قم المقدسہ: دفتر قائد ملت جعفریہ قم کے زیر اہتمام “احیاء گر بیداری اسلامی و علمدار مقاومت” کے عنوان سے ایک فکری و تربیتی سیمینار منعقد ہوا، جس میں نمائندہ ولی فقیہ پاکستان و قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی، مرکزی سیکرٹری جنرل شیعہ علماء کونسل پاکستان علامہ شبیر حسن میثمی اور ممتاز عالم دین علامہ سید کاظم رضا نقوی نے خطاب کیا۔ مقررین نے رہبر شہید (رہ) کے مشن، انقلاب اسلامی، اتحاد امت، مقاومت اور تنظیمی استحکام کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
علامہ سید کاظم رضا نقوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں علامہ سید ساجد علی نقوی کا کردار وہی رہا ہے جو انقلاب اسلامی ایران میں رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہای کا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دینی قیادت نے ہمیشہ ملت کی رہنمائی، وحدت اور بیداری کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔
مرکزی سیکرٹری جنرل شیعہ علماء کونسل پاکستان علامہ شبیر حسن میثمی نے کہا کہ انقلاب اسلامی کی برکت سے اسلام کا پرچم سربلند ہوا اور دنیا نے ایسی قیادت دیکھی جو دوسروں کو قربان کرنے کے بجائے خود شہادت کے لیے میدان میں اترتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رہبر شہید (رہ) کی شہادت کے بعد پاکستان کے مختلف مکاتب فکر اور طبقات نے ان کی عظمت کا اعتراف کیا، جبکہ دنیا بھر کے مستضعفین کی امیدیں آج بھی انقلاب اسلامی اور جمہوریہ اسلامی ایران سے وابستہ ہیں۔
علامہ شبیر حسن میثمی نے مزید کہا کہ حسینی پرچم اٹھانے والے نہ خوفزدہ ہوتے ہیں اور نہ ہی باطل کے سامنے سر جھکاتے ہیں، بلکہ حق و انصاف کے لیے ہر میدان میں ثابت قدم رہتے ہیں۔
اپنے خصوصی خطاب میں قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ رہبر شہید (رہ) کے پاک خون نے انقلاب اسلامی کی عظمت اور اس کے پیغام کو مزید تابناک بنا دیا ہے۔ مختلف ادیان و مذاہب کے نمائندوں کی جانب سے اظہارِ تعزیت اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ رہبر شہید (رہ) کی مظلومانہ شہادت پر ہر انصاف پسند انسان رنجیدہ تھا اور ان کی عظمت کا معترف تھا۔
انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپنی علمی اور فکری صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ان کی ذمہ داری ہے، کیونکہ مستقبل میں ملت تشیع کی قیادت انہی میں سے افراد نے سنبھالنی ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنے امور میں نظم و ضبط پیدا کریں، کیونکہ کامیابی منظم جدوجہد سے وابستہ ہوتی ہے۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے پاکستان میں ملت تشیع کے خلاف ہونے والی سازشوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ متنازعہ بل کو تمام تر سیاسی حمایت کے باوجود ہماری مؤثر جدوجہد کے نتیجے میں قانونی حیثیت حاصل نہ ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ رہبر شہید (رہ) کی وحدت امت، اتحاد اور دیگر مکاتب کے مقدسات کے احترام پر مبنی فکر نے پاکستان میں انتہائی مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے زائرین کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زائرین کے حوالے سے مسلسل کوششیں جاری ہیں اور متعلقہ اداروں کو بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان بہت عزیز ہے، ہم بلوچستان کے مسئلے کو کسی کے لیے بہانہ نہیں بننے دینا چاہتے، تاہم اگر زیارت کے حوالے سے عوامی تحریک کی کال دینا پڑی تو اس کے نتائج سے سب آگاہ ہیں، اس لیے ذمہ داران اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کریں۔





















