قائد اعظمؒ ؒ کے افکار و تعلیمات پر عمل پیراہوکرہم اپنے مستقبل کو محفوظ بناسکتے ہیں ،قائد ملت جعفریہ پاکستان اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے ،کرسمس کے تہوار پر تمام مسیحی برادری کو مبارک باد پیش کرتے ہیں
راولپنڈی/ اسلام آباد 24 دسمبر2020 ء( جعفریہ پریس پاکستان )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی 25دسمبر بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے 145ویں یوم ولادت کے موقع پرکہتے ہیں کہ اس دن ایسے عظیم رہنما کا جنم ہوا جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو علیحدہ وطن دیا اور دنیا اسے قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے نام سے جانتی ہے۔قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے یوم ولادت پر اپنے پیغام میں علامہ ساجد نقوی کا کہنا ہے کہ قائد اعظم نے برصغیر کے مسلمانوں کی الگ شناخت اور سیاسی سمت کا تصور دیا، ہمیں متحد ہو کر قائد اعظم کی تعلیمات پر قائم رہنے کے عزم کا اعادہ کرنا ہے اور ترقی کے لیے اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کے اصولوں پر عمل پیرا ہونا ہے۔ قائداعظم آخری سانس تک مثالی جمہوریت اورقانون کی حکمرانی کے لیے پرعزم رہے، ہم ان کے افکار و تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر اپنے مستقبل کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔قائد ملت جعفریہ کا مزید کہناتھاکہ بانی پاکستان کا ایک ایک لفظ سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔11 اگست 1947 کو قائد اعظم نے کراچی میں پاکستان کی پہلی قومی اسمبلی سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اِس مملکت پاکستان میں آپ آزاد ہیں، اپنے مندروں کو جانے کے لیے، اپنی مساجد کو جانے کے لیے، اور دیگر عبادت کے مقامات کو جانے کے لیے۔ آپ کسی بھی دین، مذہب، ذات یا عقیدے سے تعلق رکھتے ہوں، کارِ ریاست کا اِس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ 2 جنوری 1948ءکو کراچی میں اخبارات کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے قائد اعظم نے ارشاد فرمایا ”اسلامی حکومت کے تصور کا یہ امتیاز پیش نظر رہنا چاہیئے کہ اس میں اطاعت اور وفا کا مرکز اللہ تعالی کی ذات ہے، جس کی تعمیل کا عملی ذریعہ قرآن کے احکام و اصول ہیں۔ اسلام میں اصلاً نہ کسی بادشاہ کی اطاعت ہے، نہ پارلیمنٹ کی، نہ کسی شخص یا ادارے کی، قرآن کریم کے احکام ہی سیاست و معاشرت میں ہماری آزادی اور پابندی کی حدیں مقرر کرسکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اسلامی حکومت قرآنی احکام و اصولوں کی حکومت ہے۔ علاوہ ازیں کراچی میں سول و فوجی افسران سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظمؒ نے فرمایا ” میرا پختہ یقین ہے کہ ہماری کامیابی اور فلاح اسلام میں حضرت محمد جو عظیم قانون دان تھے کے مرتب کردہ سنہری اصولوں کو اپنانے میں پنہاں ہے۔ آئیے کہ ہم اسلام کے سنہری اصولوں پر مبنی جمہوریت کی بنیاد رکھیں۔ 14اپریل1948کو گورنر ہاوس پشاور میں اعلیٰ سرکاری ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے کہا”آپ کو کسی سیاسی جماعت کے ساتھ تعاون کرنے کی اجازت نہیں۔یہ آپ کا کام نہیں کہ آپ کسی سیاسی جماعت کی اعانت کریں۔ آئین کے تحت قائم کردہ کوئی بھی حکومت ہو بلا تفریق کہ کون وزیراعظم ہے اور کون وزیر ہے آپ کی ذمہ داری نہ صرف مکمل وفاداری کے ساتھ ان کی خدمت کرنی ہے بلکہ بے خوف ہو کر خدمت کرنی ہے۔علامہ ساجد نقوی نے کہاکہ بانی پاکستان محمد علی جناح کے دکھائے ہوئے راستے پر چل کرہی ہم ایک پائیدا راور مستحکم مملکت کی منزل کو حاصل کرسکتے ہیں۔علامہ ساجد نقوی کا مزید کہنا تھا کہ جس آزاد اور خود مختار مملکت کے قیام کی جدوجہد کو بانی پاکستان نے پایہ تکمیل تک پہنچایا اس کی سا لمیت اور بقا کے لئے ملک کے تمام طبقات پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پاکستان کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کر یں۔ یہی مشاہدہ سامنے آیا ہے کہ عوامی طبقات نے غربت‘ افلاس‘ تنگدستی اور دیگر مسائل و مشکلات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے وطن عزیز کی سلامتی و تحفظ کے لئے کماحقہ اپنی ذمہ داریاں اداکی ہیں اور قربانیوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ اِس نازک مرحلے میں حکمرانوں اور ذمہ داران طبقات کو بھی اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری سے ادا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ عرصہ دراز سے طبقاتی تفاوت‘ عدم مساوات‘ عدل و انصاف کا فقدان چلا آرہا ہے جس کا بنیادی سبب ذمہ دار طبقات کے غیر سنجیدہ اقدامات سمیت اپنے فرائض منصبی کو صحیح انداز میں انجام نہ دینا ہے جس کے تدراک کی ضرورت ہے۔علامہ ساجد نقوی کا کہنا تھا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے پاکستان کو داخلی طور پر مضبوط‘ مستحکم اور خوشحال بنانے کے لئے لازم ہے کہ ذمہ دارطبقات اچھے اور برے کی تمیز کو یقینی بنائیں تاکہ معاشرے سے بگاڑ‘ انتشار اور انارکی کا خاتمہ ہوسکے ۔ آخر میں علامہ ساجد نقوی نے 25 دسمبر کرسمس کے تہوار کے موقع پر تمام مسیحی برادری کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ بحیثیت پاکستانی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ ملک کی اِن اقلیتوں کو کسی بھی مرحلے پر عدم تحفظ یا امتیاز ی سلوک کا احساس نہ ہونے دیا جائے اور ہر حال میں اُن کے بنیادی اورانسانی حقوق کا تحفظ کیا جائے۔