حکومتوں کی کامیابی انصاف کی فراہمی میں پوشیدہ ہے اس لئے انسانی معاشرہ میں عدل و انصاف ، امن و امان کے قیام کیلئے قانون اور قانون کے اجراء کیلئے حکومت کی ضرورت رہی ہے مگر زمینی حقائق اس کے بر عکس نظرآتے ہیں .محسوس ایسا ہوتا ہے کہ جی بی حکومت عوام کے اندر پائی جانے والے غیض و غضب کی بھڑاس کیپٹن شفیع پر نکال رہی ہے اور ممبر اسمبلی کے ساتھ جو رویہ اپنایا جا رہا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام کے انصاف کی امید دم توڑ جائے اور یہ صورت حال آفات میں حکومتی بے بسی کا مشاہدہ کرنے والے متاثرین پر بجلی گرانے کے مترادف ہے .ان خیالات کا اظہار شیخ مرزا علی نے اپنے ایک اخباری بیان میں کیا اور مزید کہا کہ یہ مرحلہ افسوسناک ہے کہ ریلیف تو دور کی بات اب تک بہت سے علاقوں میں حکومت متاثرین کے مسائل دیکھنے بھی نہیں پہنچی سکی ہے جو تباہ حال علاقوں اور متاثرین کیلئے آفت سے بڑی آفت ہے اور سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ لینڈ سلائڈنگ کی پیشگی پیشنگوئی کے بعد کامیاب حکومتیں الرٹ جاری کر دیتی ہیں اوریہاں آفت آجانے اور تباہی کے بعد بھی قابل ذکر اقدام نہیں کیا جاتا متاثرین بے سر و سامانی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیںآج بھی ہیراموش کے بالائی علاقوں اور ہسپر کا زمینی رابطہ صفحہ ہستی سے مٹ چکا ہے. پٹرول پمپوں پر سرکاری پہرا لگا دیا گیا ہے اور مسافروں اور طالب علموں کیلئے تندور بند ہو چکے ہیں گھروں میں فاقوں کی نوبت آچکی ہے .ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت حقیقی حکمرانی کا کردار ادا کرے اور متاثرین کی دلجوئی کے ساتھ حفظ ما تقدم کے طور پر موجودہ بحران کی خامیوں پر قابو پاتے ہوئے ممکنہ آفات کیلئے منصوبہ بندی کی جائے ۔