شیعہ علماء کونسل پاکستان کے ترجمان نے تکفیریوں کی جانب سے منعقدہ جلسے میں تکفیریت کے پرچار کرنے کی مذمت کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں دفعہ144 کے نفاذ کے باوجود جلسے کی اجازت دینے اور جلسے میں فرقہ واریت کو ہوا دینے پر کسی قسم کا نوٹس نہ لینے کو نیشنل ایکشن پلان کو سبوتاژ کرنے کے مترادف قرار دیا ہے ۔گذشتہ روز وفاقی دارلحکومت اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی میں دفعہ ۱۴۴ کے نفاذ پر ایک جماعت کے کارکنوں پر تشدد کے واقعات اور دوسری جانب اسلام آباد میں تکفیریوں کو جلسے کی کھلی چھوٹ دینے پر تبصرہ کرتے ہوئے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے ترجمان نے اس امرکو حکومت کی دوغلی پالیسی کا حصہ قرار دیتے ہوئے سوال اُٹھایا کہ کیا قانون کا نفاذ کسی ایک جماعت کے کارکنوں کے لیے تھا یا کسی مقام پر دفعہ144کا نفاذسب کیلئے یکساں ہوتا ہے ۔ اُنہوں نے تکفیریوں کے جلسے میں تکفیری نعروں اور تقاریر کی پرزور مذمت کرتے ہوئے اس امر کو نیشنل ایکشن پلان کی کُھلم کُھلا خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس میں خود حکومت کو شریک قرار دیا ۔ اُنہوں نے کہا کہ ایک جانب وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ملک کی محب الوطن جماعتوں سے قومی معاملات پر ملاقات کرنے سے احتراز برتتے ہیں جبکہ دوسری جانب نہ صرف تکفیری افرادسے نہ صرف ملاقاتیں کرکے اُنکے مطالبات تسلیم کرتے دکھائی دیتے ہیں بلکہ اسلام آباد میں جلسے کی اجازت دیکر تکفیریت کاکھلم کھلا پرچار کرانے کی چھوٹ دے رہے ہیں جوکہ نیشنل ایکشن پلان کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے کیونکہ کوئٹہ میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کو جن تنظیموں نے قبول کیا ہے خود وزیر داخلہ بارہا اُن تنظیموں کا تعلق اِنہی تکفیری گروپس سے بتا چکے ہیں مگراس کے باوجود ایک بار پھر حکومت کی اجازت سے ہی اِن تکفیری گروپوں کو کھلی چھوٹ دیکر ملک میں امن وامان کی حالات کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ترجمان نے واضح کیا کہ ملک اس وقت اندرونی سیاسی خلفشار کے باعث مذید کسی مذہبی سیاسی اختلاف کا متحمل نہیں ہوسکتا لہذا حکومت کو چاہیے کہ وہ اس قسم کے اقدامات سے گریز کرئے جو موجودہ صورتحال کو مذید کسی گھمبیر حالات سے دوچار کرنے میں مددگار بن سکتے ہوں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت گذشتہ روز کے تکفیری جلسے میں تکفیریت کے پرچار کرنے کا قانون کے مطابق نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف فوری کاروائی کرئے تاکہ اس عوام میں پھیلی جانے والی بے چینی دور ہو سکے۔