تازه خبریں

حضرت عمار بن یاسرؓ کی شہادت پر قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی کا پیغام

حضرت عمار بن یاسرؓ اسلام کے اولین اور عظیم ترین صحابہ کرام میں شمار ہوتے ہیں، قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی

راولپنڈی / اسلام آباد، 23 جولائی 2026:جعفریہ پریس پاکستان

قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی نے حضرت عمار بن یاسرؓ کی شہادت (37 ہجری) کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ حضرت عمار بن یاسرؓ اسلام کے اولین اور عظیم ترین صحابہ کرام میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے اسلام کی سربلندی کے لیے بے مثال قربانیاں دیں اور ہر آزمائش میں صبر، استقامت اور حق پر ثابت قدمی کی مثال قائم کی۔

حضرت عمار بن یاسرؓ نے اسلام کی خاطر سخت مظالم برداشت کیے

قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ حضرت عمار بن یاسرؓ، ان کے والد حضرت یاسرؓ اور والدہ حضرت سمیہؓ نے اسلام قبول کرنے کے بعد مشرکین مکہ کے ہاتھوں شدید ترین مظالم برداشت کیے۔

انہوں نے کہا کہ جب مشرکین مکہ حضرت عمار بن یاسرؓ اور ان کے والدین کو تپتی ریت پر اذیتیں دیتے تھے تو رسول اکرم ﷺ فرماتے تھے:

“صبر کرو آلِ یاسر! تمہارا وعدہ جنت ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ انہی مظالم کے دوران حضرت سمیہؓ نے جامِ شہادت نوش کیا اور اسلام کی پہلی شہیدہ ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔

رسول اکرم ﷺ نے حضرت عمار بن یاسرؓ کے ایمان کی گواہی دی

قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ رسول اکرم ﷺ نے حضرت عمار بن یاسرؓ کی عظمت و فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

“عمار سر سے پاؤں تک ایمان سے بھرے ہوئے ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ یہ ارشاد حضرت عمار بن یاسرؓ کے کامل ایمان، اخلاص اور بلند کردار کا واضح ثبوت ہے۔

حضرت علیؑ سے محبت اور اسلامی معرکوں میں نمایاں خدمات

آیت اللہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ حضرت عمار بن یاسرؓ کو جانشین رسول خدا حضرت امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالبؑ سے بے پناہ محبت اور عقیدت تھی۔

انہوں نے کہا کہ حضرت عمار بن یاسرؓ نے رسول اکرم ﷺ کے ساتھ ہجرت کی اور غزوۂ بدر، غزوۂ احد، غزوۂ خندق سمیت دیگر اہم اسلامی معرکوں میں بھرپور شرکت کی۔ اپنی دیانت، اخلاص، شجاعت اور وفاداری کے باعث وہ صحابہ کرامؓ میں منفرد مقام رکھتے تھے۔

جنگ صفین میں حضرت عمار بن یاسرؓ کی شہادت

قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ حضرت عمار بن یاسرؓ 37 ہجری میں جنگ صفین کے دوران تقریباً نوے برس کی عمر میں حضرت امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے لشکر میں لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اس موقع پر رسول اکرم ﷺ کی حضرت عمار بن یاسرؓ کے بارے میں پیش گوئی بھی پوری ہوئی۔

حضرت عمار بن یاسرؓ کی زندگی رہتی دنیا تک مشعلِ راہ ہے

قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی نے زور دے کر کہا کہ حضرت عمار بن یاسرؓ کی پوری زندگی ایمان، استقامت، قربانی اور حق پر ثابت قدمی کی روشن مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ حضرت عمار بن یاسرؓ نے ظلم کے سامنے کبھی سر نہیں جھکایا اور آخری دم تک حق کا علم بلند رکھا، جو رہتی دنیا تک حق کے متلاشیوں کے لیے مینارۂ نور کی حیثیت رکھتا ہے۔