کہاں ہیں ، ان پناہ گاہوں کو تحفظ کون فراہم کر رہا ہے؟ اور سانحات کی ثبوت مٹانے کی کوششیں کیوں اور کس نے کس کے حکم پر کیا ۔ ان حقائق کے بعد ملوث دہشت گردوں کو قرار واقعی سزا دی جائے ۔