تازه خبریں

غزہ اور لبنان میں صہیونی قبضوں پر قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا ردعمل

غزہ اور لبنان میں قبضوں پر عملی اقدام کیا جائے، قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی

سرزمینِ انبیاؑ لہولہان، سامراج و صہیونی ظالم ہاتھ روکنے کے لیے مناسب اقدام کیا جائے، قائد ملت جعفریہ پاکستان

اب بات مذمتی بیانات و قراردادوں سے آگے بڑھ چکی، فلسطین کے بعد لبنان کے علاقوں کو ضم کیا جا رہا ہے، اگر عالمِ انسانیت اور امتِ مسلمہ نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو نہ ختم ہونے والے ظلم و غلامی کا نظام قائم ہو جائے گا، علامہ ساجد نقوی

اسلام آباد، 8 اگست 2026ء: قائدِ ملتِ جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے غزہ کی تازہ ترین صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ کی بدترین نسل کشی کے باوجود ناجائز صہیونی انسانی درندہ صفت ریاست کی خونریزی کی پیاس نہیں بجھی۔ سامراج کی پشت پناہی سے آج بھی مظالم کی سیاہ رات طاری ہے، فلسطین کی تاریخی ریاست کے اہم حصوں کے بعد غزہ اور لبنان کی آبادیوں پر قبضے اور انضمام کا سلسلہ جاری ہے۔ محض مذمتی بیانات اور قراردادوں کی بجائے مناسب عملی اقدام اٹھایا جائے۔

قائدِ ملتِ جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے ان خیالات کا اظہار غزہ کی تازہ ترین صورتحال، غزہ کیمپ سے 100 شہداء کی باقیات برآمد ہونے، غزہ کے بعض حصوں اور لبنان کے بعض علاقوں پر قبضوں کی اطلاعات اور مسلم ممالک کے مذمتی بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کیا۔

قائدِ ملتِ جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ سامراج کی پشت پناہی سے مشرقِ وسطیٰ میں قائم کی گئی ناجائز صہیونی ظالم ریاست کی بدترین نسل کشی، دہشت گردی اور درندگی کے باوجود اس ظالم، جابر اور قابض ریاست کی خونی پیاس نہیں بجھی۔ اب انبیاؑء کی سرزمین کے بعض اہم حصوں پر قبضوں کے بعد غزہ اور لبنان کے علاقوں پر قبضہ کرنے اور انہیں ضم کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں، جو نہ صرف انتہائی تشویشناک امر ہے بلکہ عالمِ انسانیت، بالخصوص امتِ مسلمہ کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذمتی بیانات اور قراردادوں سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلکہ ان مظالم کے اصل پشت پناہ سامراج کو اس ظالم ریاست کی سرپرستی سے باز رکھنے اور ظلم کا ہاتھ روکنے کے لیے فوری طور پر مناسب عملی اقدام کرنا ہوگا۔

قائدِ ملتِ جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے خبردار کیا کہ اگر مصلحت پسندی سے کام لیا جاتا رہا تو واضح رہے کہ خطہ نہ صرف ایک بڑی تباہی کے دہانے پر پہنچ سکتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے آزادی کی راہیں بھی مسدود ہو سکتی ہیں اور ظلم و جبر کے ساتھ نہ ختم ہونے والی غلامی کا نظام قائم ہو جائے گا۔

انہوں نے عالمِ انسانیت اور امتِ مسلمہ پر زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری ظلم و جارحیت کے خاتمے، فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے مؤثر اور عملی اقدامات کیے جائیں۔