امام محمد باقرؑ نے علم و بصیرت کی ایسی شمع روشن کی جو رہتی دنیا تک انسانیت کی رہنمائی کرتی رہے گی، قائد ملت جعفریہ پاکستان آٰیت اللہ سید ساجد نقوی
جعفریہ پریس پاکستان آفیشل
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے امام پنجم حضرت امام محمد باقرؑ کے یوم شہادت (7 ذی الحجہ) کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ امام محمد باقرؑ نے علم، فکر، بصیرت اور تربیت کے ذریعے دین اسلام کی حقیقی روح کو اجاگر کیا اور ایسی علمی تحریک کی بنیاد رکھی جس کے اثرات آج بھی پوری امت مسلمہ میں نمایاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امام محمد باقرؑ کی عظمت کا ایک منفرد پہلو یہ بھی ہے کہ آپؑ سلسلہ امامت میں نجیب الطرفین امام ہیں، جن کے والد بھی امام، نانا بھی امام، دادا بھی امام اور فرزند بھی امام ہیں۔ آپؑ نے سانحہ کربلا کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اہل بیتؑ پر ڈھائے جانے والے مظالم کے گہرے اثرات کو محسوس کیا، جس نے آپؑ کی علمی و فکری جدوجہد کو مزید مضبوط بنایا۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ ائمہ اہل بیتؑ کے مشن، اہداف اور مقاصد میں مکمل ہم آہنگی موجود تھی، البتہ ہر امامؑ نے اپنے دور کے تقاضوں کے مطابق مختلف انداز اپنایا۔ کسی نے صلح کے ذریعے دین کو بچایا، کسی نے قیام اور شہادت کا راستہ اختیار کیا، کسی نے دعا و گریہ کے ذریعے بیداری پیدا کی، جبکہ امام محمد باقرؑ نے علوم و معارف کے دروازے کھول کر “باقر العلوم” کا عظیم لقب پایا۔
انہوں نے امام جعفر صادقؑ کے اس فرمان کا حوالہ دیا کہ:
“میرے والد ہر وقت ذکر خدا میں مشغول رہتے تھے، کوئی چیز انہیں یادِ الٰہی سے غافل نہیں کرتی تھی، اور ان کی آواز تمام لوگوں سے زیادہ حسین تھی۔”
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا کہ پیغمبر اکرم ﷺ نے اپنے عظیم صحابی حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؓ کو پہلے ہی امام محمد باقرؑ کے مقام و منزلت سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا تھا:
“تم میرے پانچویں جانشین سے ملو گے، جس کا نام میرے نام پر ہوگا، وہ علوم کو شگافتہ کرے گا، اسے میرا سلام کہنا۔”
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ امام محمد باقرؑ نے اپنے پاکیزہ اخلاق، کردار اور طرزِ زندگی سے یہ ثابت کیا کہ وہ اپنے جد امجد پیغمبر اکرم ﷺ کے حقیقی وارث ہیں۔ آپؑ نے فکری انحراف، گمراہ کن نظریات اور دین میں تحریف کے خلاف بھرپور علمی جدوجہد کی اور ہر دور کے باطل نظریات کا مدلل انداز میں مقابلہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امام محمد باقرؑ نے امت مسلمہ میں علمی و فکری بیداری پیدا کرنے کیلئے تخصصی انداز میں شاگردوں کی تربیت کا آغاز کیا۔ آپؑ نے سینکڑوں ایسے شاگرد تیار کئے جنہوں نے بعد میں علوم اہل بیتؑ کو دنیا بھر میں پھیلایا۔ یہاں تک کہ دیگر مکاتب فکر کے بڑے علماء بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوئے کہ:
“محمد باقرؑ جو تعلیم دیں وہی حق اور صحیح ہے۔”
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ امام محمد باقرؑ کی اپنے فرزند امام جعفر صادقؑ کو کی گئی نصائح آج بھی انسانیت کیلئے قیمتی سرمایہ ہیں۔ ایک موقع پر آپؑ نے فرمایا:
“اے جعفرؑ! اللہ تعالیٰ نے ہم اہل بیتؑ کو علم کیلئے منتخب فرمایا ہے۔ یہ علم ہماری میراث ہے، اسے امانت سمجھ کر انسانوں تک پہنچاؤ تاکہ انسان اپنی تخلیق کے مقصد کو پہچان سکے۔”
انہوں نے زور دے کر کہا کہ آج امت مسلمہ کو امام محمد باقرؑ کی سیرت، علم، بصیرت، اخلاق اور فکری استقامت سے رہنمائی لینے کی اشد ضرورت ہے۔ امامؑ کی حیات طیبہ انسانیت کیلئے ہدایت، شعور، اتحاد اور حق شناسی کا عظیم سرچشمہ ہے۔