قانون کی دھجیا ں بکھیرنے والے عناصر کی طرف سے قانون سازی کا مطالبہ تعجب انگیز ہے، ترجمان
وفاقی دارالحکومت میں شرپسند عناصر سرعام تکفیر کرتے رہے، اسلا م آباد انتظامیہ ٹس سے مس نہ ہوئی
اسلام آباد/راولپنڈی18 جنوری 2017 ء (اسٹاف )ترجمان قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہاہے کہ بدنام زمانہ تکفیری گروہ کی جانب سے نئے قانون بنانے کے مطالبے پر اپنے شدید رد عمل کا اظہار کیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں قوانین موجود ہیں، افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہم ایک مدت سے آئین کی بالادستی اور قانون کی عملداری کا مطالبہ کرتے آرہے ہیں مگر اس جانب دھیان ہی نہیں دیا جاتا، ملک میں قوانین موجود ہیں لیکن عملدرآمد کا فقدان ہے ۔ کچھ عرصہ قبل وفاقی دارالحکومت میں وزیر داخلہ سے ملاقات کا فائدہ اٹھایاگیا اور اسلام آباد کے قلب میں تکفیری گروہ کو جلسہ کرنے کی کھلی چھوٹ دی گئی ،شر پسند عناصر کی جانب سے سر عام تکفیر کی جاتی رہی اور یہ سب کچھ اسلام آباد انتظامیہ کی آنکھوں کے سامنے ہوتا رہا اور کوئی ٹس سے مس نہیں ہوا۔ اب تکفیری گروہ کی جانب سے نئے قانون بنانے کا مطالبہ کیا جارہاہے جوتعجب انگیز ہے ، جو خود قانون کوبالائے طاق رکھتے ہیں وہ کس منہ سے قانون بنانے کی بات کررہے ہیں ۔ ملک میں پائیدار امن کیلئے ضروری ہے کہ قوانین پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔