تازه خبریں

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران میں سوگ اور احتجاج

  آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت اور خطے میں کشیدگی

پھروہی ہوا جس کا خدشہ تھا،رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کو ان کے خاندان اور اہم سرکاری شخصیات سمیت امریکہ اور اسرائیل نے منظم اور مشترکہ کارروائی میں شہید کر دیا،پاکستان سمیت دنیا بھر میں مظلوموں کے ساتھی سراپا احتجاج ہیں۔ اندوہناک واقعہ کی مذمت اور اسلامی جمہوری ایران کے عوام،علماء، حکومت اور مستضفین جہاں کی خدمت میں تعزیت جاری ہے۔شہادت کے وہ متمنی تھے اور اپنی منزل پاگئے۔ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے بڑے فخر سے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے اڑتالیس سے زائددفاع سے منسلک ایرانی  شخصیات کو شہید کردیا ہے۔ جبکہ شہدا ء فلسطین سید حسن نصراللہ، اسماعیل ہنیہ، یحییٰ سنوار سمیت مزاحمتی تحریک کے متعددرہنما بھی شہادت کی منزل پاچکے ہیں۔رہبر معظم کی شہادت کے بعد،ایران جارحیت کے مرتکب دونوں ممالک کے ساتھ حالت جنگ میں ہے، اسرائیل پر حملے جاری ہیں جبکہ مشرق وسطیٰ میں عرب ممالک میں قائم امریکی اڈوں کو بھی ایران نے نشانہ بنایا ہے، جس کا پہلے ہی اعلان کردیا گیا تھا۔

بانی انقلاب اسلامی امام خمینی کے تربیت یافتہ 86 سالہ آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی پوری زندگی سامراج اور سامراجی آلہ کاروں کی مخالفت میں سیسہ پلائی دیوار بن کر گزاری۔وہ مظلوم فلسطینیوں کا سہارا بنے رہے۔ان کی اخلاقی، روحانی، سیاسی، سماجی اور مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہے۔ بڑے دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ دنیا کی بڑی سامراجی طاقت امریکہ نے اسرائیل کی پشت پناہی کرکے فلسطین پر قبضہ کروایا۔جب فلسطینیوں نے طوفا ن الاقصیٰ آپریشن کے ذریعے اپنی سرزمین سے اکتوبر 2023ء میں قبضہ چھڑانے کی کوشش کی، تو ظالم اسرائیل نے فلسطینیوں پر قیامت برپا کر دی۔ سامراجی قوتوں کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ اسلامی جمہوری ایران رہا۔ رہبراعلیٰ فلسطینی مزاحمت کی جدوجہد کی نہ صرف سرپرستی کرتے رہے،بلکہ ان کی ہمت کو داد بھی دیتے رہے۔ ظاہر ہے کہ اسرائیل کے وجود کو برقرار رکھنے کے لئے سامراجی قوتوں نے ایران کی حکومت اور نظریاتی فکر کو ختم کرنے،عالم اسلام کی طاقتور شخصیت اور ان کے ساتھیوں کو راستے سے ہٹانے کے لیے بہت بڑی مکروہانہ چال چلی، انہیں تہران میں اپنی رہائش گاہ اور دفتر میں دفاعی اداروں کے سربراہوں کے ساتھ شہید کر دیا جب وہ احکامات جاری کر رہے تھے اور پالیسی معاملات کو بھی حتمی شکل دے رہے تھے، انہیں اپنی شہادت کا یقین تھا، اسی لئے شخصیات کو متعین بھی کر دیا تھا۔وہ حکومتی عہدے داروں اور پاسداران انقلاب کے ساتھیوں کو آگاہ بھی کر رہے تھے،اسی دوران اسرائیل اور امریکہ نے سازش کے ذریعے آپ کی رہائش گاہ کے کمپاؤنڈ پر جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے طیاروں کے ساتھ حملہ کیا، جس کا منظر میڈیا میں بھی دکھایا جا چکا ہے۔

ایران پر حملے مسلسل جاری ہیں، جس کی وجہ سے دنیا بھر میں تیل کی قلت پیدا ہوناشروع ہوگئی ہے،قیمتوں میں اضافہ بھی ہوگیا ہے۔ امریکہ کے ناقابل تسخیر کہے جانے والے بحری بیڑوں تک ایرانی میزائلوں نے رسائی حاصل کی اور حملے جاری ہیں۔سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، اردن،سمیت مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈو ں کو ایرانی میزائل نشانہ بنارہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکی حکومت کچھ ممالک کو درمیان میں لا کر جنگ سے باہر نکلنا چاہتی ہے لیکن ایران اس کے لئے ابھی تیار نہیں ہوگا،چونکہ سب سے بڑا نقصان رہبر معظم کی ساتھیوں سمیت شہادت ہے جسے ایرانی کسی صورت نظر انداز نہیں کر سکتے اور میرے نقطہ نظر سے آیت اللہ خامنہ ای نے کہا تھا  کہ جنگ تم شروع کرو گے اور بند ہم کریں گے جو کہ اس وقت تک لگاتار جاری ہے اب تو حزب اللہ لبنان اوراسرائیل کے درمیان بھی جنگ شروع ہو چکی ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ اتنے بڑے حادثے کے بعد خطے کے مختلف ممالک کے نقشے بھی تبدیل ہو سکتے ہیں۔ رہبر اعلیٰ کی شہادت کے بعد اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ایران میں تفریق پیدا ہو گئی ہے،عوام سڑکوں پر آچکے ہیں، تو وہ غلطی پر ہے۔ جوکچھ مخالفت اگر کہیں موجود تھی تو وہ بھی اب حمایت میں بدل چکی ہے۔ایران کے اندر انقلاب اسلامی کی مخالف قوتوں نے بھی واضح اعلان کیا ہے کہ وہ امریکی سازش کا حصہ نہیں بنیں گے۔ رہبر کی شہادت پر پوری ملت ایران سمیت دنیا بھر کے مسلمان غم کی کیفیت میں ہیں اور اسرائیل کو بھرپور جواب دے کر صفحہ ہستی سے مٹانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ ایران میں سوگ کے ایام جاری ہیں وہیں قیادت کے انتخاب کا مرحلہ شروع کردیا گیا ہے۔ تین رکنی عبوری کونسل تشکیل پا چکی ہے، جس میں صدرمملکت مسعودپز شکیان، چیف جسٹس غلام حسین محسنی اور آیت اللہ علی رضا اعرافی شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہم نے یہ دیکھا کہ دنیا بھر خاص طور پر پاکستان میں جو غم اور غصے کا اظہار کیا گیا،متوقع تھا۔امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ اب تک 35 سے زائد افراد کراچی گلگت سکردو اسلام آباد میں شہید ہو چکے ہیں۔

ولایت فقیہہ سے وابستہ شخصیات و تحریکیں جیسے اسلامی تحریک وغیرہ، نے پاکستانی عوام کے جذبات کی ترجمانی کا فریضہ سرانجام دیا ہے کہ پاکستانی ایرانی قوم کے غم میں برابر کے شریک ہیں، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای صرف ایران ہی نہیں دنیا بھر کے مسلمانوں کے رہنما اور ولی امرالمسلمین تھے۔ میں جماعت اسلامی،اسلامی جمعیت طلبا اور دیگر جماعتوں کی طرف سے غائبانہ نماز جنازہ کے ذریعے غم کے اظہار اور ایران سے یکجہتی پر شکر گذار ہوں۔ صدر آصف علی زرداری،وزیراعظم شہباز شریف کے تعزیتی بیانات،پارلیمنٹ کی طرف سے مشترکہ قرارداد کی منظوری اور 6مارچ کو ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم سے یوم احتجاج کی کال بھی قابل تعریف ہے،انشاء اللہ، ہم اپنے ایرانی بھائیوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور انہیں تعزیت پیش کریں گے۔میری حکومت سے اپیل ہے کہ امریکی غلامی کے طوق کے تاثر کو اتار پھینکیں، کراچی گلگت بلتستان اوراسلام آباد میں پولیس کا رویہ افسوسناک رہا ہے۔ خصوصا ًوزیر داخلہ محسن نقوی سے اپیل ہے کہ وہ غم کے لمحوں میں تحمل اور بردباری سے کام لیں۔مغموم عوام کے زخموں پر مرہم رکھیں،میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی پولیس کو ہدایت کوسراہتا ہوں، جس میں انہوں نے کہا کہ پرامن مظاہرین کے ساتھ سختی سے نہ نمٹا جائے۔