جعفریہ پریس- اندرون سندھ 5 محرم الحرام کو بھی مجالس عزا کا سلسلہ جاری رہا، جس سے خطاب کرتے ہوئے علما و ذاکرین نے کہا کہ واقعات کربلا نے حق و باطل کا فرق واضح کردیا ۔ شہادت اعلیٰ ترین منصب ہے جس کی تمنا ہر مسلمان کو رکھنی چاہئے حسینی فکر وفلسفہ انسانیت کیلئے مشعل راہ ہے، تفصیلات کے مطابق  پانچ محرم الحرام کا روایتی اور تاریخی علم و ذوالجناح کا جلوس لال مکان پرانا سکھر سے برآمد ہوا، جس میں ہزاروں عزاداران امام حسین  نے شرکت کی، علم وذوالجناح کا یہ جلوس رائل روڈ، جنات چوک، شاہی بازار، تانگہ اسٹینڈ سے ہوتا ہوا ڈتل شاہ قبرستان پر اختتام پذیر ہوا، علم و ذوالجناح کے اس جلوس میں عزاداران تمام راستے نوحہ خوانی کرتے رہے اور حضرت امام حسین اور ان کے جانثار ساتھیوں کی کر بلا کے میدان میں دی گئی اس عظیم قربانی پر انہیں خراج عقیدت پیش کر تے رہے- ماتمی جلوس کے موقع پر پانی اور دودھ کی سبیلیں قائم کی گئی تھیں جبکہ حلیم، بریانی اور دال سمیت کھانے پینے کی دیگر اشیاء بھی تقسیم کی گئی۔ ماتمی جلوس جلوس کے اختتام پر مجلس اعزاء منعقد کی گئی مجالس میں علماء و ذاکرین نے کربلا کے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے حضرت امام حسین اور ان کے جانثار ساتھیوں کی اس عظیم قربانی کو دین اسلام اور انسانیت کو بچانے کے لیے دی گئی سب سے بڑی قربانی قرار دیا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here