قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی کی جانب سے آغا عباس رضوی کی مجلسِ تجلیل و تعزیتی ریفرنس، قومی و ملی خدمات کو خراجِ تحسین
اسکردو: قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی کی جانب سے بزرگ عالمِ دین، اسلامی تحریک گلگت بلتستان کے سابق صدر اور رکن گلگت بلتستان کونسل آغا سید محمد عباس رضوی مرحوم کی دینی، ملی، سماجی اور سیاسی خدمات کے اعتراف میں مجلسِ تجلیل و تعزیتی ریفرنس جامع مسجد امامیہ اسکردو میں منعقد ہوا۔
تعزیتی ریفرنس میں مرکزی سیکریٹری جنرل اسلامی تحریک پاکستان علامہ ڈاکٹر شیخ شبیر حسن میثمی، صوبائی صدر اسلامی تحریک گلگت بلتستان آغا شیخ میرزا علی، خطیب جامع مسجد امامیہ اسکردو آغا شیخ حسن جعفری، امام جمعہ و الجماعت مرکزی جامع مسجد سکردو علامہ شیخ محمد حسن جعفری، نائب امام جمعہ سکردو علامہ شیخ محمد جواد حافظی سمیت گلگت بلتستان کے جید علماء، تنظیمی ذمہ داران اور مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے علماء و مومنین نے شرکت کی۔
مرکزی سیکریٹری جنرل اسلامی تحریک پاکستان علامہ ڈاکٹر شیخ شبیر حسن میثمی نے اپنے رفقاء کے ہمراہ مجلس میں شرکت کی۔ انہوں نے قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی کی جانب سے علماء و مومنین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مختلف اضلاع اور دور دراز علاقوں سے عوام و علماء کی بھرپور شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ قوم و ملت کی خدمت کرنے والوں کو آسانی سے فراموش نہیں کیا جاتا۔
علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے آغا سید محمد عباس رضوی مرحوم کی سادگی، شرافت، واضح بیانی، استقامت اور قیادت سے وفاداری کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی آئندہ نسلوں کے لیے ایک قابلِ تقلید نمونہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم نے اپنی زندگی دینی و ملی خدمت، عوامی مسائل کے حل اور ملت کی رہنمائی کے لیے وقف کیے رکھی۔
امام جمعہ و الجماعت مرکزی جامع مسجد سکردو علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے آغا عباس رضوی مرحوم کے ساتھ نجف اشرف میں اپنی طویل علمی رفاقت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ انتہائی صادق القول، حلیم الطبع اور کم گو عالمِ دین تھے۔ علم، حلم، تقویٰ اور کم گوئی جیسی صفات ان کی شخصیت میں نمایاں تھیں۔
نائب امام جمعہ سکردو علامہ شیخ محمد جواد حافظی نے مجلسِ ترحیم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آغا سید عباس رضوی مرحوم علم کے ساتھ عمل، تقویٰ، اخلاص، حسنِ اخلاق اور جفاکشی کا پیکر تھے۔ انہوں نے تقریباً نصف صدی تک محراب و منبر، اجتماعی خدمت اور سیاسی میدان میں مختلف ذمہ داریاں نبھائیں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ مرحوم نے سیاست کو ذاتی خواہش کے بجائے قیادت کی ہدایت اور عوامی ضرورت کے تحت قبول کیا اور اپنے کردار و عمل سے اس ذمہ داری کا حق ادا کیا۔
تعزیتی ریفرنس کے اختتام پر آغا سید محمد عباس رضوی مرحوم، شہدائے ملت جعفریہ اور شہدائے 6 ستمبر کے درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ خوانی اور دعا کی گئی۔ شرکائے ریفرنس کے لیے ظہرانے کا بھی اہتمام کیا گیا۔
آغا سید محمد عباس رضوی مرحوم کی نصف صدی پر محیط دینی، ملی، سماجی اور سیاسی خدمات، ان کی صداقت، سادگی، اخلاص اور استقامت انہیں ہمیشہ ملت کے لیے ایک روشن اور قابلِ احترام حوالہ بنائے رکھیں گی۔












