تازه خبریں

اسلامی تحریک پاکستان گلگت بلتستان کے صوبائی کابینہ کا ایک اہم اجلاس

سکردو۔(جعفریہ پریس ) اسلامی تحریک پاکستان گلگت بلتستان کے صوبائی کابینہ کا ایک اہم اجلاس آج علاقائی کیمپ آفس سکردو میں زیر صدارت حجتہ الاسلام علامہ سید عباس رضوی منعقد ہوا ۔ اجلاس میں صوبائی سینئر نائب صدر دیدار علی، ،کیپٹن شفیع صاحب ممبر اسمبلی، شیخ فدا حسن عبادی، شیخ یعقوب آخوندی سمیت دیگر رہنما موجود تھے ۔ اجلاس میں اسلامی تحریک پاکستان کے مرکزی رہنما جناب شیخ مرزا علی صاحب نے خصوصی شرکت کی ۔ اجلاس میں علاقائی صورت حال کا بغور جائزہ لیا گیا اور اہم فیصلے کیے گئے اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا جبکہ زرائع کے مطابق چند دن بعدوزیر اعظم پاکستان دورئے پر گلگت بلتستان آرئے ہیں ۔ اجلاس میں طویل مشورئے اور مشاورت کے بعد ارباب اقتدار سے مطالبات بھی کیے گئے۔وفاق سے پر زور مطالبہ کیا گیا ہے کہ کشمیر انتخابات ہو چکے ہیں گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کی کمیٹی کو اس خطے کی بنیادی شناخت اور حیثیت کا جلد تعین کردینا چاہیے یہ اس خطے کے لاکھوں عوام کا دیرینہ مطالبہ ہے ۔ اور 68سالہ محرومیوں کا واحد اور مناسب ازالہ اس خطے کی آئینی حیثیت کا تعین ہے ۔اجلاس میں ارباب اقتدار سے سی پیک منصوبے کے بابت مطالبہ ہے کہ وہ اس اہم قومی منصوبے میں جی بی کو ہرگز نظر انداز نہ کریں ۔ اجلاس میں وزیر اعظم پاکستان کے دورئے کو اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم گلگت سکردو روڈ کی تعمیر کو یقینی بنائے نہ کہ رسمی طور پر تختی لگا کر حسب روایت عوام کو طفل تسلی سے خوش کراکے واپس چلے جائیں۔ ایسی صورت میں یہ اس خطے کے عوام کے ساتھ مذاق ہوگی ۔ اجلاس میں قومی اداروں اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ اس خطے کی عوام کی اپنے زمینوں پر حق ملکیت کو تسلیم کرتے ہوئے عوام سے یہ حق نہ چھینا جائے۔ اس خطے کے ایک بنیادی مسئلہ ختم نہیں ہوتا دوسرا سر اٹھا تا ہے وفاق کی جانب سے حالیہ گندم کوٹے میں کٹوتی کو سخت تشویش کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے وفاقی حکومت سے پر ذور مطالبہ ہے کہ اس فیصلے کو فی الفور واپس لیا جائے۔ اورریاست و ارباب اقتدار کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ جب تک اس خطے کو مرکزمیں آئینی دائرے میں شامل نہیں کرتا مرکز کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ یہاں ٹیکس کی نفاذکی بات بھی کرئے۔ اسمبلی کی بات کرئے تو عوامی نمائندگان کو زیادہ سے زیادہ عوام کی خدمت کے لیے مواقع فراہم کیے جائے، خواتین ممبران اسمبلی اور ٹیکنوکریٹ ممبران کی سال گزشتہ فنڈز میں کٹوتی افسوسناک تھی اس سال ان کو برابری کے فنڈز مہیا کیے جائیں۔