تازه خبریں

ممبر شوریٰ عالی وفاق المدارس شیعہ ممبر بین المذائب پاکستان اور سابق مشیر وزیر اعلٰی خیبر پختونخواہ علامہ محمد رمضان توقیر کی پریس کانفرنس

پشاور . شیعہ علما کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر ، ممبر شوریٰ عالی وفاق المدارس شیعہ ، ممبر بین المذائب پاکستان اور سابق مشیر وزیر اعلٰی خیبر پختونخواہ علامہ محمد رمضان توقیر نے وطن عزیز پاکستان میں حکومت کی جانب سے بیلنس کی ظالمانہ پالیسی کے تحت داعیانِ اتحاد بین المسلمین کے حامل شیعہ جید علماء کی شہریت منسوخی کی مذمت کرتے ہوئے اس اقدام کو متصبانہ قرار دیا ہے جبکہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں عزاداری پر درج کردہ ایف آئی آرز کو بھی غیر آئینی، غیر قانونی اور شہری آزادیوں کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے اور صوبائی حکومت سے مذکورہ ایف آئی آرز واپس لینے کے مطالبے کے ساتھ ساتھ عوام کے مذہبی اور شہری حقوق سلب کرنے کے ان اقدامات کا نوٹس لینے کی بھی اپیل کی ہے۔ اس امر کا اظہار شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ محمد رمضان توقیر نے شیعہ علماءکونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد علی آخونزادہ ، مرکزی شیعہ جامع مسجد کے خطیب علامہ ارشاد حسین خلیلی ، شیعہ جامع مسجد شہید علامہ عارف الحسینی کے خطیب علامہ جمیل حسن اور پرنسپل مدرسہ انوار الحسین کلایہ علامہ عابد حسین شاکری کے ہمراہ پشاور پریس کلب میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ علامہ رمضان توقیر نے واضح کیا کہ وطنِ عزیز پاکستان میں تشیعوں طویل عرصے سے جاری دہشت گردی کا سب سے زیادہ براہ راست شکار رہے ہیں۔ جن میں ڈاکٹرز ، انجینیرز ، وکلا ، صحافی ، علماء ، عزادار ، زائرین الغرض تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں جن کا قصور صرف اور صرف اُنکا محبِ وطن ہونا ہے، اور بقول اُ نکے آج بھی دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے اور شیعہ قوم ابھی تک صبر کا دامن تھامے ہوئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ آرمی پبلک سکول کے دلخراش سانحہ کے بعد نیشل ایکشن پلان کے تحت پاکستان کی بہادر افواج نے دہشت گردوں سے نمٹنے کا مستحسن اقدام کیامگر بدقسمتی سے حکومت میں شامل کچھ متعصب عناصر نے نیشنل ایکشن پلان کا رُخ دہشت گردوں اور اُنکے سہولت کاروں کی جانب موڑنے کے بجائے بیلنس کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے دہشت گردوں کی صف میں اُن شخصیات کو بھی شامل کیا جنکا دہشت گردی سے دور دور کا بھی تعلق نہیں۔ ان میں ایک بانی اتحادِبین المسلمین ، مفسرِ قرآن ، اُستاد العلماء ، امن کے علمبردار ، غریبوں ، یتیموں ، طلباء اور بے سہارا لوگوں کے مددگار علامہ شیخ محسن علی نجفی کی ہے جن کو مرکزی حکومت نے فورتھ شیڈول میں ڈال کر عدل و انصاف کا خون کیا۔ جو قابل مذمت فعل ہے۔ اُنہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بیلنس کی پالیسی کو ترک کرتے ہوئے شیخ محسن نجفی کا نام فوری طور پر فورتھ شیڈول سے نکالے بصورت دیگر ہم پُرامن احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں جسکے تحت کل ملک بھر کی جامع مساجد میں احتجاج کیا جائے گا جبکہ اگلے مرحلے میں تشیعوں کے خلاف اقدامات پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں آل پاکستان علما کانفرنس منعقد کر کے حکومت کی ظالمانہ بیلنس پالیسی کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔ شیعہ علما کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ محمد رمضان توقیر نے صوبہ خیبر پختونخواہ میں عزاداری کے خلاف ایف آئی آرز کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم پہلے ہی واضح کہہ چکے ہیں کہ عزاداری سید الشہداء تشیعوں کا آئینی اور بنیادی شہری حق ہے اور اس پر قدغن عائد کرنا غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام ہے جس پر ہم اپنا قانونی حق محفوظ رکھتے ہیں۔ اُنہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ان ایف آئی آرز کو واپس لیکر بعض متعصب اہلکاروں کی جانب سے عوام کو اُنکے مذہبی اور آئینی حق سے محروم کرنے کی گئی مذموم کوششوں کو ناکام بنائے۔