• مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس
  • اپنے تنظیمی نظام اور سسٹم کو مضبوط سے مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ورکر کنونشن
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات علمی حلقوں میں خلا مشکل سے پُر ہوگا علامہ شبیر میثمی

تازه خبریں

کراچی جیل سازش تشویشناک، جیلوں کی حفاظت کیلئے فول پروف انتظامات کئے جائیں، علامہ عارف واحدی

جعفریہ پریس- شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے کراچی جیل سازش کو انتہائی تشویشناک قراردیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ جیلوں کی حفاظت کیلئے فول پروف انتظامات کئے جائیں، پہلے بھی جیلوں پر حملے کرکے خطرناک مجرم چھڑائے گئے لیکن اس کے باوجود کوئی خاطر خواہ انتظامات نہ کئے گئے ، کارکردگی بیان بازیوں سے نہیں عملی اقدامات سے ظاہر ہوتی ہے، سزائے موت کی معطلی کو ختم کرکے بے گناہ انسانوں کے قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے علامہ مشتاق حسین ہمدانی، علامہ غلام قاسم جعفری،مولانا صادق حسین نقوی اور معظم علی بلوچ ایڈووکیٹ سمیت علماء کے مختلف وفود سے ملاقاتوں کے دوران کیا جنہوں نے سیکرٹری جنرل شیعہ علماء کونسل سے مرکزی دفتر میں ملاقات کی ۔ ملاقات میں ملک کی مجموعی امن وامان اور سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ آمدہ ماہ محرم الحرام کے حوالے سے انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا ۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ عارف حسین واحدی نے کہا کہ کراچی جیل سازش انتہائی تشویشناک ہے اگر بروقت کارروائی نہ کی جاتی تو اس سے ملک کے حالات مزید خراب ہوجاتے انہوں نے اس موقع پر رینجرز کی کامیاب کارروائی پر انہیں مبارکباد بھی دی ۔ علامہ عارف واحدی نے کہا کہ ایک عرصہ سے سزائے موت کے قانون کومعطل کردیا گیا ہے جس سے ایک جانب معاشرے میں خرابیاں جنم لے رہی ہیں اور دوسری جانب سزا و جزا کا عمل بھی بری طرح متاثر ہوا ہے اور قاتلوں کو بھی اس سے شہ مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطرناک مجرموں کی بڑی تعداد جیلوں میں قید ہے جبکہ عدالتیں بھی انہیں سزائے موت سنا چکی ہیں تو پھر کیوں لیت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب ذمہ داروں کو چاہیے کہ وہ بیان بازیوں کے بجائے عملی اقدامات اٹھائیں کیونکہ کارکردگی بیان بازی سے نہیں اقدامات سے ظاہر ہتی ہے۔ملک بھر کی تمام جیلوں کی حفاظت کیلئے فول پروف انتظامات کئے جائیں جبکہ سزائے موت پر لگائی گئی پابندی کو بھی فی الفور اٹھایا جائے اور معصوم و بے گناہ افراد کے قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔