جعفریہ پریس اراکین تشکل شہید عارف حسینی کے ساتھ نشست میں علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی کا پاکستان کے موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان میں علماء کرام کی جانب سے عوام کی تربیت کے بعد حالات کو درست کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور ان کوششوں میں کافی مثبت نتائج حاصل کئے گئے ہیں اس وقت عام عوام ان باتوں کی طرف متوجہ ہو چکی ہے کہ ملک پاکستان کی موجودہ صورتحال کے ذمہدار کون لوگ ہیں ؟ علامہ شہنشاہ حسین نقوی کا اپنے تنظیمی خطاب میں کہنا تھا شیعیان پاکستان کی موجودہ قیادت ماضی کی تمام قیادتوں سے مضبوط قیادت ہے اور اس کی ایک وجہ اعصاب کی مضبوطی ہے کہ جو کسی بھی لیڈر کے لئے انتہائ ضروری ہوا کرتا ہے علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی کا کہنا تھا کہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے قومی معاملات میں کئ معجزاتی فیصلے کئے ہیں جن کی نظیر کہیں اور نہیں ملتی ۔ شیعیان پاکستان کے داخلی مشکلات پر تبصرہ کرتے ہوئے علامہ صاحب کا کہنا تھا کہ کچھ سالوں پہلے پیدا ہونے والی شدت اب ختم ہو چکی ہے اور وہ لوگ کہ جو بہت شدت پسند تھے اب تبدیلی کی طرف آچکے ہیں علامہ صاحب نے کہا کہ قائد ملت جعفریہ کی ایک اور خاص خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کو بہت جلد بھلا دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں سید شہنشاہ حسین نقوی نے اصفہان میں موجود نظریہ قیادت کے ساتھ منسلک تشکل شہید عارف حسینی کی کارکردگی کو سراہا اور اطمئنان کا اظہار کیا ۔ علامہ شہنشاہ نقوی کے ہمراہ دفتر قائد ملت جعفریہ پاکستان قم المقدسہ میں محرم الحرام کمیٹی کے صدر حجت الاسلام جبار حسین اعوان ۔ مسؤل شعبہ زائرین سید ناصر عباس نقوی انقلابی مولانا قمر علی ۔ برادر سید باقر عباس نقوی وجود تھے