تازه خبریں

گلگت بلتستان کا اہم ترین اور بنیادی مسٗلہ آئینی حقوق کا ہے شیخ مرزا علی مرکزی نائب صدر اسلامی تحریک پاکستان

گلگت بلتستان کا اہم ترین اور بنیادی مسٗلہ آئینی حقوق کا ہے اور 16نومبر 1947 سے الحاق پاکستان کے اعلان کے بعد 69 سال الحاق پاکستان کے انتظار میں گزرگئے مگر وفاق کی عدم دلچسپی کی وجہ سے محرومی کا ایک طویل عرصہ گزرچکا ہے اور اس وقت جی بی تاریخ کے نازک او ر اہم ترین دور سے گزر رہاہے جبکہ جی بی کے مرہون منّت سی پیک منصوبہ عالمی اُفق پر اُبھر کر آیا ہے جس کے سبب مملکت خداداد پاکستان بھی اقتصادی طور پر عالمی سطح پر نمایاں مقام پانے جارہا ہے مگر اس کے باوجود وفاق کا رویہ مایوس کن رہا ہے جس کے سبب احساس محرومی میں نمایاں اضافہ ہورہا ہے جو ناقابل قبول ہے۔ ہم جی بی میں موجود تمام سیاسی و سماجی حلقوں سے امید کرتے ہیں کہ آئینی حقوق کے حصول میں جدّو جہد تیز کرتے ہوئے استحکام پاکستان کو یقینی بنائیں گے۔ اور گلگت بلتستان کے حیات کے مسئلہ آئینی حقوق کے حصول کے لئے اکھٹے ہوں اور جماعت کے اندر رہتے ہوئے جی بی کو قومی دھارے میں شامل کروانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں اور الحاق پاکستان کے اعلان کو عملی جامہ پہنانے کی جدّو جہدکر کے اپنے آباواجداد کے جذبہ کی پیروی کریں ان خیالات کا اظہار شیخ مرزا علی مرکزی نائب صدر اسلامی تحریک پاکستان نے اپنے ایک بیان میں کیا اور مزید کہا
ہم اس بات پر نہایت افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ اس حقیقت کے واضح ہونے کے باوجود کہ سی پیک منصوبہ گلگت بلتستان کے مرہون منّت ہے اور کوئی بھی عالمی منصوبہ متنازعہ علاقوں سے نہیں گزارا جاسکتااس کے باوجود وفاق حسب روایت ٹال مٹول سے کام لیتے ہوئے قابل قبول سیٹ اپ کی بات کر رہا ہے ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس وقت کوئی بھی سیٹ اپ ناقابل قبول ہے سی پیک کے اجراء کے بعد بھی جی بی کو سیٹ اپ دینے کی بات کرنا گلگت بلتستان کے ساتھ مذاق ہے۔
ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ گلگت بلتستان نے پاکستان سے الحاق کا اعلان کیا تھاآئینی حیثیت تلاش کرنے کا نہیں کہا تھااور آئینی حیثیت کے جائزہ کے نام پر 69 سال گزار دئے اور اب جی بی کے عوام آئینی صوبہ سے کم تر کسی چیز کو مستحکم پاکستان کے لئے قبول نہیں کرے گی۔ اس وقت استحکام پاکستان کے لئے گلگت بلتستان کو آئین پاکستان کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے اور جس طرح وزیر اعلٰی جی بی صاحب نے بھی حوالہ دیا کہ اقوام متحدہ کی قرار داد کی رو سے گلگت بلتستان کو آئینی حقوق دئے بغیر نہیں رکھا جاسکتا ہے لذا وقت کا تقاضاسی پیک کا کامیابی اور اقوام متّحدہ کے قرارداد وں کے عین مطابق گلگت بلتستان کو آئین پاکستان کا حصہ بنا کر پانچواں صوبہ قراردے۔ اور اگر آج بھی طفل تسلیاں دی جائیں تو جی بی کے عوام کو مجبوراً اقوام متّحدہ کی طرف سے رجوع کرنا پڑے گا اور آج تک جی بی کے عوام وفاق کی طرف دیکھتی رہی ہیں مگر اس کے باوجود کہ جی بی جو تاریخ کے نازک اور اہم ترین دور سے گزررہا ہے کی حسّاسیت کا ادراک کرتے ہوئے آئینی حیثیت دیتے ہوئے مکمل آئینی صوبہ بنایا جائے گا ۔
اسلامی تحریک پاکستان سی پیک کے حوالے سے یہ موقف واضح کرناچاہتی ہے گلگت بلتستان کی سی پیک میں بنیادی اور اہم حیثیت ہے مگر سی پیک میں سراسر نظر انداز کردیا گیا ہے لہٰذا مطالبہ کیا جاتا ہے کہ سی پیک میں جی بی کی حیثیت کے مطابق منصوبہ رکھے جائیں اب تک ذرائع ابلاغ میں جی بی کے جن منصوبوں کا سی پیک میں شامل کرنے کا ذکر آیا ہے وہ اونٹ کے منہ میں زیرہ سے بھی کم ہیں لذا مطالبہ کیا جاتا ہے کہ جی بی کی سی پیک میں حیثیت کے مطابق منصوبے رکھے جائیں اور تینوں ڈویژن کو اقتصادی زون دیا جائے ۔