تازه خبریں

گیس ، بجلی کی قیمتوں میں اضافہ انتہائی تشویشناک، عوام کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑدیاگیا ہے

گیس ، بجلی کی قیمتوں میں اضافہ انتہائی تشویشناک، عوام کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑدیاگیا ہے

گیس ، بجلی کی قیمتوں میں اضافہ انتہائی تشویشناک، عوام کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑدیاگیا ہے

علامہ عارف عارف واحدی
اشیائے خوردونوش تک عوام کی پہنچ سے دور، حکومت کا کام عالمی مالیاتی اداروں کی خواہشات کو پورا کرنا نہیں بلکہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے، ریاست مدینہ کے نعرے لگانے والے بتائیں آج تک عوام کو کیا ریلیف دیا، سیکرٹری جنرل شیعہ علماءکونسل
 
راولپنڈی / اسلام آباد 27 دسمبر 2019ء( جعفریہ پریس   )شیعہ علماءکونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی کہتے ہیں بجلی، گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ انتہائی تشویشناک، اشیائے خوردونوش عوام کی پہنچ سے دور ہوچکی،ریاست مدینہ کا بنیادی فلسفہ بنیادی حقوق کی فراہمی اور عوام کی مشکلات کا ازالہ ہے نہ کہ ان کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے، حکومت کا بنیادی کام عالمی مالیاتی اداروں کی خواہشات کو پورا کرنا نہیں بلکہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے، بتایا جائے آج تک عوام کو کس مدمیں ریلیف دیاگیا ؟، عالمی مالیاتی اداروں کے اپنے ایجنڈے، ارباب اختیار ملکی و عوامی مفا د مدنظر رکھیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے اشیائے خورونوش کے ساتھ بجلی، گیس کی قیمتوں میں اضافے اور بی آئی ایس پی سے لاکھوں مستحق افراد کو نکالے جانے کی خبروں پر اپنے رد عمل میں کیا۔علامہ عارف حسین واحدی نے قائد ملت جعفریہ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ انہوں نے کچھ عرصہ پہلے کہا تھا کہ حکمرانوں کو اب الیکشن موڈ سے نکلنا چاہیے ، افسوس ابھی تک طرز حکمرانی نے درست سمت اختیار نہیں کی، ڈالر قابو میں آرہاہے نہ پٹرولیم مصنوعات، اشیائے خوردونوش پر چیک اینڈ بیلنس رکھنے والی پرائس کنٹرول کمیٹیاں تک غیر فعال ہوچکیں، من مانے دام وصول کئے جارہے ہیں ، قرضوں کے حجم میں ٹھہراﺅ کی بجائے اضافہ ہوتاجارہاہے لیکن اس کے باوجود حکمرانوں کی جانب سے ماسوائے بیانات کے کوئی حتمی پالیسی یا سنجیدگی دیکھنے میں نہیں آرہی۔ ہم روز اول سے یہ کہتے چلے آرہے ہیں کہ معاہدے عالمی مالیاتی اداروں سے ہوں یا دوست ممالک کے ساتھ ، ان میں توازن کے ساتھ ملکی مفاد کو مقدم رکھا جائے۔ علامہ عارف حسین واحدی کا کہنا تھا کہ مسلسل مدنی ریاست کے نعرے لگائے جارہے ہیں مگر ریاست مدینہ جس کا بنیادی کام عوامی فلاح وبہبود تھا اس کے ماٹو کی بجائے عالمی مالیاتی اداروں کی خواہشات او رشرائط کو پورا کیا جارہاہے، گیس، بجلی کی قیمتو ں میں بے پناہ اضافہ کردیاگیا ، اشیائے خوردونوش عوام کی پہنچ سے دور ہوچکے دوسری جانب بی آئی ایس پی پروگرام سے لاکھ مستحق افراد کو نکالا جارہاہے،ریاست مدینہ کا بنیادی فلسفہ بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی اور عوامی مشکلات کا ازالہ ہے نہ یہ کہ عوام کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے، بتایا جائے آج تک عوام کو کس مد میں ریلیف فراہم کیاگیا ۔ انہوںنے ارباب اختیار کو متوجہ کرتے ہوئے کہاکہ عالمی مالیاتی ادارو ں کی بجائے ملکی اور عوامی مفا د مدنظر رکھ معاشی اصلاحات لائی جائیں ۔