• کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس

تازه خبریں

قائد ملت جعفریہ پاکستان کامستونگ کوئٹہ زائرین کی بس پر ہونیوالے بم حملے کی شدید الفاظ میں مذمت , شیعہ علماء کونسل کی جانب سے 3روزہ سوگ کا اعلان

جعفریہ پریس – قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے مستونگ کوئٹہ زائرین کی بس پر ہونیوالے بم حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے جانی نقصان پر دلی افسوس کا اظہارکیا . شیعہ علماء کونسل پاکستان نے سانحہ کے سوگ میں 3روزہ سوگ کا اعلان کیا . سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے سانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردوں پر آہنی ہاتھ ڈالا جائے،
جعفریہ پریس کی رپورٹ کے مطابق قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کوئٹہ میں ایران سے پاکستان آنیوالی زائرین کی بس پر ہونے والے دہشت گردی کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ پورا ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے ، پورا ملک دہشت گردی کی آگ میں جل رہاہے اس لئے حکومت کو چاہیے کہ دہشت گردی کے تدارک کیلئے عملی اقدامات اٹھائے اس موقع پر انہوں نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر بھی دلی دکھ کا اظہار کیاہے۔
شیعہ علماء کونسل پاکستان نے بھی سانحہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے 3روزہ سوگ کا اعلان کیاہے ۔ اپنے مذمتی بیان میں شیعہ علماء کو نسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے کہاہے کہ بے یارو مددگارمسافروں سمیت ملک میں کسی کی جان محفوظ نہیں ہے اور پورا ملک دہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہے۔ اس لئے اب حکومت کو چاہیے کہ فوراً دہشت گردی کے خاتمے کیلئے دہشت گردوں کے سرپرستوں پر آہنی ہاتھ ڈالے۔