سرور کائنات کی تعلیمات ، اسلام کوسمجھا گیا ہوتا تو مسلمانوں پر دہشت گردی کا الزام نہ لگتا، علامہ سبطین سبزواری
امریکی استعماری ایجنڈے کے تحت مسلم ممالک میں خانہ جنگی کروائی جارہی ہیں ، اسلام امن اور استدلال کا مذہب ہے، دہشت گردی سے تعلق نہیں،
وزارت نقوی ایڈووکیٹ مرحوم کاچہلم قومی کنونشن کا منظر پیش کرے گا، قائد ملت اسلامیہ تنظیمی لائحہ عمل دیں گے، ضلعی عہدیداروں سے خطاب
لاہور (اسٹاف ) شیعہ علما کونسل پنجاب کے صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے کہا ہے کہ سرور کائنات خاتم الانبیا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم کی تعلیمات اور اسلام کو حقیقی معنوں میں سمجھا گیا ہوتا تو آج مسلمانوں پر دہشت گردی کا الزام لگتا اور نہ ہی اسلام دہشت گرد مذہب کہلاتا، جوکہ استعماری ایجنٹوں اور تنگ نظر ملاوں کا کیا دھرا ہے۔ امریکی استعماری ایجنڈے کے تحت مسلم ممالک میں خانہ جنگی کروائی جارہی ہیں اور شہنشاہی خاندان عوامی حقوق سلب کررہے ہیں ۔اسلام امن اور استدلال کا مذہب ہے، اس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی بندوق کے زور پر کسی پر حکومت کرنے یا مذہب تبدیل کروانے کا درس دیتا ہے۔گلے کاٹنے والے مسلمان نہیں ہوسکتے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور،ساہیوال، لیہ، مظفر گڑھ، بھکر، جھنگ، ملتان،میانوالی،اور سرگودھامیں بزرگ رہنما سید وزارت حسین نقوی ایڈووکیٹ مرحوم کے قصر زینب بھکر میں یکم جنوری کومنعقد ہونے والے چہلم کی تیاریوں کے سلسلے میں ضلعی کابینہ کے اجلاسوں سے خطاب میں کیا۔ علامہ سبطین سبزواری نے کہا کہ اسلام تلوار نہیں،تبلیغ ، امن اور اخلاق حسنہ کے عملی نمونے کے ذریعے پھیلا ۔دہشت گردی کے ناسور نے ان ممالک کا بھی رخ کرلیا ہے، جنہوں نے ان دہشت گردوں کو تربیت دی اور اپنے استعماری ایجنڈے کے ذریعے استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج شام اور برما میں انسانی حقوق کی پائمالی جاری ہے تو اس کی بنیادی وجہ امت مسلمہ کی بے حسی اور دوسرے ممالک میں مداخلت ہے۔ اقوام متحدہ اور او آئی سی کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ بابائے تحریک وزارت نقوی کے چہلم کا اجتماع صوبائی قومی کنونشن کا منظر پیش کرے گا، جس میں پنجاب بھر سے ضلعی عہدیدار، خیبر پختونخواہ، سندھ ، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے صوبائی صدور اور قریبی اضلاع سے کارکن شریک ہوں گے۔شیعہ علما کونسل پنجاب کے صدر نے کہا کہ وزارت نقوی، قائد ملت اسلامیہ علامہ سید ساجد علی نقوی کے بااعتماد ساتھی اور تشیع کے محسن تھے۔ان کے چہلم کے موقع پر ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔جبکہ اپنے خصوصی خطاب میں قائد ملت اسلامیہ ملکی سیاسی اور عالمی صورت حال پر قومی موقف پیش کریں گے اور کارکنوں کو نیا تنظیمی لائحہ عمل بھی دیں گے۔