• کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس

تازه خبریں

مکتب آل محمد علیہم السلام کے خلاف کسی قسم کی پابندی اورسازش کو برداشت نہیں کرسکتا

کربلا میں61 ہجری میں اسلام کو ملوکیت سے بچانے اور فاسق و فاجر یزید کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے انکار پر اللہ کے آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے خانوادے اور عزیز و اقربا کے علاوہ اپنے جانثاروں کی جو لازوال قربانی پیش کی اسکی یاد لگ بھگ چودہ صدیوں سے دنیا کے ہر کونے میں منائی جاتی ہے ،درحقیقت نواسہ  رسول کی یاد اور عزاداری ایک ایسا سرمایہ ہے جس سے مظلوم طاقتور اور ظالم سرنگوں ہوتا ہے ۔
حضرت امام خمینی نے ایرانی طاغوت کی سرنگونی اور انقلاب اسلامی کی کامیابی کا راز بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر انقلاب اسلامی میں عزاداری سید الشہداء کا عنصر شامل حال نہ ہوتا تو اس اسلامی تحریک کا کامیاب ہونا محال تھا –
عزاداری سید الشہداء سے خوفزده استعماری قوتوں نے مختلف خطوں کی طرح مملکت خداداد پاکستان میں بھی اپنے آلہ کاروں کے ذریعے آئمہ اطہار علیہم السلام کے نظریات ، افکار اور معارف اسلامی بالخصوص عزاداری سید الشہداء کو روکنے کیلئے مختلف عنوانات ، حوالوں اور مناسبتوں سے فرقہ واریت ، امن و امان اور دہشت گردی کا بہانہ بناکر اس پر قدغن لگانے کی کوششیں کی جو تاحال جاری ہیں جبکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ عزاداری سید الشہداء کے انعقاد سے نہ امن و امان میں خلل ہوتا ہے نہ فرقہ واریت جنم لیتی ہے اور نہ دہشت گردی پھیلتی ہے بلکہ مراسم عزاداری جس میں اہل تشیع سمیت دیگر مکاتب فکر و مسالک کے افراد بھی شرکت کرتے ہیں پاکستان کی سالمیت و استحکام کی دعاؤں کے ساتھ اسلام کا پرچار کیا جاتا ہے ۔
امام حسین کی یاد میں منعقده آفاقی سوچ کے حامل پروگراموں کی اہمیت کے پیش نظر قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے عرصہ دراز سے ملک کے ریاستی اداروں پر واضح کیا کہ ہمیں سنگینوں کے سائے میں عزاداری قبول نہیں ہے، کیونکہ اس طرح کی رکاوٹیں کھڑی کرکے عزاداری کے مراسم میں دیگر مسلمانوں کوشرکت سے روکا جا رہا ہے تاکہ ایک طرف عزاداری کے اثرات مرتب نہ ہو سکیں اور دوسری طرف خوف و ہراس کی فضا ہموار کرکے عزاداری کے جلوسوں پر پابندی عائد کی جا سکے ، مگر قائد ملت جعفریہ نے کہا کہ عزاداری سید الشہداء ہمارا آئینی و قانونی حق ہے، آزاد شہری کی حیثیت سے ہم جب چاہیں اور جہاں چاہیں عزاداری منعقد کر سکتے ہیں عزاداروں کے جان و مال کا تحفظ حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے ۔
لیکن حکمراں اور ریاستی ادارے شہری آزادی کا قانون نافذ کرنے کے بجائے ہمیشہ فرقہ واریت اور دہشت گردی کا بہانہ بناکر شرپسندوں کا ساتھ دیتے رہے پاکستانی تاریخ میں مختلف مواقع اور مقامات پر حکومتی اداروں نے عزاداری کے مقابل رکاوٹیں کھڑی کیں اور اسے روکنے کے ناقابل عمل اور غیر مہذبانہ قانون بنائے مگر نہ صرف اہل تشیع بلکہ علماء اہل سنت نے بھی اپنی بصیرت سے انہیں ناکام بنایا کیونکہ اہل سنت اکابرین بخوبی جانتے ہیں کہ جو اسلام دشمن طاقتیں نواسہ رسول کی یاد میں منعقده مذہبی پروگرام میں رکاوٹ کھڑی کرسکتے ہیں ان کے لئے اہل سنت کے مذہبی پروگراموں میں ہاتھ ڈالنا دشوار نہ ہوگا ۔
1987میں حکومتی اداروں نے عزاداری سید الشہداء پر پابندی کا باقاعدہ آغاز کیا اور قائد شہید علامہ سید عارف حسین الحسینی کے دور قیادت میں ڈیرہ اسماعیل خان کے جلوس عزا پر امن و امان کا مسئلہ بناکر پابندی کا فیصلہ کیا گیا اسی دوران قائد شہید کو شہید کردیا گیا اور قبائے قیادت قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی کو سپرد کی گئی تو قائد ملت جعفریہ نے ملکی آئین کی روشنی اور اپنی بصیرت افروز نگاه سے اعلان کیا کہ عزاداری کے جلوسوں ، مذہبی مراسم اور اجتماعات پر پابندی ناقابل قبول ہے کیونکہ ملک کا آئین و قانون ہمیں اجازت دیتا ہے کہ ہم جہاں چاہیں عزاداری برپا کرسکتے ہیں اس لئے ڈیرہ کا جلوس ہرحال میں نکالا جائے گا ۔
ڈی آئی خان کے جلوس کو نکالنے کا اعلان ہوتے ہی دور دراز سے عوام الناس کی کثیر تعداد اس میں شرکت کیلئے روانہ ہوئی اور اس جلوس عزاء کو شان و شوکت کے ساتھ نکالا گیا تاہم حکومتی اداروں نے اپنی بزدلانہ کاروائی انجام دیتے ہوئے عزادارں پر فائرنگ کردی جس کے نتیجہ میں کئی مومنین شہید اور زخمی ہوئے ان شہادتوں کے باوجود جلوس عزاداری حکومتی ناجائز پابندی کو روندتا چلاگیا۔ اس وقت کے شہداء نے آنے والی نسلوں کو پیغام دیا کہ ہم نے جان دے کر عزاداری پر پابندی قبول نہ کی اور علم ابو الفضل العباس کو سرنگوں ہونے نہیں دیا  حسینی جوانو تم بھی اپنی قوت و بھادری سے قائد کی آواز لبیک کہتے ہوئے عزاداری سید الشہداء اور علم ابو الفضل العباس کی حفاظت کرنا –
شہداء کے اسی پیغام پر عمل کرتے ہوئے 1998 میں حضرت لعل شہباز قلندر کی درگاہ سہون شریف میں عزاداری سید الشہداء پر عائد پابندی کے خلاف شاندار اجتماع کرکے ملت کے غیور جوانوں نے اپنے قائد کے ہمراه عزاداری کا انعقاد کیا جس سے عملی طور پر اس پابندی کو بھی ہمیشہ کے لئےغیر موثر کردیا گیا ۔
دشمن کے آلہ تکفیری دہشت گرد گروہ نے پیدائش سے لے کر آج تک امت مسلمہ میں تفرقہ بازی کا کردار ادا کیا ہے، اس گروه نے ملت جعفریہ کیخلاف تکفیر، امت مسلمہ کے متفق علیہ شخصیات اور آئمہ معصومین کی شان میں گستاخی  سمیت ملک کے گلی کوچوں، بازاروں اور مساجد سے قتل کرو اور مارو مارو کی صدائیں بلند کیں، یہ وہ مناظر تھے جس کا مشاہدہ ملک کے ریاستی ادارے بھی کر رہے تھے لیکن انہیں روکنے والا کوئی نہ تھا مگر ان تمام غیر مہذبانہ ماحول کے باوجود ملت تشیع کے قائدین ، علمائے کرام، زعمائے ملت اور عمائدین قوم نے ملکی سالمیت میں حب الوطنی کا کردار ادا کرتے ہوئے قوم کو متانت، بردباری اور صبر کا پیغام دیا ۔
مہذب قوم کی مہذب قیادت کے پاس اس غلیظ مہم کو روکنے کے دو راستے تھے 1: مقابل مثل جس کا وطن عزیز متحمل نہ تھا- 2: قانونی راستہ اپنا کر قومی حقوق کا دفاع کرتے ہوئے اتحاد و وحدت کے ذریعے اس تکفیری گروه کو بے نقاب کرکے امت مسلمہ کی صفوں سے باہر نکالنا-
قائد ملت نے دوسرے راستے کو اپنا کر ملک کے تمام اسلامی فورمز، مذہبی جماعتوں ، دینی اداروں سمیت تمام مکاتب فکر کے ذریعے یہ بات تمام مسلمانوں پر واضح کی کہ اس غیر مہذب گروہ کا مسلمانوں کے کسی بھی مکتب سے تعلق نہیں ہے بلکہ اسے صرف اور صرف تفرقہ انگیزی کیلئے پیدا کیا گیا ہے جس کی تائید اہل سنت علماء کرام نے بھی کی جس کے بعد اس گروہ نے بریلوی اور دیوبندی مکتب فکر کے خلاف بھی تکفیر اور قتل و غارتگری کا بازار گرم کیا۔
مکتب تشیع کے ڈاکڑز، ٹیکنوکریٹس، علماء و ذاکرین اور دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد کو ٹارگٹ کیاگیا، مساجد و امام بارگاہوں کو نمازیوں اور عزاداروں کے خون سے رنگین کیا گیا مگر کوئی ایسی قوت نہ تھی جو اس کا نوٹس لیتی جس کے نتیجے میں تمام اداروں کو مفلوج کردیا گیا اور جن حکومتی فرض شناس افسران نے دہشت گردوں کو لگام دینے کی کوشش کی تو انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
پھرریاستی غفلت کے سبب یہ دہشت گردی پورے ملک پر مسلط ہوتی چلی گئی یہاں تک آج ملک کے اصل حکمران دہشت گرد ہی  نظر آتے ہیں جن کے سامنے ہمارے حکمراں بے بس بے چاره ہو چکے ہیں-
قائد ملت جعفریہ نے قوم کو جذباتی اور غیر شعوری باتوں کے بجائے حقائق کی طرف متوجہ کیا انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں تمام مسالک کے اندر مکمل ہم آہنگی اور بھائی چارگی کی فضا قائم ہے شیعہ و سنی کا کوئی مسئلہ نہیں بلکہ یہ دہشت گردی ہے جسے روکنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
سابقہ فوجی حکومت میں ایک ٹاسک فورم کا قیام عمل میں لایا گیا جس میں بعض علماء نما لوگوں کو بھی شامل کیا گیا اور انہیں ایک خاص ٹاسک دیا گیا کہ اس پر رائے دیں اور اس پر عمل در آمد کو یقینی بنائیں، جس میں سرفہرست مسئلہ عزاداری سید الشہداء کو محدود کرنے کا تھا انہوں نے حکومتی خوشنودی کیلئے رپورٹ دی کی کہ یہ جلوس عزا ملک میں امن و امان کے کیلئے شدید خطره ہیں اسلئے اسے قانون سازی کے ذریعے محدود کیا جائے اور ایک مخصوص روٹ طے کیا جائے، اس طرح عزاداری پر پابندی لگانے کیلئے امن و امان کا مسئلہ بنا کر ملت جعفریہ کے حقوق پر کاری ضرب لگانے کی کو شش کی گئی ۔
قائد ملت نے اس سنگین مسئلہ کا نہایت سختی سے نوٹس لیا اور ملک گیر دورہ جات ، سیمینارز ، کانفرنسوں اور ملک بھر کے علماء و ذاکرین کے سامنے اس ٹاسک فورس کے عزائم کو بے نقاب کیا اور اداروں کو خبر دار کیا کہ ہم کسی بھی صورت مکتب تشیع کے خلاف کسی بھی قانون سازی کو قبول نہیں کریں گے قائد ملت کی اس جدوجہد کے بعد وه ٹاسک فورم غیر موثر ہوکر ره گیا۔
آج ایک بار پھر تاریخ دھرائی جا رہی ہے سانحہ پنڈی کے بعد میڈیا پر مسلسل کوشش کی جارہی ہے کہ ملک میں فرقہ واریت ہے تاکہ عید میلادالنبی سمیت تمام مذہبی جلوسوں بالخصوص عزاداری سید شہداء کے لئے جدید قانون سازی کے ذریعے پابندی کی راه ہموار کی جا سکے اور ملک میں مصنوعی فضا کے ذریعہ فرقہ واریت اور دہشت گردی کے خاتمے کا ڈھول بجاتے ہوئے ملت جعفریہ جیسی مہذب قوم کو تکفیری شر پسند اوباش اور غیرمہذب گروه کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بٹھایا جا سکے ۔
اس سے پھلے بھی مختلف حوالوں سے قائد ملت پر ڈباؤ ڈالا جاتا رہا کہ سپا ہ صحابہ سے مذاکرات کریں مگر قائد ملت نے ہمیشہ اس کی نفی کی اور اس موقف کو دہرایا کہ مذاکرات برابری کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور ہمیں جس فریق سے مذاکرات کیلئے حکمران ادارے دباؤ ڈال رہے ہیں وہ کسی بھی مکتب فکر کی نمائندگی نہیں کرتا بلکہ وہ ایک خصیص ٹولہ ہے جس کا مقصد مسلمانوں میں افتراق پھیلانا ہے اسکے علاوہ قائد ملت نے دوسرا موقف یہ دہرایا کہ اب چونکہ وحدت فورم بن چکا ہے اس لئے جسے کوئی مسئلہ درپیش ہے وہ ان اداروں میں آکر بات کرے۔
در اصل بعض خفیہ ادارے ان مذاکرات کے ذریعے کچھ مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ غیر محسوس طریقے سے مکتب تشیع کی آزادیوں کو سلب کیا جاسکے اور ملکی میڈیا ، جرائد ، عوام اور دیگر طبقہ ہائے فکر کو ایک نمائشی خاکہ پیش کیا جائے کہ ہم نے سپاہ صحابہ کو منا لیا اور وہ کچھ چیزوں میں تخفیف پر آمادہ ہوگئے ہیں اور دوسری طرف شیعہ حضرات بھی اپنے عقائد کے بعض مسائل میں اصلاح پر آمادہ ہوگئے ہیں جبکہ اس ساری نقل و حرکت کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سپا ہ صحابہ کے پاس ہے ہی کیا جسے وہ قبول کریں گے اور کچھ چیزوں میں تخفیف پر راضی ہوں جائیں گے بلکہ وہ تو ایک دہشت گرد ٹولہ ہے جو کسی مکتب فکر کی نمائندگی ہی نہیں کرتا جبکہ دوسری طرف مکتب تشیع اسلام کی حقیقی مسلمہ قوم ہے۔
گذشتہ ادوار میں بعض اداروں کی طرف سے قائد ملت پر حد درجہ کا دباؤ دڈالا گیا اور بہت سے غیر مہذبانہ طریقے بھی استعمال کئے گئے مگر آپ نے اپنے جد محترم سید الشہداء امام حسین علیہم السلام کے افکار سے الہام لیتے ہوئے یزیدان عصر کی غیر مہذبانہ مذاکراتی شرائط کے مقابل ”ھیہات من الذله ”کی صدا بلند کی اور مذاکرات کے تمام حکومتی دعووں کو پیروں تلے روند ڈالا۔
عرصہ دراز سے جہاں سپاہ یزید سے مذاکرات کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے وہاں مندرجہ ذیل مطالبات کا بهی سامنا ہے:
١۔ اذان میں علی ولی اللہ سے آگے خلیفة بلافصل نہ پڑھا جائے اس سے دوسرے مکاتب فکر کی دل آزاری ہوتی ہے۔
٢۔عزاداری سید الشہداء کو محدود کیا جائے اس سے ملک میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔
٣۔مُلا کی ایماء پر مرتب کرده جدید قانون سازی کی حمایت کی جائے۔
مگر قائد ملت جعفریہ پھلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ : میں اپنی موت کے پروانے پر تو دستخط کر سکتا ہوں مگر مکتب آل محمد علیہم السلام کے خلاف کسی بھی قسم کی پابندی اور سازش کو برداشت نہیں کرسکتا۔
قائدملت جعفریہ اور اس کی قومی جماعت کے اراکین نے قومی فیصلہ کیا کہ جس دہشت گروہ کے پاس کسی مکتب و مسلک کی ترجمانی کا اختیار نہیں اور وه فقط تفرقہ اندازی سے کوچہ، بازار اورگلیوں میں مکتب آل محمد ۖکو گالیاں، غلیظ نعروں سمیت ہماری قیادت ، مرجعیت اور حضرت ولی العصر المہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی شان میں گستاخیاں کرنا ہے اس کے ساتھ بیٹهنا یا ٹاک شو کرنا مکتب تشیع کی توہین ہے۔
اس وقت مختلف شہروں سمیت پنڈی کا جلوس نہایت حساسیت اختیار کر چکا ہے پنڈی جلوس کو روکنے کے لئے تکفیری گروه نے دو روزه کانفرنس کا اعلان کیا ہے جس میں شرکت کے لئے ملک بهر سے دہشت گردوں کو دعوت دی گئی ہے جبکہ ادهر ملت جعفریہ کی مختلف تنظیموں انجمنوں اور ماتمی سنگتوں سمیت مرکزی پلیٹ فارم اور قومی قیادت کا اعلان ہے کہ پنڈی کا جلوس ہرحال میں برآمد ہوگا-
اس تناظر میں حکومت کی کوشش ہے کہ جلوس کا روٹ چینج کیا جائے اس سلسلے میں مختلف لائسنس داروں پر بهی دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور کچھ شیخ جی بهی علماء کے لباس میں حکومتی ایماء کو پورا کرنے کی یقین دہانی کرا رہے ہیں-
لیکن ملت کا اصلی فیصلہ وه ہی ہے جو مرکزی قیادت کی طرف سے اعلان ہو چکا کہ چہلم امام حسینؑ کے تمام جلوس اپنے روایتی روٹ پر باوقار طریقے سے نکالے جائیں گے-
آخرمیں ہم اپنے محبوب قائد کے ساتھ عہد کرتے ہیں کہ ہرمیداں میں کربلا والوں کی طرح آپ کے ساتھ ہیں اورحالات کے مطابق آپ کاجو فیصلہ ہوگا اس کو جان ودل سے خریدار ہیں اوراس راہ میں اپنی جان قربان کرنے کے لئے ہروقت تیارہیں ۔
ملت کو فخر ہے کہ ساجد ہے رہنما
عارف کے بعد عزم خمینی کا پاسباں