ڈیرہ اسماعیل خان کے گاؤں حاجی مورہ میں ایم ایم اے کا انتخابی جلسہ
مرکزی پارلیمانی بورڈ ایم ایم اے و اسلامی تحریک کے مرکزی نائب صدر علامہ محمدرمضان توقیر کی صدارت میں منعقد ہوا جس کے مہمان خصوصی PK-99 کے امیدوار مولانا عبید الرحمان تھے ۔ دیگر مہمانوں میں اسلامی تحریک ڈیرہ اسماعیل خان کے ضلعی صدر مولانا کاظم مطہری، سٹی صدر سید انصار شاہ زیدی، ضلعی ممبر ماجد دھپ، شفقت بلوچ ایڈوکیٹ، تنویر مہدی ایڈوکیٹ، سردار جمعہ خان ، کونسلر مقبول بلوچ، کونسلر رضو خان، عارف خان و دیگر نے شرکت کی۔
جلسہ میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ مہمان خصوصی کوموٹر سائیکل ریلی نکال کر جلسہ گاہ میں لایا گیا ۔
جلسہ کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا تلاوت کلام حافظ قمر عباس اور نعت خوانی سید عصمت حسین شاہ نے کی۔
جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا ۔ایم ایم اے کے قیام سے شیعوں کے کچھ گروہوں کو تکلیف ہوئی ہے اور وہ الزام تراشیاں اورشیعہ میں نفرت پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ علامہ سید ساجد نقوی شیعوں کے قاتل کے ساتھ بیٹھ گیا ہے میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر مولانا فضل الرحمان شیعوں کے قتل میں بھی ملوث ہوتا تو ساجد نقوی کبھی بھی اس کے ساتھ نہ بیٹھتا ۔ کیونکہ ساجد نقوی سے بڑھ کر کوئی شیعہ کا خیر خواہ اور ہمدرد نہیں ہے۔ علامہ ساجد نقوی نے ہر فورم پر شیعوں کے حقوق کی جنگ لڑی ہے۔
اور ادھر سنیوں میں کچھ گروہ ہیں جن کو تکلیف ہو رہی ہے کہ مولانا فضل الرحمان گستاخ صحابہ اور ازواج رسول ؐ کی توہین کرنے والوں کے ساتھ بیٹھ گیا ہے ۔ میں ان پر بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگرشیعہ و ساجد نقوی ایسے ہوتے تو مولانا فضل الرحمان کبھی بھی ہمارے ساتھ نہ بیٹھتے کیونکہ مولانا سے بڑھ کر کوئی صحابہ اور ازواج رسول ؐ کی عظمت کا محافظ نہیں ہے۔ اور میں یہ بھی واضح کر دوں کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رسول اکرم کی بیویاں امہات المومنین ہیں ۔ اختلاف نظر اپنی جگہ لیکن کون غیرت مند ہو گا جو اپنی ماں کی توہین کرے گا یا برداشت کرے گا ۔ میرے بھائیوں یہ سب پراپیگنڈہ ہے مسلمانوں کو ایک دوسرے سے لڑانے کی سازش ہے ۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایم ایم اے کا قیام ہی تفرقہ بازی کی نفی ہے ۔ اس میں تمام مسالک کی معتبر 5 دینی جماعتیں اس وقت اکٹھی ہیں وہ ایک پلیٹ فارم پر موجود ہیں۔ جس کا مقصد آپس میں نفرتوں کو دور کرنا ہے پیار محبت کا درس دینا ہے ۔پانچوں جماعتوں کے سربراہوں نے ملکر سوچ سمجھ کرڈیرہ اسماعیل خان کی مٹی کو عزت دی ہے اور فرزند ڈیرہ مولانا فضل الرحمان کے سر پر ایم ایم اے کی سربراہی کی پگڑی رکھی ہے اور ان کو اپنا سربراہ چنا ہے ۔اور ہم نے اپنی مٹی کی لاج رکھنی ہے اور کتاب کی کامیابی کیلئے محنت کر کے کتاب کے امیدوروں کو پارلیمنٹ میں پہنچانا ہے تاکہ وہ وہاں جا کر مسلمانوں کے حقوق اور پورے ملک کی ترقی کیلئے جنگ لڑ سکیں ۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے اپنے خطاب میں ایم ایم اے کے سابقہ دور حکومت میں خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پورے پاکستان اور صوبہ کے علاوہ اس بندہ ناچیز نے اسی اپنے گاؤں حاجی مورہ میں ہسپتال بنوائے، گلیاں بنوائیں، بیروزگار بچوں کی نوکریں لگوائیں، بجلی کے ٹرانفارمر مہیا کیئے۔ بلیک ٹاپ روڈ بنوائے۔ جو سب کچھ آپ کے سامنے ہے ۔ اور آئندہ بھی اسی طرح اپنے گاؤں کی ترقی کیلئے بھر پور طریقے سے اپنا کام جاری رکھیں گے۔