• قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقو ی کی ا پیل پر بھارت میں توہین آمیز ریمارکس پر ملک گیر احتجاج
  • قائد ملت جعفریہ پاکستان کی مختلف شخصیات سے ان کے لواحقین کے انتقال پر تعزیت
  • اسلامی تحریک پاکستان کا گلگت بلتستان حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ
  • علماء شیعہ پاکستان کے وفدکی وفاقی وزیر تعلیم سے ملاقات نصاب تعلیم پر گفتگو مسائل حل کئے جائیں
  • بلدیاتی انتخابات سندھ: اسلامی تحریک پاکستان کے امیدوار بلامقابلہ کامیاب
  • یاسین ملک کو دی جانے والی سزا ظلم پر مبنی ہے علامہ شبیر حسن میثمی شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • ملی یکجہتی کونسل اجلاس علامہ شبیر میثمی نے اہم نکات کی جانب متوجہ کیا
  • کراچی میں دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان صوبہ سندھ
  • اسلامی تحریک پاکستان کا اعلی سطحی وفد گلگت بلتستان کے دورے پر اسکردو پہنچے گا
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان ۸ شوال یوم جنت البقیع کے عنوان سے منائے گی

تازه خبریں

گوجرانوالا ملت جعفریہ کا تین شہداء کی میتیوں کے ہمراہ گذشتہ کئی گھنٹوں سے جاری دھرنا اختتام پذیر

جعفریہ پریس – جی ٹی روڈ گوجرانوالا پر ملت جعفریہ کا تین شہداء کی میتیوں کے ہمراہ گذشتہ کئی گھنٹوں سے دھرنا جاری ہے جس کی وجہ سے لاہور، راولپنڈی کیلئے ٹریفک مکمل طور پر بند ہو کر رہ گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ہفتہ کو علی الصبح شاہ رخ کالونی میں سماجی، مذہبی شخصیت اور شیعہ علماء کونسل کے ضلعی فنانس سیکرٹری جاوید شاہ (طلعت حسین) جبکہ مومن پوره میں محمد یوسف اور حاجی امانت شرپسند عناصر کی فائرنگ سے شہید ہوئے تھے، حادثہ کی خبر پر گوجرانوالا کے حالات کشیده ہوگئے اور شہر بهر احتجاج شروع ہو گیا – مظاہرین نے ان واقعات میں ملوث  دہشت گرد عناصر کی گرفتاری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ جعفریہ پریس کی رپورٹ کے مطلبق ابتدا میں احتجاجی دھرنا عالم چوک بائے پاس پر دیا گیا لیکن جب شیعہ علماء کونسل پنجاب کے صوبائی صدر علامہ مظہر عباس علوی لاہور سے گوجرانوالا پہنچے تو اس احتجاجی دھرنے کو عالم چوک بائے پاس سے پنڈی چوک بائے پاس پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور احتجاجی جلوس کی شکل میں شہداء کی میتیوں کوعالم چوک سے پنڈی چوک بائے پاس پر منتقل کیا گیا جس سے لاہور، راولپنڈی سمیت کئی اضلاع کیلئے ٹریفک مکمل طور پر بند ہو کر رہ گئی ۔ مومنین کے طویل احتجاج کے نتیجے میں انتظامیہ نے شیعہ علماء کونسل پنجاب کے صوبائی صدر علامہ مظہر عباس علوی سے مذاکرات کئے اور 9 شر پسند عناصر کو گرفتار کیا گیا اور قاونون کے مطابق سزا کی یقین دہانی کرائی-