تازه خبریں

اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے سے متعلق سپاہ پاسداران کا اعلامیہ

 خطے ميں موجود امریکی فوجی اڈوں پرحملہ ایران کا حق ہے : اردن کے عوام کے نام سپاہ کا پیغام

خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر حملہ ایران کا حق ہے، اردن کے عوام کے نام سپاہ پاسداران کا پیغام

تہران: سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے اپنے پینتالیسویں اعلامیے میں اردن کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر ہونے والے حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا ایران کا حق ہے۔

اعلامیے کے مطابق سپاہ پاسداران نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر حملوں میں ملوث امریکی فوج کو تنبیہ کرنے کے لیے اس کے مختلف فوجی اڈوں پر برق رفتار حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں ایک THAAD میزائل دفاعی نظام، ایک C-RAM Patriot Radar System اور ایندھن کا ایک گودام تباہ ہوگیا۔

سپاہ پاسداران کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں ہیلی کاپٹروں کے وسائل کا ایک بڑا گودام، مرمت کا ایک ورکشاپ اور ہیلی کاپٹروں کا ایک بڑا ہینگر بھی مکمل طور پر تباہ کردیا گیا۔

اردن کی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں، سپاہ پاسداران

اعلامیے میں کہا گیا کہ بعض حلقے یہ تاثر دیتے ہیں کہ ایران اپنے حملوں کے ذریعے دیگر ممالک کی خودمختاری، ارضی سالمیت اور اقتدارِ اعلیٰ کو نقصان پہنچاتا ہے، لیکن یہ الزام درست نہیں۔

سپاہ پاسداران نے کہا کہ ایران کی نظر میں اردن سمیت تمام ہمسایہ ممالک کی خودمختاری، ارضی سالمیت اور اقتدارِ اعلیٰ قابل احترام ہیں اور ایران کا ہدف کسی ملک کی سرزمین نہیں بلکہ وہ امریکی فوجی اڈے ہیں جہاں سے ایران کے خلاف کارروائیاں کی جاتی ہیں۔

امریکی فوجی اڈوں پر مقامی حکومتوں کا اختیار نہیں، دعویٰ

اعلامیے میں کہا گیا کہ جن ممالک میں امریکی فوجی اڈے قائم ہیں، وہاں ان اڈوں پر مقامی حکومتوں یا افواج کا مکمل اختیار نہیں ہوتا۔

سپاہ پاسداران کے مطابق امریکی فوج اپنی مرضی سے افراد کو ان اڈوں میں داخل کرتی ہے، قیدی منتقل کرتی ہے اور تمام انتظامی و عدالتی امور بھی امریکی قوانین کے مطابق انجام دیے جاتے ہیں۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ ان فوجی اڈوں میں مقامی فوج کے اہلکار تو درکنار، بعض اوقات متعلقہ ملک کا وزیر دفاع بھی امریکی اجازت کے بغیر داخل نہیں ہوسکتا، اس لیے ان اڈوں کو متعلقہ ممالک کی خودمختاری کی علامت قرار نہیں دیا جاسکتا۔

خودمختاری کی خلاف ورزی امریکہ نے کی، ایران کا مؤقف

سپاہ پاسداران نے اپنے بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ اگر کسی ملک کی ارضی سالمیت اور اقتدارِ اعلیٰ مجروح ہوا ہے تو اس کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے کیونکہ امریکی فوجی اڈے مقامی قوانین سے بالاتر ہوکر کام کرتے ہیں۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ ایران ان مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے جنہیں اس کے بقول امریکی فوج نے اپنے قبضے میں لے رکھا ہے اور جہاں سے ایران کے خلاف عسکری کارروائیاں کی جاتی ہیں۔

میناب کے 168 بچوں کی شہادت کا حوالہ

اعلامیے میں ایران کے شہر میناب کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ گزشتہ روز غمزدہ عوام نے ان اسکولی بچوں کے اعضا کی تدفین کی جو ملبے سے نکالے گئے تھے۔

سپاہ پاسداران نے دعویٰ کیا کہ یہ 168 بچے امریکی حملوں کے پہلے روز جاں بحق ہوئے تھے اور امریکہ پر الزام عائد کیا کہ وہ مسلسل شہری آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے۔

امریکی فوجی اڈوں سے حملوں کا الزام

اعلامیے میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف ہونے والے حملوں میں خطے کے مختلف ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈے بھی استعمال کیے جا رہے ہیں، جن میں اردن میں موجود امریکی تنصیبات بھی شامل ہیں۔

سپاہ پاسداران نے کہا کہ جہاں سے ایران پر حملہ کیا جائے گا، وہاں جوابی کارروائی کرنا ایران کا قانونی، شرعی اور عقلی حق ہے اور مستقبل میں بھی ایسے حملے جاری رہ سکتے ہیں۔

سپاہ پاسداران کا اختتامی پیغام

اعلامیے کے آخر میں اردن کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایران کی دشمنی کسی عرب یا اسلامی ملک کے عوام سے نہیں بلکہ ان فوجی تنصیبات سے ہے جو ایران کے خلاف کارروائیوں میں استعمال کی جا رہی ہیں۔ سپاہ پاسداران نے دعویٰ کیا کہ اس کی کارروائیاں صرف فوجی اہداف تک محدود ہیں اور ان کا مقصد خطے کے عوام نہیں بلکہ امریکی فوجی موجودگی کو نشانہ بنانا ہے۔