یوم بعثت او ر شب معراج کی مناسبت سے قائد ملت جعفریہ پاکستان کا پیغام
راولپنڈی/ اسلام آباد 27رجب المرجب ،یکم مارچ 2022ء ( جعفریہ پریس پاکستان) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سیدساجد علی نقوی نے یوم بعثت رسول اکرم اور شب معراج کی مناسبت سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ عید مبعث انسانیت کو بت پرستی اور ہر قسم کے گمراہ کن عقائد سے نجات دلا کر خدا پرستی اور توحید شناسی کی سمت لے جانے کا مبارک دن ہے۔ اسی دن کائنات کے انسانوں نے اپنی دنیوی و اخروی فلاح کی نوید پائی جب اللہ تعالی نے اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفی کے رہتی دنیا تک مبعوث بہ رسالت ہونے کا اعلان فرمایا۔ روز مبعث سے قبل انسانیت جس ابتری اور زوال کا شکار تھی انسانی معاشرہ جس خلفشار میں مبتلا تھا قدم قدم پر مفاسد نے ڈیرے ڈال رکھے تھے نفرتوں اور جنگوں نے انسانی جانوں کو بے وقعت کیا ہوا تھا تکریم ِ خاتون اور حقوق ِ دختر پامال کیے جارہے تھے ہر شخص نے اپنی پسند اور خواہش پر خدا تراشا ہوئے تھے اخلاقیات اور صبر و برداشت کا نام و نشان نہیں مل رہا تھا خالق کے ساتھ مخلوق کا رشتہ قائم ہونا تو دور کی بات مخلوق کو حقیقی خالق کا حقیقی تعارف ہی یاد نہیں رہا تھا۔ ایسے ماحول اور اس زمانے میں حضور اکرم کا مبعوث ہونا عالم ِ انسانیت کے لیے ایک عظیم خوشخبری اور دائمی نجات کی نوید ثابت ہوا۔
علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ واقعہ معراج انسانی بلندی کا بے نظیر مثال ہے جس پر چودہ صدیوں سے آج تک اور آج سے اختتام ِ دنیا تک انسانی عقل اور سائنسی علوم کا روز افزوں ارتقاءواقعہ معراج کے لیے مہرتائید و تصدیق ثبت کررہا ہے۔ واقعہ معراج فقط ایک معجزے کی حیثیت رکھتا ہے لیکن ہم جس دور میں سانس لے رہے ہیں اس میں رونما ہونے والے واقعات ‘ انسانی علوم کی پیش رفت ، سیٹلائٹ و نجوم اور روشنی کا سفر واقعہ معراج کوحقیقت واقعیہ قرار دیتا ہے جسمانی و روحانی معراج سے قطع نظر ہم اگر واقعہ معراج کا بنظر ِ غائر جائزہ لیں تو ہمیں جہاں اپنے پیغمبر اکرم کی اللہ تعالی کے ساتھ قربت و محبت اپنے عروج پر نظر آتی ہے وہاں مستقبل کی خبروں اور مستقبل کے مناظر سے آگاہی بھی اپنے اندر ایسی خاصیت رکھتی ہے جو کسی دوسرے کے حصے میں نہیں آئی۔ شب ِ معراج جہاں خالق اور مخلوق میں ہمکلامی و ملاقات کے اسباب فراہم ہوئے وہاں خالق اور مخلوق کے درمیان سب سے معتبر وسیلے اور ذریعے یعنی حضور ِ اکرم کے توسط سے فقط امت اسلامیہ نہیں بلکہ انسانیت کے لیے عبادی اور اجتماعی نظام کے قیام کے لیے بنیادی اصول و ضوابط فراہم کیے گئے۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ واقعہ معراج چشم ِ زدن میں ہزاروں لاکھوں میلوں اور کئی آسمانوں کو عبور کرکے ایک خاص مقام پر پہنچنا ہے جو قدرت کی نشانیوں میں سے ایک عظیم نشانی ہے جس کے حقائق سے اللہ اور اس کا رسول آگاہ ہیں۔ لیکن اس میںانسانوں کے لیے بے شمار اسباق پنہاں ہیں۔ جہاں اللہ تعالے نے اپنے محبوب کو اپنی قدرت کاملہ کا نظارہ کرایا وہاں اپنے محبوب سے محبت کا منفرد اور لازوال اظہار کیا اور پھر انسانی فلاح کے لیے متعدد اصولوں کی نشاندہی کی ۔ واقعہ معراج جہاں ہمارے لیے مسرتوں اور خوشیوں کا سامان بہم کرتا ہے وہاں ہمیں زندہ رہنے کے آداب بھی سکھاتا ہے اور زندگی کے ایسے رموز سے روشناس کرتا ہے جن کا ادراک ظاہر کی آنکھ نہیں رکھ سکتی۔ لہذا ہمیں جہاں معراج کی خوشیوں کا اہتمام کرنا چاہیے وہاں معراج میں عطا کردہ نعمات و عبادات کی طرف بھی توجہ دینا چاہیے معراج کے تحائف میں سے ایک تحفہ نماز ہے جس کی ادائیگی مومن کی معراج ہے۔ لہذا ہمیں اپنی معراج کو مدنظر رکھنا چاہیے تاکہ ہمیں بھی قرب و ملاقات ِ خدا کی نعمت حاصل ہوسکے۔