یادِش بخیر سید محمد جعفر نقوی رحمہ اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر امجد عباسمیں نے مدرسہ مظہر الایمان میں اسلام شناسی کے لیے داخلہ لیا، عمدہ نظامِ تعلیم کے ساتھ اِس مدرسہ کی ایک وجہءِ شہرت یہ بھی تھی کہ یہاں آغا زادے بڑی تعداد میں پڑھتے ہیں۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ ملتان سے اُستاذ العلماء حضرت علامہ سید محمد تقی نقوی حفظہ اللہ کے تین فرزند یہاں مشغولِ تعلیم ہیں۔ میرے لیے بڑی حیرت کی بات تھی کہ تینوں بھائی ایک ہی مدرسہ میں بیک وقت زیرِ تعلیم ہوں۔ اِن کی عمروں میں معمولی معمولی اختلاف تھا وہیں کلاسیں بھی مختلف تھیں اور ہاں مزاج بھی الگ الگ۔ بڑا بھائی سید محمد جعفر نقویؒ انتہائی عبادت گزار، اچھا پڑھنے والا، جبکہ سید علی سجاد نقوی بلا کا ذہین اور تیز، لیکن پڑھائی کے معاملے میں قدرے لا پروا ہاں منطقی اور فلسفی ابحاث اُس کی پسندیدہ ہیں، سیاست میں بھی خوب وارد، تیسرا بھائی سید محمد باقر اچھا لائق اور محنتی، تاحال مشغولِ تعلیم۔ میری شروع سے ہی اِن ” ثلاثہ” سے اچھی رفاقت رہی۔
مظہر الایمان سے فراغت کے بعد یہ تینوں بھائی جامعہ الکوثر، اسلام آباد میں مزید تعلیم کے لیے چلے آئے، میں نے بھی یہیں داخلہ لیا۔ سید محمد جعفر نقوی یہاں بھی انتہائی مؤدب، عبادت گزار اور محنتی طالب علم کے طور پر پہچانے جانے لگے، اِنھیں خطابت کا شوق و ذوق بھی وراثت میں ملا تھا، کبھی کبھار خطیبانہ انداز میں علمی گفتگو فرمایا کرتے۔ جامعہ الکوثر میں ابتداء میں، میں قاری طاہر رضا صاحب کے کمرے میں رہا، لیکن بعد میں وہ اُستاد بن کر جامعہ میں پڑھانے لگے تو اُنھیں الگ کمرہ دے دیا گیا، یوں میں کمرہ 406 میں آگیا۔ یہاں محترم پروفیسر غلام اصغر صاحب جلوہ افروز تھے، ساتھ میں سید محمد جعفر نقویؒ بھی رہائش پذیرتھے۔ میری ذہنی و فکری آوارگی (تنوع) کا آغاز یہیں سے ہوا جس کے بڑے مُحرک اصغر صاحب ہیں، یہ مختلف قسم کی کتابیں لاتے، ہم مل کر مطالعہ کے بعد باضابطہ بحث و مباحثہ کیا کرتے، ہمارے ساتھ سید انور شاہ صاحب بھی شریک ہوجایا کرتے، وہ بے تحاشا اشعار پھینکتے۔۔۔ یوں مختلف کتابیں پڑھنے، بحث و مباحثہ کرنے کے ساتھ مجھے شعر و شاعری سے بھی شغف ہوا۔ اصغر صاحب کبھی خفا ہوئے نہ ناراض، یہی رویہ سید محمد جعفر نقوی کا تھا، اُن کے ساتھ گزرے دن ہمیشہ یاد رہیں گے۔ ہم تینوں کبھی کبھار رات گئے تک باتیں کرتے رہتے۔ سید محمد جعفر نقوی ہمیشہ نمازِ تہجد ادا کرتے۔ صبح جب میں نمازِ فجر کے بعد سوجایا کرتا، نقوی صاحب تلاوتِ قرآن مجید میں مشغول ہوجایا کرتے۔ صبح تہجد کی نماز، پھر فجر کی نماز پھر تلاوتِ قرآن مجید اُن کے معمولات کا حصہ تھا۔ فارغ اوقات میں تسبیح کے دانے یا اپنی انگوٹھی کو تسبیح کے دانوں کی طرح گھماتے ہی اُنھیں پایا گیا۔ کبھی کمرے میں اکیلے ہوتے تو رات بھر تلاوتِ قرآن مجید کیا کرتے۔ نقوی صاحب کا حلقہءِ احباب کافی وسیع تھا، وہ دوستوں میں ہنس مُکھ، عبادت گزار اور انتہائی محترم شمار کیے جاتے تھے۔ جود و سخا میں بھی اُن کا کوئی ثانی نہ تھا۔ میں نے اُنھیں قریب سے دیکھا لیکن “ما رأیت الا جمیلا” کہ اُن کی زندگی خوبیوں ہی خوبیوں سے لبریز تھی۔ نقوی صاحب غیبت سے بہت پرہیز کیا کرتے، اُن کی موجودگی میں کسی کا ذکرِ بد کرنے کی کسی میں ہمت نہ ہوتی، غصے سے کہتے جب وہ آدمی یہاں نہیں تو اُس کا تذکرہ ہی کیوں کرنا۔ چلیں کوئی اور بات کیجیے۔ موصوف اساتذہ کا ازحد احترام کیا کرتے تھے، مدرسہ مظہر الایمان اور جامعہ الکوثر میں نہایت سادگی سے رہے۔ اِن تینوں بھائیوں کو اضافی مراعات حاصل نہ تھیں نہ اِن کا کبھی ایسا مطالبہ رہا۔ جامعہ الکوثر مین ایک عرصہ پڑھنے کے بعد سید محمد جعفر نقویؒ، نجف اشرف (عراق) میں، مزید تعلیم کے لیے تشریف لے گئے، وہاں اُن کی طبیعت خراب ہوئی، علاج کے سلسلے میں وطن لوٹے، یہاں کینسر کی تشخیص ہوئی۔ اِس دوران نقوی صاحب اپنے مدرسہ مخزن العلوم ملتان میں پڑھاتے بھی رہے۔ کچھ عرصہ سے اُن کی طبیعت زیادہ ناساز تھی، اُنھیں ہسپتال داخل کروا دیا گیا، کل (24 اکتوبر) رات میسج دیکھا کہ اُستاذ العلماء حضرت گُلاب علی شاہؒ کے پوتے، قائدِ ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی کے بھانجے، علامہ سید محمد تقی نقوی کے فرزند مولانا سید محمد جعفر نقویؒ انتقال فرما گئے، دِل دھک سے رہ گیا، آنکھیں نم ہوگئیں، ایک اُداسی چھا گئی۔۔۔ میں خانہءِ خیال میں، بیتے دنوں کا سراغ لگاتا رہا۔ شاہ صاحب عالمِ جوانی میں ہی ہمیں داغِ مفارقت دے گئے۔
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائیدار میں!
خبرِ غم سُن کر جامعہ کے طلاب و اساتذہ غم زدہ ہیں، ڈاکٹر ندیم عباس صاحب جلدی سے میرے کمرے میں آئے اور پریشانی کے عالم میں بتایا۔۔۔ ہم دونوں کافی دیر تک شاہ صاحبؒ کا ذکرِ خیر کرتے رہے۔ سچ پوچھیے دل بہت بوجھل ہے، ہاں اُن کے جنازے میں شرکت نہ کرپانے کا بھی غم ہے۔ وہ گُلاب جیسا جوان، ایک پَل میں مرجھا گیا۔۔۔ ہاں اُس کی خوشبو باقی رہے گی، اُس کی یادیں، اُس کی باتیں، اُس کا کردار ہمارے ذہنوں سے نہیں مٹ سکتے۔ یہ چند باتیں تحریر کرتے ہوئے مجھے یقین نہیں ہورہا کہ سید جعفر وفات پا گئے، لیکن وہ تو اُسی طرح میرے دل و دماغ میں بستے ہیں، ہاں اُن کی مخصوص طرز کی مسکراہٹ ابھی بھی دکھائی دے رہی ہے۔
کل کی ہے بات جوش پہ تھا عالم شباب
یادش بخیر آج اک افسانہ ہو گیا
اللہ تعالیٰ سید محمد جعفر نقویؒ کی مغفرت فرمائے۔ قارئین سے بھی گزارش ہے اُنھیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔ اللہ تعالیٰ اُن کے اعزاء و اقارب کا حامی و ناصر ہو۔