ا سی پالیسی میں تسلسل برقرار رکھتے ہوئے عملی میدان میں بھی اقدام اٹھانا ضروری، ملک کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کےلئے طبقاتی نظام کا خاتمہ کرتے ہوئے معاشی اور سماجی پالیسیاں درست سمت پر چلانا ہونگی، ساجد نقوی اسلام آباد11 جون 2016 ء( جعفریہ پریس )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاہے کہ مشیر خارجہ اور آرمی چیف کاموقف قوم کے وقار کی ترجمانی ہے، اب اس پالیسی میں تسلسل برقر ار رکھتے ہوئے عملی میدان میں بھی ہمہ جہتی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، اسی تناظر میں قومی یکجہتی پیدا کرتے ہوئے آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی قائم کرنا ہوگی،داخلی پالیسیوں کو بہتر بنانا ہوگا اور ملک کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کےلئے طبقاتی نظام کا خاتمہ کرتے ہوئے معاشی اور سماجی پالیسیاں درست سمت پر چلانا ہونگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی امریکی وفد سے قومی سلامتی کے امور پر گفتگو پر تبصرے کرتے ہوئے کیا۔ علامہ سید ساجد علی نقوی کا کہنا تھا کہ جس طریقے سے موقف اختیارکیاگیاہے یہ قوم کے وقارکی ترجمانی کے ساتھ قوم کی توقعات کے عین مطابق ہے۔ انہوںنے کہاکہ ماضی میں ہماری خارجہ پالیسی کمزور رہی ہے جس کے باعث ہم برابری کی بنیاد پر عالمی سطح پر تعلقات استوار کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے ، یہ ہماری ہی غلطیوں اور خامیوں کا نتیجہ تھا کہ اگر کوئی اقدام ہوا بھی توہم ا س کے ثمرات سمیٹنے میں کامیاب نہ ہوسکے البتہ مذکورہ بالا اقدام سے لگتاہے کہ ہم اب متوازن اوردنیا سے برابری کی سطح پر تعلقات استوار کرنے جارہے ہیں جوکہ نہ صرف مستحسن اقدام ہے بلکہ قومی وقا ر کے عین مطابق ہے ۔ علامہ سید ساجد علی نقوی کا مزید کہنا تھا کہ اب اس پالیسی میں تسلسل برقرار رکھتے ہوئے اسے صرف الفاظ تک ہی محدود نہیں کرنا چاہیے بلکہ عملی میدان میں بھی اس کا اظہار ہونا چاہیے ، اسی تناظر میں قومی یکجہتی پیدا کرنے کی بھی ضرورت ہے جس کےلئے آئین کی بالادستی او رقانون کی حکمرانی ضروری ہے ، انصاف تک رسائی اور طبقاتی نظام کا خاتمہ بھی کرنا ہوگا ، ہمیں اب معاشی اور سماجی پالیسیاں بھی درست سمت پر چلانا ہونگی تاکہ ملک کو دوبارہ اس کی پٹڑی پر چڑھایا جاسکے اور یہی ترقی کی شاہراہ ہے جس پر گامزن ہوکر پاکستان ایک مرتبہ پھر اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرسکتاہے ۔