تازه خبریں

مسیحی چرچوں پر خود کش حملے اوربے گناہ لوگوں کے قتل پر جعفریہ یوتھ کی مذمت

جعفریہ پریس – جعفریہ یوتھ کے مرکزی ناظم اعلی سید اظہار بخاری نے لاہور کے علاقہ یوحنا آباد کے دو چرچوں پر ہونے والے خود کش دھماکوں کی سخت مذمت کی ہے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسیحی برادری پر ہونے والے حملوں کی نے صرف ایک مذہب کے لوگوں کا نقصان نہیں کیا بلکہ اسلام اور پاکستان کا نقصان کیا ہے اور حسب سابق اسلام اور پاکستان کو بدنام کرنے کی مذموم سعی کی ہے جس کی سزا دینا ریاستِ پاکستان کی اولین ذمہ داری ہے۔
سید اظہار بخاری نے کہا کہ ہر وہ مذہب اور مسلک دہشت گردوں کی زد پر ہے جو امن اور تعلیم کے ساتھ برداشت اور رواداری کو فروغ دیتا ہے۔ دہشت گردوں نے طے کرلیا ہے کہ وہ مساجد ‘ اما م بار گاہوں‘ اسکولوں اور چرچوں کو نشانہ بناتے رہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ریاستِ پاکستان اور حکومت پاکستان کے پاس اتنا حوصلہ اور جرات نہیں ہے کہ وہ انہیں سخت سزا سے دوچار کر سکے۔ اگر پھانسیوں کا عمل مصلحت اور خاص سمت پر مبنی پالیسی کا شکار نہ ہوتا تو آج مسلمانوں اور مسیحیوں کی عبادت گاہیں خون کی ندی کا نقشہ پیش نہ کررہی ہوتیں۔
جعفریہ یوتھ کے ناظم اعلی نے کہا کہ پارلیمنٹ سے متفقہ طور پر قانون منظور کروانے اور پھانسیوں کا اعلان کرنے کے فوائد ابھی تک عوام کو حاصل نہیں ہوئے خاص نوعیت کے مقدمات اور خاص نوعیت کے قاتلوں کی پھانسی دینے کے اعلانات ہورہے ہیں لیکن مختلف مذاہب اور مسالک کے پرامن پیروکاروں کے قاتلوں اور عبادت گاہوں میں خون کی ہولی کھیلنے والے سیکڑوں مجرموں اور دہشت گردوں میں سے کسی کو تختہ دار پر نہیں لٹکایا گیا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ نئے قانون کی زد میں دہشت گردوں کو لانے کی بجائے سیاسی اور پرامن مذہبی جماعتوں کے کارکنان کو لایا جارہا ہے۔
سید اظہار بخاری نے مطالبہ کیا کہ ہر قسم کی مصلحت ‘ غفلت ‘ سستی‘ کاہلی اور جانبدارانہ پالیسی کا بالائے طاق رکھ کر یوحنا آباد میں چرچوں کو خون میں نہلانے والے سفاک دہشت گردوں اور ان کے قاتلوں کو بے نقاب کرکے سرعام تختہ دار پر لٹکا کر خاتم النبیین ؐاور رحمت اللعالمینؐ کے دین میں موجود اقلیتوں کے تحفظ کے وعدے کا پورا کیا جائے اور پھانسیوں کے عمل میں تیزی لاتے ہوئے سفاک مذہبی دہشت گردوں کو تختہ دار پر لٹکانے کا عمل روزانہ کی بنیادوں پر شروع کیا جائے