تازه خبریں

عالمی رابطہ اسلامی کا اعتدال و اتحاد کے عنوان پر کانفرنس منعقد کرنا خو ش آئند ہے ،ترجمان قائد ملت جعفریہ پاکستان

عالمی رابطہ اسلامی کا اعتدال و اتحاد کے عنوان پر کانفرنس منعقد کرنا خو ش آئند ہے ،ترجمان قائد ملت جعفریہ
مسلّمہ مکاتب فکر کو دعوت نہ دینا اور نظر انداز کرنا اعتدال واتحاد کا راستہ نہیں،زاہد علی اخونزادہ
حرمین شریفین کا تحفظ کسی ایک مسلک یا ملک کی نہیں تمام عالم اسلام کی ذمہ داری ہے

اسلام آباد/راولپنڈی 23جنوری 2017ء (دفتر قائد ) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کے ترجمان زاہد علی اخونزادہ نے پاکستان میں عالمی رابطہ اسلامی کی سرگرمیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی رابطہ اسلامی کا اعتدال و اتحاد کے عنوان پر کانفرنس منعقد کرنا خو ش آئند لیکن مسلّمہ مکاتب فکر کو دعوت نہ دینا اور نظر انداز کرنا اعتدال واتحاد کا راستہ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ 57 اسلامی ممالک میں یہ امتیاز پاکستان کو ہی حاصل ہے کہ پاکستان میں تمام مسالک و مکاتب فکرمیں مفاہمت اور اتحاد تنظیم کی شکل میں موجود ہے کبھی یہ متحدہ مجلس عمل کی شکل میں اور کبھی یہ ملّی یکجہتی کونسل کی شکل میں اب تک قائم ہے، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقو ی اس اتحاد کے بانیوں میں سے ہیں ۔انہوں نے متحدہ مجلس عمل اور ملی یکجہتی کونسل کی بنیاد میں شریک ہو کر اتحاد اُمت کا عظیم فلسفہ بھی دنیا میں متعارف کرایا ہے جس کو آج دنیائے اسلام میں بھی اتحاد اُمت کا بہترین نمونہ قرار دے کر اس کو عملی جامہ پہنانے کی کاوشیں رو بہ عمل ہیں۔ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ حرمین شریفین کا تحفظ کسی ایک مسلک یا ملک کی نہیں بلکہ تمام عالم اسلام کی ذمہ داری ہے تمام اُمت مسلّمہ اُمت واحدہ ہے او راُمت مسلّمہ کے تمام مسائل کو حل اتحاد وحدت میں ہی مضمر ہے ۔