یکساں قومی نصاب ِ تعلیم اصلاح و پیش رفت مرتبہ: سید اظہار بخاری

یکساں قومی نصاب ِ تعلیم
حقائق و پیش رفت
سید اظہار بخاری
وطن ِ عزیزپاکستان میں یکساں قومی نصاب ِ تعلیم کے نفاذ کا اعلان کے بعد ہم نے قومی قیادت کی براہِ راست رہنمائی کے ساتھ ذاتی کاوشوں کا آغاز کیا اور تقریباً گذشتہ ایک سال سے نہ صرف یکم جماعت سے دہم تک سلیبس کا دقیق مطالعہ و تجزیہ جاری ہے بلکہ شائع شدہ نصابی کتب کے حرف حرف کا جائزہ و اصلاح بھی جاری ہے۔ اگرچہ بعض دیگر اداروں کی طرف سے کوششیں کی گئیںجو لائق ِ تحسین ہے لیکن ہم نے اس منظم خدمت کو وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے پلیٹ فارم سے آگے بڑھایا کیونکہ وفاق پہلے دن سے اس موضوع پر اسٹیک ہولڈر کی حیثیت سے شامل ہے اس لئے قیادت نے فیصلہ کیا کہ کسی تنظیمی یا شخصی فورم کی بجائے وفاق کے ذریعے ہی اس اہم قومی مسئلے پر اپنا موقف اور تحفظات پیش کئے جائیں۔
نصابِ تعلیم جیسے اہم موضوع پر کام کے دوران وفاق کے مرکزی جنرل سیکریٹری علامہ محمد افضل حیدری اور سرکاری نصاب کمیٹی میں وفاق کے نمائندے علامہ شیخ محمد شفاء نجفی صاحب سے مکمل رابطہ رہا۔ حالات کی تبدیلی اور کمیٹیوں میں ہونے والی پیش رفت کے مطابق موقف تشکیل دیا جاتا رہا۔ نصاب کے حوالے سے پائے جانے والے تحفظات اور کتابوں میں موجود اغلاط کی اصلاح پر مشتمل مختلف مسودات مختلف اوقات میں صدر پاکستان ‘ وزیر ِ اعظم پاکستان ‘ وزیر ِ تعلیم ‘ چیئرمین سینٹ ‘ اسپیکر سے لے کر قومی نصاب کونسل کے ذمہ داران حتی کہ صوبائی وزرائے تعلیم و وزرائے قانون تک اپنے موقف پر مبنی مسودات ارسال کئے۔
تازہ صورتحال یہ ہے کہ سرکاری قومی نصاب کونسل کی چھ ذیلی کمیٹیوںمیں نمائندگان کی شمولیت کے بعد یکم سے پانچویں تک اسلامیات کی کتب کا از سر ِ نو جائزہ لیا گیا جس میں مذکورہ نمائندگان کے علاوہ ہم علامہ شیخ محمد شفاء نجفی کی فرمائش پر شامل ہوئے ۔ گذشتہ کام کی روشنی میں ایک بار پھر دقت سے کتب کا جائزہ لیا اور پہلی سے پانچویں تک مجوزہ اصلاحات کا مسودہ علامہ شیخ محمد شفاء نجفی کے حوالے کیا۔ جس کے بعد انہوں نے دیگر اراکین کی مشاورت سے مسودے کو حتمی شکل دے کر صاحبانِ اختیار و اقتدار کے حوالے کردیا ہے۔ جس کے عملی جواب کا انتظار جاری ہے۔ جبکہ اسلامیات کے علاوہ دیگر مضامین مثلاً اردو ‘ معاشرتی علوم ‘ واقفیت ِ عامہ ‘ انگریزی ‘ سائنس وغیرہ پر سابقہ کام کو نئے سرے سے مرتب کیا جارہا ہے جسے حتمی شکل دے کر وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کی طرف سے متعلقہ حکومتی اداروں کو بھجوایا جائے گا۔
البتہ بزرگان کی رہنمائی میں وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے فورم سے نصاب ِ تعلیم کے حوالے سے اقدامات جاری رہیں گے۔ اور ان اقدامات کو نتیجہ خیز بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

یکساں قومی نصاب ِ تعلیم کے موقف کے حوالے سے

ضروری وضاحت
دیکھا گیا ہے کہ ہر سطح کے تنظیمی حضرات یکساں قومی نصاب ِ تعلیم کے حوالے سے اپنے بیانات ‘ تقاریر ‘ تحاریر اور سوشل میڈیا پر سرگرمی کے دوران قائد ِ محترم کی نگرانی میں اختیار کردہ اور شیعہ علماء کونسل پاکستان کی طرف سے آفیشلی شائع شدہ موقف یاد رکھنے ‘ نشر و اشاعت کرنے اور تحریر و تقریر میں استفادے کے لیے استعمال نہیں کرتے بلکہ مختلف اطراف سے غیر مستند اور سطحی و عامی زبان و الفاظ پر مشتمل موقف سے استفادہ کرتے ہیں اور سوشل میڈیا پر شیئر بھی کرتے ہیں جس سے عام آدمی اس موقف پر یقین کرکے اسے ہی آگے بڑھاتے ہیں اوروہ موقف بیشمار لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔ جس کے بعد اصلاح ممکن نہیں رہتی۔
تمام علمائے کرام ‘ عہدیداران اور کارکنان قومی و ملکی و عالمی مسائل میں صرف اور صرف مرکز کی طرف سے جاری شدہ موقف اور رپورٹ کو مستند سمجھیں اور اسے ہی قومی موقف کے طور پر نشر کرکے لوگوں تک پہنچائیں۔ یکساں قومی نصاب ِ تعلیم کے حوالے سے شیعہ علماء کونسل کی طرف سے ۲۰ جون ۲۰۲۱ء کو اس حوالے سے ’’اصلاح و پیش رفت ‘‘ کے عنوان سے موقف شائع کیاگیا ۔ اس کے بعد سے اب تک کی پیش رفت کی تفصیل پر مشتمل ’’ اصلاح و پیش رفت ‘‘ کا دوسراحصہ نشر کیا جارہا ہے۔ جسے شیئر کرنا تمام کارکنان کی ذمہ داری ہے تاکہ عوام تک صحیح صورتحال پہنچ سکے۔
اس وضاحت کے ہمراہ اسلامیات سمیت تمام مضامین میں ہمارا تفصیلی موقف اور اب تک ہونے والی پیش رفت کی تفصیلات موجود ہیں۔ تمام ذمہ داران و کارکنان ان مسودات کی ترویج و توسیع کریں اور اپنے بیان و تحریر میں اسی موقف کو مدنظر رکھیں۔

یکساں قومی نصاب ِ تعلیم
اصلاح و پیش رفت
مرحلہ دوم
مرتبہ۔ سید اظہار بخاری
گذ شتہ سے پیوستہ
ارباب ِ اقتدار و حکومت کو بذریعہ خطوط اور روابط متوجہ کرنے کے بعد ہم نے اپنی توجہات ختم نہیں کیں بلکہ اگلے مراحل پر کام جاری رکھا۔ اور علامہ محمد رمضان توقیر کی کاوش و تعاون سے صوبہ خیبر پختون خواہ سے اول تا پنجم کلاس کی کتب حاصل کرکے ان کی خواندگی شروع کر دی گئی اور ان میں موجود اعتراضات و اشکالات کی جمع آوری کا مرحلہ جاری ہوگیا۔جبکہ صوبہ سندھ ‘ آزادکشمیر اور بلوچستان سے کتب اور نصاب کی تحویل وترسیل پر کام کا آغاز کردیا گیا۔ اس کے علاوہ پرائمری یعنی جماعت اول تا پنجم کی انگریزی اور دیگر تقریباً مضامین کی کتب کا بھی از سرِ نو جائزہ شروع کردیا گیا۔
قومی نصاب کونسل کا موصولہ جوابی خط
اسی اثناء میں حکومت کی طرف سے ۲ اگست ۲۰۲۱ء کو جاری کردہ مراسلہ وفاق المدارس الشیعہ کے جنرل سیکریٹری علامہ محمد افضل حیدری کے نام موصول ہوا جس میں ہمارے ارسال کردہ گذشتہ خطوط (۱۴ ‘ ۱۹ جون ۲۰۲۱ء) کا تفصیلی جواب درج تھا۔ اس تفصیلی جواب میں کچھ نکات پر عمل درآمد کئے جانے کی اطلاع دی گئی ۔ کچھ نکات کو اگلی جماعتوں کی سلیبس کے نصاب و کتب میں شامل کرنے کا وعدہ کیا گیا۔ کچھ نکات پر عمل درآمد سے معذوری ظاہر کی گئی اور کچھ نکات کو حکومتی و پارلیمانی نوٹیفکیشنز کے ساتھ جوڑ کر اپنے محکمہ جاتی اختیارات سے باہر قرار دیا گیا۔
وفاق المدارس الشیعہ کی طرف سے جواب الجواب
چونکہ اس حکومتی جواب میں متعدد پیچیدگیاں اور جواب طلب امور شامل تھے اس لئے اس خط کا جواب الجواب تیار کیا گیا اور ۱۳ اگست ۲۰۲۱ء کو وفاقی وزیر تعلیم جناب شفقت محمود صاحب کے نام جناب علامہ محمد افضل حیدری کی طرف سے ارسال کردیا گیا۔ اس خط میں حکومت سے واضح تقاضا کیا گیا کہ
جن امور پر اقدامات کئے جا چکے
۔۔۔۔۔ یا ہمارے تقاضے پر نصاب و کتب میں تبدیلیاں لائی جا چکی یا
۔۔۔۔۔ ہمارے تقاضوں کی روشنی میں متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کی جا چکی ہے ۔
۔۔۔۔۔ اس تمام ریکارڈ کی کاپیاںہمیں فراہم کی جائیں ۔
تاکہ ہم اگلے مراحل میں مکمل یقین کے ساتھ حکومت سے تعاون جاری رکھیں ۔
حتمی مسودات کی فراہمی میں حکومتی تامل
اسی ضمن میں نصاب کمیٹی میں وفاق المدارس الشیعہ کے نمائندہ جناب علامہ شیخ محمد شفاء نجفی نے بھی زبانی اور تحریری طور پر قومی نصاب کونسل کے ذمہ داران سے بارہا مطالبہ کیا کہ جن مسودات کو ان کی کمیٹیوں نے حتمی شکل دی ہے اور جس مسودے پر ہم نے دستخط کئے ہیں کم از کم اس مسودے کی حتمی کاپی تو ہمیں فراہم کی جائے تاکہ ہم جس وفاق کی نمائندگی کر رہے ہیں اسے رپورٹ دی جاسکے اور دیگر علمی اور عوامی حلقوں کو بھی مطمئن کرسکیں۔ لیکن مسودہ فراہم کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا گیا۔
حکومت بیک فٹ پر اور نیا اعلان
روابط اور خط و کتابت کا سلسلہ ابھی جاری ہی تھا کہ حکومت نے ہماری طرف سے اور دیگر اطراف سے سامنے آنے والے اعتراضات کو سامنے رکھتے ہوئے قومی نصاب کونسل کے ذمہ داران میں اہم تبدیلیاں کیں اور یکساں قومی نصاب کو از سرِ نو تشکیل دینے کا اعلان کیا۔ اس حوالے سے نئی آنے والی کوآرڈینیٹر محترمہ مریم چغتائی نے جہاں علامہ شیخ محمد شفاء نجفی سے ملاقات کی اور مستقبل میں تعاون کی درخواست کی وہاں انہی محترمہ نے وفاق المدارس الشیعہ کو بلحاظ اسٹیک ہولڈر اکتوبر ۲۰۲۱ء کے آخر میں وفاق المدارس الشیعہ کے مرکزی جنرل سیکریٹری کے نام تفصیلی خط لکھا اور بتایا کہ حکومت یکساں قومی نصاب کا از سرِنو جائزہ لے رہی ہے لہذا اگلے دو تین روز میں یعنی ۲۸ اکتوبر تک اپنا جواب اور فیڈ بیک ہم تک پہنچائیں۔ لیکن انتہائی کم وقت اور مسلسل مصروفیات کے سبب حکومت سے معذرت کر لی گئی کہ مقررہ تاریخ یعنی ۲۸ اکتوبر تک تفصیلی جواب نہیں دیا جاسکتا ۔ البتہ چند روز بعد نصاب پالیسی اور یکساں قومی نصاب کے زیرو ڈرافٹ کا مطالعہ کرکے اپنا موقف بھجوا دیا جائے گا۔
حکومتی عدم تعاون اور وفاقوں کے نمائندگان کا معذ رت نامہ
اسی دوران جب علامہ شیخ محمد شفاء نجفی نے تنہا اور دیگر وفاقوں کے نمائندگان کے ساتھ محترمہ مریم چغتائی سے ملاقاتیں کیں تو اپنا جائز اصولی مطالبہ دہرایا کہ انہیں سابقہ حتمی مسودے کی کاپی فراہم کی جائے لیکن ان ملاقاتوں سے بھی مسئلہ حل نہیں ہوا بلکہ حکومتی ذمہ داران نے ٹال مٹول کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس رویے پر تمام اراکین تشویش میں مبتلا ہوگئے اور اپنے اپنے مراکز سے رابطہ کیا علامہ شیخ محمد شفاء نجفی نے بھی وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر علامہ آیت اللہ سید ریاض حسین نجفی اور جنرل سیکریٹری علامہ محمد افضل حیدری کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا اور مشاورت کرنے کے بعد فیصلہ کیا کہ حکومت جب تک سابقہ مسودات والے معاملات واضح نہیں کرتی اور آئے روز شکوک و شبہات پیدا کرنے کا سلسلہ بند نہیں ہوتا تب تک تعاون معطل کردیا جائے۔ اس فیصلے کی روشنی میں تمام وفاقوں کے اراکین بشمول علامہ شیخ محمد شفاء نجفی نے بذریعہ واٹس اپ محترمہ مریم چغتائی کو اپنے اپنے معذرت نامے بھجوا دئیے۔
ازسرنو تجاویز کے حکومتی اشتہار کی حقیقت
ایک طرف حکومت نے بذریعہ اخباری اشتہار اور سوشل میڈیائی مہم کے عوام‘ اساتذہ ‘ والدین ‘ طالب علموں اور قومی و صوبائی ماہرین
سے اپیل کی کہ یکساں قومی نصاب کے پہلے مرحلے کا معیار بہتر بنانے کے لیے اپنی قیمتی تجاویز اور آراء ۲۰ دسمبر ۲۰۲۱ء تک قومی نصاب کونسل کو ارسال فرمائیں ۔
دوسری طرف بعض موثر و موثق ذرائع بتارہے تھے کہ ایک بار پھر روایتی طریقے سے نصاب تیار کیا جارہا ہے اور متعدد ٹیمیں اس پر تیزی سے اور مسلسل کام کررہی ہیں بلکہ کام کافی حد تک مکمل ہوچکا ہے لیکن مذہبی و سیاسی و علمی طبقات کو مذکورہ بالا اشتہار میں الجھا کرخوش کیا جارہا ہے۔ اس اشتہار اور اعلان کو بھی اسی روایت کا حصہ قرار دیا گیا کہ جس میں ملازمین تو پہلے ہی منتخب کر لئے جاتے ہیں لیکن عوام راضی کرنے اور روٹین پوری کرنے کے لیے اخبارات میں ملازمت کے اشتہار شائع کرا دئیے جاتے ہیں۔
شیعہ زعماء کی پریس کانفرنس
جامعۃ المنتظر لاہور میں شیعہ علماء کونسل پاکستان ‘ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان اور ادارہ منہاج الحسین پاکستان کے اکابرین نے مشترکہ پریس کانفرنس کے ذریعے یکساں نصاب تعلیم میں اپنے تحفظات بیان کئے اور حکومت پر واضح کیا کہ جب تک ہمارے تحفظات اور اشکالات دور نہیں کئے جاتے تب تک ہم اس نصاب کو قبول نہیں کریں گے۔ اس پریس کانفرنس کے بعد اطراف سے مذہبی رہنمائوں ‘ علمائے کرام ‘ مدارس کے ذمہ داران ‘ خطباء و ذاکرین سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں نے یکساں نصاب تعلیم کے حوالے سے احتجاجی مہم چلائی تاکہ حکمرانوں تک بات اور موقف پہنچ سکے۔
بزرگ علماء کی نگرانی میں اجلاسات
سرکاری و حکومتی روابط کے بعد بزرگ علمائے کرام کی نگرانی میں اجلاسات منعقد ہوئے جس میں شیعہ علماء کونسل سمیت مختلف شیعہ تنظیموں اور شخصیات نے شرکت کی ۔ اور حکومت کے ساتھ ہونے والے روابط و بات چیت اور مذاکرات کے پیش نظر اپنا آئندہ کا لائحہ عمل اختیار کرنے کے بارے میں مشاورت کی۔اور سرکاری کمیٹیوں میں نمائندگی لینے اور نصاب کے حالیہ مسودات پر دستخط کے حوالے سے موقف تشکیل دیا۔ اس دوران قائد ِ محترم سے بھی رہنمائی و مشاورت لی جاتی رہی۔
سرکاری کمیٹیوں میں نمائندگی
اس مہم کے نتیجے میں مقتدر حلقے متحرک ہوئے اور انہوں نے وفاق المدارس الشیعہ پاکستان سے رابطہ کرکے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ اسلامیات کے نصاب کی تیاری کے لیے مقرر کردہ تمام کمیٹیوں میں نمائندگی دی جائے گی ۔ وفاق علمائے شیعہ پاکستان نے بزرگ عالم دین اور جامعۃ الکوثر کے سربراہ علامہ شیخ محسن علی نجفی کی مشاورت سے چھ افراد (علامہ شیخ محمد شفا ء نجفی ‘ ڈاکٹر سید محمد نجفی ‘ ڈاکٹر علی حسین عارف ‘ ڈاکٹر ساجد سبحانی ‘ ڈاکٹر ندیم عباس بلوچ اور سید امتیاز رضوی ) کو مذکورہ سرکاری کمیٹیوں میں نمائندگی کے لیے نامزد کرکے حکومت کو نام ارسال کردئیے جس کے نتیجے میں سات فروری ۲۰۲۲ کو ایک سرکاری نوٹیفکیشن کے ذریعے چھ افراد کو اسلامیات کے نصاب کی تیاری کی مختلف کمیٹیوں میں شامل کردیا گیا۔
بعض جوانب سے اعتراضات
۱۔ سرکاری کمیٹیوں میں نمائندگی موثر نہیں ہے ۔ جس میں توازن نہیں رکھا گیا۔ جہاں قومی جماعت سے نمائندہ شامل نہیں کیا گیا وہاں نصاب کے موضوع پر دسترس رکھنے والے اور علماء میں علمی مقام کے حامل افراد بھی شامل نہیں کئے گئے۔ جس کی وجہ سے مستقبل میں تشیّع کا موقف درست انداز میں پیش نہیں ہو پائے گا ۔
۲۔ نصاب کمیٹیوں نمائندگی صرف اسلامیات تک محدود ہے۔ دوسرے مضامین میں موجود اعتراضات کے ازالے اور نصاب کی اصلاح کے لیے سرکاری کمیٹیوں میں نمائندگی حاصل نہیں کی گئی جس کی وجہ سے ہماری جدوجہد قومی سطح سے محض مسلکی سطح تک پہنچا دی گئی ہے۔
۳۔ وفاق المدارس الشیعہ نے گذشتہ سات آٹھ ماہ حکومت سے خط و کتابت اور روابط میں اسلامیات کے علاوہ دیگر مضامین اور درود میں تبدیلی کے عناوین شامل رکھے ہوئے تھے لیکن کمیٹیوں کی تشکیل اور دستخط کے موقع پر اپنے آپ کو اسلامیات تک محدود کرکے اپنے ہی سابقہ مطالبات سے غیر مشروط دستبرداری اختیار کر لی جس سے تشیع کا قومی نقصان ہونے کی باتیں کی جارہی ہیں۔
کمیٹیوں اور دستخط کے نتائج کا مستقبل میں کوئی واضح یقین نہیں ہے کہ آئندہ سال کس قدر ہمارے مطالبات کو نصاب میں شامل کیا جاتا ہے۔
تعقیب جاری ہے
یکساں قومی نصاب ِ تعلیم کے اہم ترین معاملے کو خالی نہیں چھوڑا جائے گا اور اس پر ہر ممکن اقدام جاری رکھا جائے گا۔
موجودہ حکومتی انداز پر نہ صرف گہری نظر رکھی جارہی ہے بلکہ روابط کے ذریعے باور کرایا جارہا ہے کہ حکومتی ادارے یکساں قومی نصاب کی تشکیل اور بہتری کے لیے تمام طبقات بالخصوص مکتب ِ تشیع جیسی حقیقت کوساتھ لے کر چلے تاکہ حکومتی دعوے کے مطابق
’’لسانی ‘ علاقائی ‘صوبائی ‘ مسلکی ‘ گروہی تعصب اور
فرقہ وارانہ سوچ سے بالاتر ہوکر ملی اتحاد قائم کیا جاسکے ‘‘