تازه خبریں

حضرت ابو طالبؑ کے یوم وفات پر قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا پیغام

حضرت ابو طالبؑ کی رسول اکرم ﷺ کی سرپرستی بے مثال ہے، قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد علی نقوی

حضرت ابو طالبؑ نے اعلانِ رسالت سے شعبِ ابی طالبؑ تک خاتم المرسلین ﷺ کی سرپرستی کا عظیم فریضہ انجام دیا، قائد ملت جعفریہ پاکستان

راولپنڈی/اسلام آباد، 8 ستمبر 2026ء: قائدِ ملتِ جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ پیغمبرِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے عزیز چچا اور امیرالمومنین حضرت علیؑ کے والدِ گرامی حضرت ابو طالبؑ نے دینِ حق کی ترویج و اشاعت کی خاطر جس بے مثال جذبے کے ساتھ حضورِ اکرم ﷺ کے دفاع و تحفظ کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کیے رکھی، وہ تاریخِ انسانیت میں اپنی مثال آپ ہے۔

قائدِ ملتِ جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ بنو ہاشم کے ایک ذمہ دار ترین فرد کی حیثیت سے حضرت ابو طالبؑ نے خانۂ کعبہ کے کلید بردار کی حیثیت سے فرائض کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ اعلانِ رسالت سے لے کر شعبِ ابی طالبؑ کے کٹھن ترین مراحل تک خاتم المرسلین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سرپرستی، حمایت اور نگہبانی کا عظیم فریضہ سرانجام دیا، جو تاریخ کے سنہری اوراق میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔

قائدِ ملتِ جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ اُمّ المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰؑ اور جنابِ ابو طالبؑ کی رحلت کے سال کو نبیِ رحمت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے عامُ الحزن قرار دیا۔ رسولِ اکرم ﷺ نے ان دونوں عظیم ہستیوں کو اپنا محسن و مربی قرار دیتے ہوئے ان کی وفات پر گہرے غم و اندوہ کا اظہار فرمایا۔

قائدِ ملتِ جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے یہ بات 26 ربیع الاول کو حضرت ابو طالبؑ کے یومِ وفات کے موقع پر اپنے پیغام میں کہی۔

انہوں نے مزید کہا کہ بعثتِ رسولِ اعظم ﷺ سے قبل انسانیت جس ابتری، انحطاط اور اخلاقی زوال کا شکار تھی، انسانی معاشرہ جس شدید خلفشار میں مبتلا تھا اور قدم قدم پر جس طرح مفاسد نے ڈیرے ڈال رکھے تھے، اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ نفرتوں اور جنگوں نے انسانی جانوں کو بے وقعت کر رکھا تھا، خواتین کی تکریم اور بیٹیوں کے حقوق بے دردی سے پامال کیے جا رہے تھے، جبکہ ہر شخص نے اپنی پسند اور خواہش کے مطابق معبود تراش رکھے تھے۔ اخلاقیات، صبر اور برداشت کا نام و نشان تک باقی نہ رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ خالقِ حقیقی کے ساتھ مخلوق کا حقیقی رشتہ استوار ہونا تو دور کی بات، انسانیت اپنے خالق کا سچا تعارف تک فراموش کر چکی تھی۔

قائدِ ملتِ جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ ایسے پرآشوب دور اور تاریک ماحول میں حضورِ اکرم ﷺ کی بعثت عالمِ انسانیت کے لیے ایک عظیم خوشخبری اور دائمی نجات کی نوید ثابت ہوئی۔ دعوتِ حق کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور مشکلات کو دور کرنے کے لیے خاتم النبیین ﷺ کے عمِ محترم حضرت ابو طالبؑ آگے بڑھے اور نبوت و رسالت کا بھرپور ساتھ دیتے ہوئے ہر رکاوٹ کے سدِباب کے لیے انتھک جدوجہد کی۔

قائدِ ملتِ جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے زور دے کر کہا کہ پیغمبرِ اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے دوران حضرت ابو طالبؑ اور آپؑ کی رحلت کے بعد اولادِ ابو طالبؑ نے دینِ اسلام کی ترویج و اشاعت کی خاطر جان و مال کی بے مثال قربانیاں پیش کیں اور رہتی دنیا تک انسانیت کے نام پیغامِ ہدایت پہنچایا۔

انہوں نے کہا کہ اولادِ ابو طالبؑ نے عالمِ اسلام اور عالمِ انسانیت کی رہبری و رہنمائی کے ایسے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر ہر دور کی انسانیت اپنی نجات کا سامان فراہم کر سکتی ہے۔