ملک میں آئین کی بالادستی وجمہوری استحکام ضروری ہے ، علامہ سید ساجد علی نقوی
ملک میں سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی کی حد تک پہنچا دیا گیا ہے جو ملکی سیاسیات کےلئے نقصان دہ ہے، قائد ملت جعفریہ
عدلیہ آئین کی تشریح کے انداز کی واضح اور روشن رہنمائی سے ملک کو اس شدید بحران سے نکالنے کیلئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے گی
راولپنڈی /اسلام آباد 4اپریل 2022ء( جعفریہ پریس )قائدِ ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے آئین کی بالادستی اور جمہوری استحکام کو ہی وطن عزیز پاکستان کو موجودہ بحرانی کیفیت سے نکالنے کا واحد حل قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ آئین کی تشریح کے انداز کی روشن اور واضح رہنمائی سے موجودہ بحران کو حل کر لیا جائے گا۔ عدم اعتماد کی تحریک کے ردعمل کے طور پر پیدا شدہ بحرانی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے قائدِ ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ موجودہ آئینی و سیاسی بحران نے ملک میں انارکی کی سی صورتحال پیدا کر دی ہے جو کہ عوامی سطح پر خطرناک رخ اختیار کر سکتی ہے جس کے لیے اس بحرانی صورتحال سے فوری نمٹنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی کی حد تک پہنچا دیا گیا ہے جو ناصرف ملکی سیاسیات کےلئے نقصان دہ ہے بلکہ آئندہ نسلوں پر یہ غیر سیاسی روئیے منفی اثرات مرتب کریں گے۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی کلچر کو ایک بار پھر بہتر انداز میں روشناس کروانے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اس لیے امید کی جاتی ہے کہ عدلیہ آئین کی تشریح کے انداز کی واضح اور روشن رہنمائی سے ملک کو اس شدید بحران سے نکالنے کیلئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے گی۔ تاکہ ملک میں سیاسی اختلافات اور سیاسی رویوں کو ذاتی دشمنیوں میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے جس سے براہ راست عوام کے متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مہذب سیاسی کلچر کو فروغ دے کر عوام کو انتشار سے بچایا جا سکتا ہے۔ جبکہ انہوں نے آئین کی تشریح کے انداز کی واضح اور روشن رہنمائی کے ذریعہ ذاتی مفادات کے سدباب کو بھی وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ انہوں نے ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کا واحد حل آئین اور قانون کی حکمرانی میں مضمر قرار دیا۔

2,355
People reached
186
Engagements
Distribution score
Boost post
101You and 100 others
4 Comments
10 Shares
Like
Comment
Share