کوئٹہ میں دہشت گردوں نے پولیس ٹریننگ سینٹر پر دو خود کش حملے کرکے 51 سے زائد زیر تربیت اہلکار شہید کر دیئے اور 116 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق ایک خودکش حملہ آور کو خودکش جیکٹ پھٹنےسے پہلے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ 4 گھنٹے بعد ٹریننگ سینٹر کو کلیئر قرار دے دیا گیا۔
کوئٹہ کے پولیس ٹریننگ سینٹر کے ہوسٹل میں دہشت گردوں کےخلاف کارروائی مکمل ہوگئی ہے اور ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق3دہشت گرد ہلاک کر دیئے گئے ہیں جبکہ 51 اہلکار شہید ہوگئے ہیں۔ 250سے زائد مغوی اہلکاروں کو بھی بازیاب کروا لیا گیا ہے۔ 116 اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔
کوئٹہ میں دہشت گردوں کا سریاب کے پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملہ کیا اور ٹریننگ سینٹر کے اندر ہوسٹل میں موجود زیر تربیت پولیس اہل کاروں کو یرغمال بنائے جانے کی اطلاعات تھی جنہیں کامیاب کارروائی کرکے بازیاب کروالیا گیا ہے ۔
اس کارروائی میں 3 دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ ہاسٹل میں تین دستی بم کے دھماکوں سمیت 5 دھماکے سنے گئے تھے ۔
ذرائع کےمطابق اب تک 116 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے جن میں سے 8 کی حالت نازک ہے ۔ بازیاب کروائے گئے250 اہلکاروں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
فوج، ایف سی اور پولیس کی بھاری نفری نے ٹریننگ سینٹر کو گھیرے میں لے کر دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے بھرپور اور بروقت کارروائی کی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کوئٹہ میں دہشت گردوں کے حملے کی انٹیلی جینس اطلاع موجود تھی، تین چار دن پہلے ہائی الرٹ بھی کیا گیا تھا۔
ثنا اللہ زہری نے بتایا کہ دہشت گردوں کو شہر میں موقع نہیں ملا تو انھوں نے مضافات میں کارروائی کی۔ انھوں نے مزید بتایا کہ صورت حال کی میں خود نگرانی کررہا ہوں ، دہشت گردوں کو کیفرکردار تک پہنچائیں گے۔