لاہور ( ) اسلامی تحریک پنجاب کے صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری اور سیاسی سیل کے چیرمین میاں فرزند علی چھچھر نے کہا ہے کہ بلدیاتی اداروں کے انتخابات کے باوجود انہیں بے اختیار رکھنا جمہوریت کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے۔ اگرا ختیارات کا منبع و مرکز بیوروکریسی نے ہی رہنا ہے تو فضول الیکشن پر قومی دولت خرچ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ بابائے تحریک سید وزارت حسین نقوی ایڈووکیٹ مرحوم کے یکم جنوری کو منعقد ہونے والے چہلم کی انتظامی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے علامہ سبطین سبزواری نے کہا کہ کمشنری نظام واپس لانے اورڈی سی اوز کا نام ڈپٹی کمشنر رکھنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اصل مسئلہ بلدیاتی اداروں کو اختیارات دینے کا ہے جیسے مقامی حکومتوں کے ہونے چاہیں۔ پنجاب حکومت نے ملازمین کی بھرتیوں پر پابندی عائد اور ترقیاتی کام بیوروکریسی کے حوالے کرکے واضح کردیا ہے کہ جمہوری حکومتوں نے کبھی بلدیاتی اداروں کو برداشت نہیں کیا۔ اور نہ ہی کریں گی،کیونکہ پہلے 8سال تک مقامی حکومتوں کے انتخابات نہیں کروائے گئے اور مختلف حیلے بہانوں سے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کو معطل رکھا گیا۔ پھر نئی قانون سازی میں وقت ضرورت سے زائد لگایا گیا۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی مداخلت کے بعد بلدیاتی انتخابات کروائے گئے اور اب ایک سال کے عرصے کے بعد مئیر ، ڈپٹی مئیر اور چیرمینوں کے انتخابات ہوئے ہیں تو ساتھ ہی ان کے اختیارات کم کرکے انہیں عملی طور پر ضلعی انتظامیہ کی غلامی میں دے دیا گیا ہے۔ جس سے کچھ وہ عوام کی خدمت نہیں کرسکیں گے ماضی کی طرح انہیں آئندہ عام انتخابات میں حکمران جماعت کے مفادات کے تحفظ کے لئے استعمال کیا جائے گا۔