تازه خبریں

مُحسن مِلّت۔علّامہ سیّدصفدرحُسین نجفی طاہرعبداللہ

علامہ سید صفدر حسین نجفی 1932ء میں ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل علی پورکے ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ سید غلام سرور نقوی کے فرزند تھے جوعلاقے کی مشہورومعروف نقوی سید فیملی سے تعلق رکھتے تھے۔آپ کاشجرہءِ نسب سید جلال الدین سرخ پوش بخاری سے جاکرملتاہے جوحضرت امام علی نقی علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے۔ کوئی نہیں جانتاتھاکہ یہ مولودآگے چل کرمحسنِ ملت کے نام سے موسوم ہوگا اورپاکستان میں شیعیت کی تاریخ کواپنے کردار ، عمل، جدوجہد اورخلوص سے چارچاند لگادے گا۔ آپ اپنے ملک، قوم اورنوجوان نسل کیلئے اسلامی تمثیل تھے۔آپ اہل بیت علیہما السلام کے سچے پیروکارتھے اورآپ نے اپنی ساری زندگی الہٰی مشن کی ترویج اورفروغ کیلئے وقف کردی۔یہ کہنابجاہوگاکہ آپ اپنے دَورکے ابوذرتھے۔
آپ نے تین سال کی عمرمیں اپنی ماں کی آغوش میں بیٹھ کرقران مجید پڑھنا شروع کیا۔ اِس کے بعد آپ نے 8سال کی عمرمیں دینی تعلیم کا اپنے چچا استاد العلماء سید محمدیارشاہ نقوی نجفی سے آغاز کیاجوکہ ایک نامور،بہادراورنڈرمذہبی سکالرتھے۔ قبلہ یارشاہ مرحوم کے قابلِ ذکرشاگروں میں سید صفدر حسین نجفی کا نام ایک عظیم اورمنفرد شاگردکے طورپرآتاہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ آپ نے مختلف مراحل میں چھ اورقابلِ ذکرمدارس سے بھی تعلیم حاصل کی ۔جن میں استادالعلماء علامہ سید محمد باقرنقوی چکڑالوی المعروف علامہ باقرہندی کا مدرسہ خانیوال، مدرسہ باب العلوم ملتان، مدرسہ جلالپور ننگیانہ سرگودھا، مدرسہ سیت پورمظفرگڑھ، مدرسہ ٹھٹھہ سیال مظفر گڑھ اورایک اہل سنت کامدرسہ ملتان بھی شامل ہے ۔اِن مذکورہ مدارس میں آپ نے 1946ء تک تعلیم حاصل کی۔ پھر 1947ء سے 1950ء تک درسِ نظامی کیلئے مدرسہ صادقیہ خانپورمظفرگڑھ، مدرسہ خان گڑھ اورمدرسہ باب النجف جاڑا ،ڈی آئی خان میں تعلیم حاصل کرتے رہے۔ پھرآپ اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے 1951ء میں نجفِ اَشرف تشریف لے گئے۔باب العلم مولاعلی ؑ کے اِس مقدس شہرنجف میں پانچ سال تک آپ دُنیائے اسلام کے نامور علماء وفقہاء سے علم کے قیمتی موتی اپنے دامن میں سمیٹتے رہے جن میں قابلِ احترام اُستاداورعظیم شخصیات آیت اللہ سید محسن الحکیم، آیت اللہ ابوالقاسم خوئی، علامہ شیخ محمد علی افغانی، علامہ سید ابوالقاسم راشتی، آیت اللہ آغابزرگ تہرانی(جنہوں نے آپ کوحدیث کااجازہ دیا)، شیخ محمد تقی آلِ رضی، شیخ الجامعہ علامہ اخترعباس نجفی شامل ہیں۔ 1955ء میں پاکستان آکر آپ نے قومی اُمور میں اپنی خدمات کا آغاز کردیا۔آپ نے 1966ء میں جامعتہ المنتظرلاہور کاچارج سنبھالا۔اُس وقت پورے پاکستان میں جامعتہ المنتظر سمیت صرف اورصرف پانچ مدارس تھے اور یہ بات لمحہ ءِ فکریہ تھی ۔
ایران میں اِسلامی اِنقلاب کے بانی رُوح اللہ امام خمینی کاپاکستان میں تعارف اِنقلاب کی آمد سے کوئی 10سال پہلے اُن کی تصنیف کردہ کتاب توضیح المسائل کاترجمہ کرکے کرادیاتھا۔ آپ امام خمینی کے سچے عاشق اورمحب تھے۔ آپ کاامام خمینی سے بذریعہ خطوط اورپیغامات ایک مضبوط تعلق بنارہا۔ امام خمینی ہمیشہ آپ کی کوششوں اورکاوشوں کی حوصلہ افزائی فرماتے رہتے تھے بلکہ ایک بارتوآپ نے سیٹھ نوازش علی مرحوم کے ہمراہ امام خمینی سے اُن کی جلاوطنی کے دَور میں فرانس میں ملاقات کی۔ جس میں آپ نے امام خمینی کوفرانس میں قیام کی بجائے پاکستان آنے کی دعوت دی۔امام خمینی نے آپ کے خلوص اوردعوت کادل سے شکریہ اداکیااوراُن کی توفیقات خیرمیں اضافے کی دُعاکی۔انقلابِ اسلامی ایران کے بعد آپ پاکستان کے پہلے مذہبی سکالرہیں جو پاکستان میں اسلامی انقلاب اورامام خمینی کی انقلابی کاوشو ں کاتعارف تقریری اور تحریری انداز میں کراتے رہے۔یہ دِلّی اورروحانی تعلق امام خمینی کی وفات 3جون 1989ء تک رہا۔ آپ کی امام خمینی سے والہانہ محبت اورعشق کااندازہ اِس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ امام خمینی کی فوتگی اور تدفین کے بعد آپ نے قم المقدسہ ایران سے رخصت ہوتے ہوئے کہاتھاکہ اب امام خمینی کے بغیر رہنا بہت مشکل ہے۔ خداکاکرناایساہواکہ ٹھیک پانچ ماہ بعد 3دسمبر 1989ء کوآپ بھی خالقِ حقیقی سے جاملے۔
آپ کی یہ ہمیشہ خواہش رہی کہ اہلِ سنت اوراہلِ تشیع اکابرین کاایک پلیٹ فارم ہو اور یہی وجہ ہے کہ آپ کی اِنہی کاوشوں اوراقدامات کی وجہ سے تمام مسلمان بلاتفریق مسلک ومذہب آپ سے محبت کرتے تھے۔ محسنِ ملت نے شیعہ علماء کیساتھ ساتھ سنی علماء سے بھی قریبی اور مضبوط روابط قائم کر کے اتحادبین المسلمین کوفروغ دیا جبکہ علما اور ذاکرین کو اکٹھا کرکے اوراُن کے درمیان غلط فہمیوں کو دُور کرکے اتحاد بین المومنین کو بھی پروان چڑھایا۔ وہ ذاکرین پر زور دیا کرتے تھے کہ سٹیجِ حسینی پر کھڑے ہونے سے پہلے ذکرِ اہلِ بیت ؑ کیلئے علماء سے رہنمائی حاصل کر لیا کریں تاکہ کوئی غیر مصدقہ روایت بیان نہ ہوجائے جو عوام پر منفی طور پر اثرانداز ہو اور مکتبِ اہل بیت ؑ کی بدنامی کا باعث ہو۔
آپ سیاست کے خلاف نہیں تھے بلکہ اُن خرابیوں کے خلاف تھے جوسیاست کے نام پرکی جاتی ہیں۔ علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم کے دَورمیں بحیثیت نائب صدرقوم کی خدمت کرتے رہے اوراُن کی وفات کے بعد 10فروری 1984ء کوبھکرکنونشن میں بطورقائد آپ کا انتخاب کیاگیالیکن علامہ سید صفدر حسین نجفی نے پاکستان کے جید شیعہ علما و اکابرین کی اِیما پراپنے شاگردِ خاص علامہ عارف الحسینی کو اُن کی قائدانہ صلاحیتوں ، انقلابی جذبوں اور اعلیٰ اِنسانی صفات کی بنا پر تحریک نفاذِ فقہ جعفریہ کا نیا قائدوسربراہ منتخب کیا۔آپ نے فرمایاکہ میری زندگی کامقصد پاکستان کے گوشے گوشے میں مدارس قائم کرنااوردُنیابھرمیں اسلامی تعلیمی نظام قائم ومربوط کرناہے ۔اِس لئے مَیں قیادت کیلئے خود کو پیش نہیں کرناچاہتا۔ آپ کی اِس تجویز کوتمام علماء کرام نے قبول کرلیا۔آپ نے اپنے مشن اورمنصوبے کوعملی شکل دینے کیلئے پاکستان کے ہرصوبے اورگلگت بلتستا ن میں 27 مدارس قائم کئے اوراِن کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر برطانیہ اور امریکہ میں ایک ایک اور ایران میں تین مدارس قائم کئے۔ ایک موقع پر آپ نے کہاتھا کہ شیرشاہ سوری نے 15سو میل لمبی سڑک پشاورسے کلکتہ تک تعمیرکرائی تھی اورہر دس میل پر اُس نے ہوٹل، پانی کاکنواں اورچیک پوسٹ بنائی ۔میری خواہش ہے کہ مَیں جی ٹی روڈ یعنی شاہراہِ پاکستان پر ہر50میل کے علاقے میں ایک معیاری مدرسہ قائم کروں ۔یہی وجہ ہے کہ آپ کی محنتوں اورکاوشوں کی وجہ سے آج پاکستان میں 419 مدارس کام کررہے ہیں۔پھر بھی یہ تعداد کم ہے اوراِس پرعلماء کرام کومزید توجہ دینے اورکام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان میں کل مدارس کی تعداد 35 ہزار ہے۔اِس کے ساتھ ساتھ قوم وملت کے بچوں، خواتین اورحضرات کی درست رہنمائی کیلئے آپ نے المنتظرکے نام سے ماہانہ میگزین کاآغازکیا۔آپ نے مختلف عناوین پر 40 کتابیں تحریرفرمائیں اور60کتابوں کاترجمہ کیاجن میں تفسیرنمونہ تالیف آیت اللہ مکارم شیرازی کی 27جلدیں ، پیامِ قرآن تالیف آیت اللہ مکارم شیرازی کی 15 جلدیں،منشورِ جاوید تالیف آیت اللہ جعفر سبحانی کی 14 جلدیں اورسیرتِ آئمہ پر12 جلد یں اور احسن المقال تالیف محدث قمی کی 4 جلدیں قابلِ ذکر ہیں اورباقی تمام کتب قومی وتاریخی اَثاثہ ہیں۔

آپ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور تحریک جعفریہ کے بانی علما ء میں سے تھے جبکہ امامیہ آرگنائزیشن، وفاق علماء شیعہ پاکستان اور دیگر قومی تنظیموں کو محسنِ ملت کی سرپرستی حاصل رہی ۔ آپ نے قائدینِ ملتِ جعفریہ مفتی جعفر حسین مرحوم، علامہ شہید عارف حسین الحسینی اور علامہ سیدساجد علی نقوی کے اِنتخاب میں کلیدی کردار ادا کیا۔آپ کے نامور، ممتازاورسرفراز شاگردوں میں سے آیت اللہ حافظ بشیر حسین نجفی وہ قابلِ قدرشخصیت ہے جوعراق میں مرجع اورمجتہدکی پوزیشن پرفائز ہیں۔ آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی وہ معزز شخصیت اورعظیم ہستی ہیں جو آپ کی وفات سے لے کراب تک جامعتہ المنتظر لاہورکے پرنسپل آرہے ہیں۔مفسر قران اوراسوہ سکول سسٹم کے بانی شیخ محسن علی نجفی بھی آپ مرحوم کے عظیم شاگردوں میں سے ایک ہیں اورکسی تعارف کے محتاج نہیں۔آیت اللہ حسن رضاغدیری، پرنسپل جامعتہ المنتظرلندن، مولاناموسیٰ بیگ نجفی، مولانا باقرعلی شگری، مولانامحمد اسلم صدیقی، علامہ قاضی نیازحسین نقوی، مولانامنظورحسین عابدی، علامہ محمدحسین اکبر ، مولاناسید محمد عباس، مولاناسید خادم حسین نقوی، مولاناابوالحسن نقوی، مولاناحافظ سید محمد سبطین نقوی، آیت اللہ سید علی نقی نقوی قمی، ڈاکٹرعلامہ سید ابرارحسین عابدی اور بے شمار قابل ترین ہستیوں کومحسنِ ملت کی شاگردی کااعزازحاصل ہے۔
آپ نے 1953ء میں نجف میں ایک پاکستانی معززسادات گھرانے میں شادی کی جوشہید ڈاکٹرمحمدعلی نقوی مرکزی صدرآئی ایس اوپاکستان کی پھوپھی اورعلامہ امیرحسین نقوی کی ہمشیرہ تھیں۔ جن سے آپ کی کوئی اولاد نہ ہوئی اور وہ محترمہ 1979ء میں فوت ہوئیں۔ آپ نے دوسری شادی 1967ء میں ساہیوال کی معتبر سبزواری سادات فیملی میں شادی کی جوعلامہ سیدبختیارالحسن سبزواری اورڈاکٹرغلام شبیرسبزواری سابق مرکزی صدرآئی ایس اوپاکستان کی ہمشیرہ تھیں۔جن سے آپ کی چاردختران اورچھ فرزند پیداہوئے۔ وہ محترمہ 1994ء میں فوت ہوئیں اورقم ایران میں مدفون ہیں۔محسن ملت کی تمام اولاد مذہبی سکالرہیں۔ آپ کے فرزندان میںآیت اللہ سید علی نقی نقوی قمی (عمر47سال)مجتہد عالم ہیں۔ آپ عربی، فارسی، انگلش، اردو، پنجابی اورسرائیکی میں تحریروتقریرپردسترس رکھتے ہیں اورآج کل ایران میں دینی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ علامہ سید محمد تقی نقوی(عمر46سال)عرصہ 17سال سے جامعہ علمیہ کراچی میں دینی خدمت کافریضہ اداکررہے ہیں ۔جبکہ سید محمد مہدی نقوی 1986ء میں سولہ سال کی عمرمیں ایران میں دینی تعلیم حاصل کرتے ہوئے سڑک حادثے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔علامہ سید حسن عسکری نقوی(عمر43سال)ایک مشہور مذہبی سکالرہیں جنہوں نے ایران سے 15سال تک مذہبی تعلیم حاصل کی ہے اورمذکورہ بالاچھ زبانوں پرمکمل عبوررکھتے ہیں۔مولانا سید حسین علی نقوی(عمر41سال)اورمولانا سید محمد علی نقوی(عمر40سال)ابھی تک اسلامی مذہبی تعلیم حاصل کررہے ہیں اورساتھ ہی دین کی خدمت بھی کررہے ہیں۔ اِن تمام فرزندان کی شریکِ حیات بھی دینی سکالرہیں اورقوم کی خدمت کررہی ہیں۔ آپ کی چاروں دختران عالمہ سیدہ توقیرفاطمہ نقوی، عالمہ سیدہ توصیف زہرا نقوی،عالمہ سیدہ تنویرزہرانقوی اورعالمہ حافظہ سیدہ تسنیم بتول نقوی مذہبی سکالرہیں اورعلمائے کرام کی شریک حیات ہیں اور بطور معلم اورمصنف کے دینِ محمدی کی ترویج میں شب وروز مصروف ہیں۔