یوم القدس برائے اقوام متحدہ
ملی یکجہتی کونسل پاکستان
محترم جناب نیل بہنے
نمائندہ اقوام متحدہ پاکستان
جناب عالی !
ملی یکجہتی کونسل پاکستان ، وطن عزیز پاکستان کی دینی و مذہبی جماعتوں کا اتحاد ہے ۔جو بین المسالک ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ بین المذاہب رواداری کو از روئے تعلیمات قرآن و سنت رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنے ایمان کا حصہ سمجھتا ہے ۔ کونسل 1995سے اب تک ملک میں ہم آہنگی اور رواداری کے فروغ کے لیے مصروف عمل رہی ہے ۔اپنے دین کی تعلیمات کی روشنی میں ہم بحیثیت مسلمان اپنے دینی بھائیوں کی مشکلات خواہ وہ پاکستان کے باسی ہوں یا دنیا کے کسی بھی خطے کے رہائشی سے بے بہرہ نہیں رہ سکتے ۔ اسی طرح دنیا کے کسی بھی حصے میں روا رکھے جانے والا ظلم خواہ کسی بھی مذہب کے انسان کے ساتھ ہو، کے خلاف اپنی استطاعت اور حیثیت کے مطابق آواز بلند کرناہم اپنی مذہبی اور اخلاقی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
محترمی جناب !
انسانیت کے مسائل کو کم کرنے اور اقوام عالم کے مابین امن و امان اور اچھے روابط کو برقرار رکھنے کے حوالے سے اقوام متحدہ کے بہت سے کام لائق تحسین رہے ہیں۔ تاہم نہایت افسوس کے ساتھ کہا جاتا ہے اقوام عالم مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر کووہاں کے عوام کی مرضی کے مطابق حل کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے ۔ ان دونوں مسائل پر اقوام متحدہ کی دسیوں قراردادوں نیز جارح و قابض ریاستوں کی جانب سے ان ممالک کے عوام سے روا رکھے جانے والے واضح مظالم کے باوجود اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی ادارے ان جارحین کے خلاف کوئی موثر اقدام لینے سے قاصر رہے ہیں بلکہ زیادہ تر خود ظالم ریاستوں کی ناز برداری کی جاتی رہی ہے۔ فلسطین اور کشمیر کے مسائل روز اول سے اقوام متحدہ کے لیے ایک چیلنج بنے ہوئے ہیں ۔ مسلمان اقوام اب یہ سوچنے میں حق بجانب ہیں کہ عالمی ادارہ جو انسانی اقدار کی سربلندی اور دنیا میں امن آشتی کے قیام کے لیے وجود میں آیا چند طاقتوں کا آلہ کار بن چکا ہے ۔ اسرائیل اور ہندوستان جو ان قوتوں کے اتحادی اور دوست ہیں کو ظلم و بربریت ، ناانصافی اور ظالمانہ تسلط جو کہ اقوام متحدہ کے متفقہ چارٹر اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے، کے باوجو د سلامتی کونسل کی جانب سے کبھی واضح پیغام نہیں ملا نہ ہی ان ریاستوں کو اقوام متحدہ کے قوانین کی خلاف ورزی پر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا جبکہ اس کے برعکس یہی
سلامتی کونسل یا اہم عالمی طاقتیں جب اپنے مفاد کے لیے ضروری سمجھتی ہیں تو اقتصادی ، سیاسی اور کاروباری پابندیاں لگا کرمختلف ممالک کو نیچا دکھانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتیں۔
جناب والا !
آپ کی انسانیت کے لیے خدمات ایک جانب تاہم کئی ایک مسلمان ملکوں اور بعض دیگر کمزور قوموں کے ساتھ روا رکھا جانے والا رویہ اور ان کے مسائل کو حل کرنے میں سستی و کاہلی اور لیت لعل سے کام لینے کی روش نے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کو اس ادارے سے بدظن کر دیا ہے ۔ملی یکجہتی کونسل پاکستان کا یہ نمائندہ وفد آج عالمی یوم القدس کے موقع پر ایک مرتبہ پھر آپ کے پاس اتمام حجت کے لیے آیا ہے۔ ہم ملت پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے آپ کی وساطت سے اقوام متحدہ کے ذمہ داروں اور اس کے مقتدر اداروں کے حضور اپنی گذارش پیش کرتے ہیں کہ مسئلہ فلسطین نیز مسئلہ کشمیر کوان سرزمینوں کے عوام کی خواہشات کی روشنی میں فی الفور حل کرنے کے لیے اقدامات کریں۔ہم آپ کی وساطت سے سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے دیگر اداروں تک یہ مطالبہ پہنچانا چاہتے ہیں کہ غاصب اسرائیلی اور ہندوستانی ریاستوں کے ذمہ داران کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اورمظلوم فلسطینیوں اور کشمیروں پر روا رکھے جانے والے مظالم پر عالم عدالت انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے ۔ فلسطینی سرزمین پر ناجائز ریاست کی طرف قائم کی جانے والی یہودی بستیاں جو کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں ناجائز تجاوزات ہیں، کو ختم کرکے یہ زمینیں اصل وارثوں یعنی فلسطینیوں کو لوٹانے کے لیے اقدامات کیے جائیں ۔ لاکھوں فلسطینی جو اس وقت دنیا کے مختلف ممالک میں کسمپرسی اور مہاجرت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں کو فی الفور اپنے وطن میں واپس لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں ۔اسرائیل کی جانب سے غزہ کا محاصرہ اور ہندوستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے عوام پر جاری جارحیت کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ان دونوں جارح ریاستوں پر اقتصادی ، سیاسی اور معاشی پابندیوں کے ذریعے ان کو عالمی قوانین کے احترام کا درس دیا جائے ۔بھارتی اور اسرائیلی جیلوں میں قید مظلوم کشمیری اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے لیے ان پر عالمی دباؤ ڈالا جائے۔فلسطینی اور کشمیری مسلمان جو گذشتہ ستر برسوں سے آزادی ،حریت جیسے بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں کو یہ حق دلوانے میں اقوام متحدہ اور اس کے مقتدر ادارے اپنا کردار ادا کریں ۔ یہ انسانیت کی آواز ہے اقوام متحدہ جس کی بنیاد انسانیت اور انسانی اصولوں پر رکھی گئی ہے کو اس حق اور انصاف کی آواز کو بلند کرنے میں ان مظلوموں کی مدد کرنی چاہیے ۔
وما علینا الا البلاغ المبین
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو
لیاقت بلوچ
سیکریٹری جنرل
ملی یکجہتی کونسل پاکستان