تازه خبریں

سپریم کورٹ میں پانامہ دستاویزات سے متعلق کیس کی سماعت

پاناما دستاویزات سے متعلق کیس میں حسین نواز اور حسن نواز نے قطری شہزادے کے دستاویزات پر مشتمل اضافی تفصیلات سپریم کورٹ میں جمع کرادی ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق میاں محمد شریف مرحوم نے دبئی سٹیل ملز کی فروخت کے بعد بارہ ملین درہم شراکت داری کی بنیاد پر حمدبن جاسم کے والد کے ساتھ پراپرٹی کے کاروبار میں لگائے ۔شراکت داری کے لئے بارہ ملین درہم کی یہ رقم کیش کی صورت میں ادا کی گئی کیونکہ اس وقت خلیج ممالک میں کیش ادائیگی کا عام رواج تھا۔ جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ میاں محمد شریف کے انتقال کے بعد دو ہزار پانچ میں ان کے حصے کی رقم اسّی لاکھ ڈالر کا حساب کیاگیا ۔ میاں محمد شریف مرحوم کی وصیت کے مطابق اسّی لاکھ ڈالر کی سیٹلمنٹ کی گئی اور بقیہ رقم سے حسین نواز کو ان کے دادا کی وصیت کے مطابق لندن فلیٹس سے متعلق نیلسن اور نیسکال کمپنیوں کے شئیر دئیے گئے ۔ اضافی جواب میں طارق شفیع کا بیان حلفی دبئی فیکٹری کی فروخت اور عزیزیہ سٹیل مل کی خرید اور فروخت اور لندن فلیٹس کی خریداری سے متعلق دستاویزات بھی شامل ہیں ۔ دوسری طرف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ کے روبرو دلائل دیتے ہوئے مریم صفدر اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے وکیل شاہدحامد نے موقف اختیار کیا کہ شادی کے بعد ان کی موکلہ اپنے والد محمدنواز شریف کی زیرکفالت نہیں تھیں۔ انہوں نے کہاکہ لفظ زیر کفالت کی کوئی واضح تعریف نہیں ۔شاہد حامد نےاخباری تراشوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انیس سو ننانوے میں محمد نواز شریف کی حکومت ختم کر کے جب مارشل لاء لگایا گیا تو عمران خان نے مارشل لاء کے حق میں بیانات دیئے ۔ موجودہ مقدمہ بھی عمران خان نے سیاسی مخاصمت کی بنیاد پر دائر کیا ہے جس میں مفاد عامہ سے متعلق آئین کے آرٹیکل ایک سو چوراسی تین کا اطلاق نہیں ہوتا ۔ انہوں نے اس حوالے سے مختلف عدالتی فیصلوں کی نذیریں پیش کیں ۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس نے زیرکفالت کی تعریف انکم ٹیکس ،نیب اور عوامی نمائندگی سے متعلق قوانین کی روشنی میں دیکھنی ہے ۔ عدالت نے کہا کہ اسے اس بات کا احساس ہے کہ اس مقدمے کیوجہ سے عام سائلین کے مقدمات متاثر ہو رہے ہیں لیکن تمام فریقوں کو سماعت کا پورا موقع اس لئے دیا جا رہا ہے تاکہ عدالت مقدمے کے تمام پہلووں کو سمجھ سکے ۔ کیس کی سماعت کل پھر ہو گی ۔ایڈووکیٹ شاہد حامد اپنے دلائل جاری رکھیں گے ۔