امید ھے عزاداری سید الشھدا علیہ السلام کے پروگرام بھر پور انداز میں جا رھے ھونگے-اس محرم میں عزاداری کے راستے میں رکاوٹ بننے والے پالے ھوئے تکفیری عناصر نہیں بلکہ خود ان کو پالنے والے رکاوٹ بن رھے ھیں -مگر ان عناصر کو معلوم ھونا چاھئے کہ بنی امیہ جیسے دشمنان آل محمد مٹ گئے مگر مشن حسینی جاری ھے اور جاری رھے گا-اوّل محرم سے مسلسل بلوچستان نصیر آباد ڈویژن سے روایتی جلوسوں کی بندش کے نوٹس دئے جا رھے ھیں اوستہ محمد،گوٹھ اسماعیل چھلگری،ھیڈ باغ،باغ ٹیل،گنداخہ،زورگڑھ اور دیگر کئی مقامات پر ان دور افتادہ علاقوں میں عاشقان حسین کو دباو ڈال کر عزاداری سے روکنے،شور ٹی بانڈ اور دیگر طریقوں سے ان جلوسوں کی بندش کی بات ھو رھی ھے جو دس، بیس اور چالیس چالیس سال سے جاری ھیں -ھم ان امام مظلوم کے بہادر عزا داروں کو سلام اور خراج تحسین پیش کرتے ھیں جنھوں نے کسی دباو کی پرواہ کئے بغیر اعلان کیا کہ کسی مقدمے اور ایف آئی آر کی پرواہ نہیں کریں گے روائتی جلوس ھر صورت نکلیں گے اب انتظامیہ اوچھے ھتھکنڈوں پر اتر آئی ھے بانیان جلوس ھائ عزا کو شیڈول فور میں ڈال رھی ھے،جلوس کے ٹائم پر پولیس امام بارگا کے اندر گھس کے روکنے کی کوشش کر رھی ھے اس سے بھی نہ روک سکے تو اب گرفتاریاں شروع کر دی ھیں گنداخہ میں آج آٹھویں محرم کا جلوس ھے اور کل جلوس کے بانی ذوالفقار جمالی اور اس کے بھائیوں کو گرفتار کر لیا گیا ھم مسلسل حکومت بلوچستان اور نصیر آباد کی انتظامیہ سے رابطے میں ھیں مگر ٹائم گذارنے کے چکر میں ھیں-ھم ڈویژن نصیر آباد کے کمشنر،جعفر آباد کے ڈی سی ،ڈی پی او کے متعصبانہ روئے کی شدید مذمت کرتے ھیں اور حکومت بلوچستان وفاقی حکومت کو متوجہ کرنا چاھتے ھیں اس متعصب کمشنر اور ڈی سی او کو فوری کنٹرول کیا جائے یہ طے ھے کہ پرمٹ والے اور روایتی جلوسوں میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جاسکتی—- پنجاب میں بھی بہت سے مقامات پر اس طرح کے مسائل پیدا ھو رھے ھیں-پورے ملک میں ھر مجلس اور جلوس میں قراردادوں کے ذریعے احتجاج ریکارڈ کرایا جائے – مومنین اور عزادار اس پیغام کو ھر مومن تک پہنچائیں اور اگر یہ مسئلہ حل نہ ھوا تو ھر قسم کے احتجاج کے لئے تیار رھیں عاشورہ کے دن جلوسوں کو روک کر بھی احتجاج پر غور ھو رھا ھے علمائ کرام،ذاکر ین عظام ،نوحہ خوان اور مرثیہ خوان ھر مجلس اور خطاب میں اس زیادتی پر احتجاج کریں قائد ملت کے حکم کے مطابق عزاداری کا تحفظ عزاداری کے ذریعے کرنا ھو گا یہ ھمارا آئینی حق اور عبادت ھے ھر قربانی دے سکتے ھیں عزاداری کو روکنے نہیں دیں گے -حکومت کو متوجہ کرنا چاھتے ھیں کہ ھم نے امن وامان اور اس ملک کی سالمات کی خاطر ھر قربانی دی امن وامان کو برقرار رکھنے میں تعاون کیا حکومت کی ذمہ داری ھے کہ سیکورٹی اور دیگر اداروں میں موجود متعصب عناصر پر کڑی نظر رکھے جو نیشنل ایکشن پلان کو عزاداری کے خلاف غلط طور پر استعمال کر کے لوگوں می بے چینی پیدا کر رھے ھیں -عارف حسین واحدی مرکزی سیکریٹری جنرل شیعہ علما کونسل پاکستان