• تعلیم یافتہ نسل ، ملک و قوم کی ترقی کی ضمانت ہے، علامہ ڈاکٹر شبیرحسن میثمی
  • کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت

تازه خبریں

قصاص میں حیات ہے ،سزائے موت کا بلا امتیاز اجراء کیاجائے:ثاقب اکبر ہمیں تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت پر زور دینا ہوگا: برگیڈئر (ر) اقبال شفیع

جعفریہ پریس  سانحہ پشاور کے حوالے سے سرسید میموریل سوسائٹی اور البصیرہ کے زیر اہتمام منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب
سانحہ پشاورافسوسناک ہے تاہم اس شر میں یہ خیر ہے کہ پوری قوم ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف متحد ہوگئی ہے،اس اتحاد کی قوت کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے ان خیالات کا اظہار علمی وتحقیقی ادارے البصیرہ کے چیئر مین اور ملی یکجہتی کونسل کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل ثاقب اکبر نے سرسید میموریل سوسائٹی اور البصیرہ کے زیر اہتمام سانحہ پشاور کے حوالے سے منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں امت رحمت اور امت وسط بن کر نمودار ہونا ہے ۔جیسا کہ وزیر داخلہ نے کہا کہ دس فیصد مدارس برے ہیں تو ہمیں دہشت گردی کی اس نرسری کوختم کرنا ہوگا۔انھوں نے کہا کہ قاتلوں سے ہمدردی رکھنے والوں کو بھی پہچاننا ہوگا ۔ انہی لوگوں نے برے اذہان کی تربیت کی ہے۔انھوں نے پاکستان ، قائداعظم اورعلامہ محمد اقبال کی مخالفت کی ہے۔عدلیہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عدلیہ کو تحفظ دے اور عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے قصاص کے حکم کو زندہ کرے اور بلاامتیاز سزاؤں کے اجراء کو یقینی بنائے۔ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سرسید میموریل سوسائٹی کے صدر اور تحریک پاکستان کے کارکن برگیڈئر (ر) اقبال شفیع نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے قائد اعظم کے پاکستان میں لوگ معصوم بچوں کو شہید کر رہے ہیں کیا یہ قائداعظم کا پاکستان ہے؟ انھوں نے اس مسئلہ کے علاج کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ ہمیں تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت پر زور دینا ہوگا۔یہی حل قائد اعظم ، علامہ اقبال اور سر سید احمد خان نے دیا۔انھوں نے اس حوالے سے اپنی بہت سی یادیں بیان کیں۔ان کاکہنا تھا کہ ہمارے نظام تعلیم نے گذشتہ ساٹھ سالوں میں قیادت پیدا نہیں کی بلکہ یہ نظام ملازمین پیدا کرتا ہے ، جس کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اہل حرم کے صدر مفتی گلزار احمد نعیمی نے کہا کہ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ بچوں کو قتل کرنے والے معصوموں کو قتل بھی کررہے تھے اور اللہ اکبر کے نعرے بھی لگاتے تھے۔جبکہ جس ذات نے ہمیں اللہ اکبر سکھایا وہ تو غیر مسلم بچوں سے بھی پیار کی تلقین کرتی تھی۔طالبان کو کس نے اجازت دی ہے کہ وہ نبی اکرم ؐ کا نام لیں اور مسلمانوں کا خون بہائیں جبکہ رسالت مآب کا حکم ہے جو شخص ہماری طرح نماز پڑھے، ہمارے قبلہ کو مانے اور ہمارا ذبیحہ کھائے وہ اللہ اور رسول ؐ کی پناہ میں ہے ۔ مفتی گلزار احمد نعیمی نے کہا کہ ہم نے یہ ملک اللہ اور اس کے رسولؐ کے نام پر حاصل کیا اللہ ہمیں اس ملک کو حقیقی اسلامی مملکت بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ریفرنس سے خواجہ شجاع عباس، ائیر وائس مارشل (ر) سید قیصر حسین، ڈاکٹر شعیب صدیقی نے بھی خطاب کیا۔ ریفرنس کی نظامت کے فرائض سرسید میموریل سوسائٹی کی ڈائریکٹر حم قادری نے انجام دیے ۔معروف نعت گو شاعر میاں تنویر قادری نے سانحہ پشاور کے حوالے سے اپنا کلام پیش کیا۔ ریفرنس میں کیس اور کئیر کے اساتذہ ، طلباء کے علاوہ سول سوسائٹی کے ممبران کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔